’ایک نیا اخبار ہندوستانی زبان میں جاری ہوا ہے، لیکن اس کا رشتہ کس سے ہے اور اسے کس نے جاری کیا ہے۔ اس کے بارے میں ہمیں کوئی کچھ بتا نہیں سکا۔ اس کا کوئی پراسپیکٹس ہے نہ اس پر چھانپنے والے کا نام درج ہے۔ یہ اخبار کوارٹر سائز کے تین اوراق پر مشتمل ہے اور اس کا نام ’جام جہاں نما‘ ہے۔ اس کا پہلا شمارہ بدھ کے دن 27 مارچ کو شائع ہوا۔‘یہ خبر 1822 میں کلکتہ جرنل میں شائع ہوئی اور اس میں ’ہندوستانی زبان‘ سے مراد اردو تھی۔’جام جہاں نما‘ برطانوی ہندوستان میں بنگالی کے بعد کسی دوسری مقامی زبان میں شائع ہونے والا پہلا اخبار تھا جو خط نستعلیق میں لکھا جاتا تھا۔

اس کے بانی ہری ہردت اور مدیر منشی سدا سکھ لال تھے اور دونوں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ملازم تھے۔ یہ اخبار کلکتہ کی برطانوی تجارتی کوٹھی ولیم ہاپکنز پیئرس اینڈ کمپنی کی ملکیت تھا۔تاریخ کی کتابوں میں درج ہے کہ 27 مارچ 1822 کو جب غیر منقسم ہندوستان کے دارالحکومت کلکتہ سے ’جام جہاں نما‘ کی اشاعت شروع ہوئی تو پہلے شمارے میں ایک نوٹس شائع ہوا، جس میں لکھا تھا کہ یہ ایک ہفتہ وار اخبار ہے اور اسے ماہانہ دو روپے کے عوض خریدا جا سکتا ہے۔

اگرچہ اردو کے اس اولین اخبار کے ابتدائی شمارے کہیں بھی دستیاب نہیں ہیں، تاہم بعد کے کچھ نمونے نیشنل آرکائیوز آف انڈیا نئی دہلی، نیشنل لائبریری آف کلکتہ اور برٹش لائبری لندن کے اورینٹل اینڈ انڈیا آفس کلیکشنز میں موجود ہیں۔ڈاکٹر سمیع احمد اپنی کتاب ’اردو صحافت اور تحریک آزادی‘ میں رقم طراز ہیں: ’یہ ایک ہفتہ وار اخبار تھا جو بدھ کو شائع ہوتا تھا اور (کلکتہ میں) 11 نمبر سرکلر روڈ سے نکلتا تھا۔ بعد میں اس کا دفتر کولو ٹولہ سٹریٹ میں منتقل ہو گیا تھا۔ اس کے سرورق کے (ہیڈر میں) دونوں طرف ایسٹ انڈیا کمپنی کی تصویر ہوتی تھی۔‘

گربچن چندن اپنی کتاب ’جام جہاں نما: اردو صحافت کی ابتدا‘ میں لکھتے ہیں کہ ہری ہردت نے اس وقت اردو زبان کی طرف رجوع کیا، جب یہ ابھی صحافت کے میدان میں اتری نہیں تھی اور صرف بول چال میں مقبول تھی۔’یہ ہری ہردت ہی کی نظر تھی جو سب سے پہلے مطبوعہ صحافت کی نئی صنف کے لیے اردو زبان کو بروئے کار لائی لیکن یہ تجربہ فوراً کامیاب نہ ہوا۔ لوگوں کی اکثریت ناخواندہ اور غریب تھی۔ چناں چہ انہوں نے تقریباً دو ہی ماہ بعد اردو چھوڑ کر فارسی اپنائی، جو اس وقت اشرافیہ کی زبان تھی۔’لیکن اردو سے ہری ہردت کی لگن کم نہیں ہوئی۔ ایک سال بعد انہوں نے فارسی اخبار کے ساتھ اردو کا ایک آزاد ضمیمہ بھی شامل کر دیا جو پانچ سال تک شائع ہوتا رہا۔‘

’چار اوراق کا یہ ضمیمہ 23 مئی 1823 سے 23 جنوری 1828 تک یعنی چار سال آٹھ ماہ تک باقاعدگی سے چھپتا رہا۔ اس عرصے میں اس کے مجموعی طور پر 241 شمارے چھپے جن میں سے پہلے 141 عمومی اور بعد کے 100 تاریخی سلسلوں کے حامل تھے۔‘’ابتدائی 80 شمارے نیشنل آرکائیوز آف انڈیا نئی دہلی کے ریکارڈ میں دستیاب نہیں۔ باقی 161 شماروں میں تقریباً 500 خبریں چھپیں جو اس زمانے کی دشواریوں اور قلتوں کے باوجود تنوع اور موضوعات کے عمدہ نمونے پیش کرتی ہیں۔‘

’نئی ایجادات کے بارے میں سائنسی خبریں بھی ہوتی تھیں۔ خبروں کی زبان سادی اور پیشکش معلوماتی ہوتی تھی۔ گاہے گاہے انسانی دلچسپی کی لطیف اور فرحت افزا خبریں بھی ہوتی تھیں جو اکثر انشائیہ نگاری کی عمدہ مثالیں ہوتی تھیں۔‘

’یکم مارچ 1826 (شمارہ نمبر 142) سے اس نے تاریخی سلسلوں کی اشاعت شروع کی۔ ان میں ہر شمارے میں اکثر ایک اور کبھی کبھار دو خبریں ہوتی تھیں لیکن اس کی ایک ایک خبر میں تاریخ کے پورے مرحلے کی جزئیات بیان کی جاتی تھیں۔‘

کلکتہ کی عالیہ یونیورسٹی کے شعبہ تاریخ کی اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر تہینہ اسلام اپنے مقالہ ’اے کیس سٹڈی آف اردو نیوز پیپر جام جہاں نما‘ میں لکھتی ہیں کہ اس اخبار میں اداریہ نہیں ہوتا تھا۔’یہ کسی بھی تنازعے کا حصہ نہیں بنتا تھا لیکن اس نے سماجی اصلاح کے کاموں بالخصوص ستی (ہندوؤں میں رائج خاوند کے ساتھ جل مرنے کی رسم) کے خاتمے کی حمایت کی تھی۔‘’اس اخبار میں سائنسی اور ترقیاتی خبریں ایک دلچسپ انداز میں شائع کی جاتی تھیں۔ سماجی، مذہبی اور ثقافتی خبروں کی اشاعت کو بھی اہمیت دی جاتی تھی۔ قارئین کی بہتر سمجھ بوجھ کے لیے تصویریں بھی شامل کی جاتی تھیں۔‘

’(اس میں چھپنے والی خبروں کو دیکھ کر) ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ’جام جہاں نما‘ زیادہ تر سرکاری خبریں ہی شائع کرتا تھا۔ اس کا لہجہ معتدل تھا۔ اس اخبار کو برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی کے عہدیداروں کی مسلسل حمایت اور سرپرستی حاصل رہی۔‘گربچن چندن اپنی کتاب ’اردو صحافت کا سفر‘ میں لکھتے ہیں: ’صحافت کے محبوس اور دھندلے سویرے میں جب نامہ و پیام کی سہولتیں بھی قلیل اور کم یاب تھیں ’جام جہاں نما‘ زیادہ تر دستیاب انگریزی اخباروں کے مضامین اور خبروں کے ترجمے اور فارسی وقائع نگاروں کے اپنے دفتر میں موصول ہونے والے مراسلات کی اشاعت پر انحصار کرتا تھا۔’ان وقائع نگاروں میں ملک کے مختلف حصوں اور دیسی ریاستوں کے درباروں میں فعال اس کے اپنے نامہ نگار شامل تھے۔‘

ڈاکٹر سمیع احمد لکھتے ہیں: ’اردو کے ضمیمے میں ہر صفحہ دو کالم کا ہوتا تھا۔ فارسی رسالے کا ماہانہ چندہ دو روپے اور اردو کا ایک روپیہ تھا۔ اس اخبار کے ایجنٹ خاص تارا چند کولو ٹولہ سٹریٹ والے تھے۔‘نادر علی خاں اپنی کتاب ’اردو صحافت کی تاریخ‘ میں لکھتے ہیں کہ ابتدا میں ’جام جہاں نما‘ میں مالک و مدیر اور طابع کے نام درج نہیں ہوتے تھے حتیٰ کہ شمارہ نمبر کا بھی اہتمام نہیں تھا۔’آٹھویں شمارے (مورخہ 15 مئی 1822 بروز بدھ) سے فارسی کا ایک کالم شروع کیا گیا جو اس درجہ مقبول ہوا کہ دو شماروں کے بعد اخبار اردو کے بجائے فارسی ہی میں شائع ہونے لگا اور اسی اشاعت کے ساتھ شمارہ نمبر کا بھی اضافہ ہو گیا۔ اس طرح گویا 29 مئی 1822 سے فارسی کے دور کا آغاز ہوا۔‘

ڈاکٹر سمیع احمد لکھتے ہیں کہ ’جام جہاں نما‘ کی اردو زبان میں ابتدا کا ایک بڑا ثبوت ’مراۃ الاخبار‘ میں شائع ہونے والا ایک اشتہار ہے۔’راجہ رام موہن رائے نے 20 اپریل 1822 کو فارسی ہفتہ وار ’مراۃ الاخبار‘ نکالا تو اس کا اشتہار ’کلکتہ جنرل‘ میں اس طرح شائع ہوا: ’ایڈیٹر لوگوں کو مطلع کرتا ہوں کہ اس ملک میں بہت سے اخبار چھپتے ہیں لیکن فارسی کا کوئی اخبار ابھی تک نہیں نکلا، جس سے ان لوگوں کو عموماً جو انگریزی سے ناواقف ہیں اور شمالی ہند کے رہنے والوں کو خصوصاً خبریں معلوم ہو سکیں۔‘

وہ لکھتے ہیں کہ اگر ’جام جہاں نما‘ کی زبان فارسی ہوتی تو اشتہار میں ہرگز یہ نہیں لکھا جاتا کہ ابھی تک فارسی زبان میں کوئی اخبار شائع نہیں ہوا ہے۔گربچن چندن لکھتے ہیں کہ آج کی کسوٹی پر پرکھنے سے ’جام جہاں نما‘ شاید خالص سونا ثابت نہ ہو سکے لیکن مطبوعہ اردو صحافت کی سیڑھی کا یہ وہ پہلا قابل لحاظ زینہ ضرور تھا، جس کی مثال سے اس کے فوری اور لائق جانشین ’دہلی اردو اخبار‘ نے اپنی تشکیل و ترتیب استوار کی۔

’یہ کوئی انقلابی اخبار نہیں تھا لیکن اپنے دور کے سنگلاخ ماحول میں ایک ایسی زبان کی نثر کا پہلا نمائندہ تھا جو صدیوں سے بول چال کی سرحد ہی پر کھڑی پر تول رہی تھی۔ اس زبان کے بولنے والوں میں اخبار بینی یا مطالعے کا کوئی نمایاں رجحان نہیں تھا۔‘

ڈاکٹر سمیع احمد کے مطابق ’جام جہاں نما‘ کے بعد ہی ہندوستان میں اردو اخبارات کے نکلنے کے لیے زمین ہموار اور فضا سازگار ہوئی تھی۔

کیا ’جام جہاں نما‘ انگریزوں کا ترجمان تھا؟

گربچن چندن لکھتے ہیں کہ ’جام جہاں نما‘ کے بارے میں عام طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ یہ اخبار برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی نے نکلوایا تھا اور یہ اس کمپنی کی سامراجی مقاصد کا حامی تھا۔’اس تصور کی بظاہر تین وجوہ بتائی جاتی ہیں۔ اول یہ کہ اخبار کے ابتدائی شماروں کے سرورق پر ایسٹ انڈیا کمپنی کا سرکاری نشان شائع ہوتا رہا۔ دوم یہ کہ اس کے بانی ہری ہردت فورٹ ولیم کے ایسٹ انڈیا کمپنی کے دفتر خزانہ میں ایک محرر تھے اور سوم یہ کہ اخبار کا پرنٹر ایک یورپی تجارتی ادارہ تھا جس کا نام ولیم ہاپکنز پیئرس اینڈ کمپنی تھا۔

’لیکن اخبار کے اصل شماروں اور نیشنل آرکائیوز آف انڈیا نئی دہلی میں دستیاب اس کے دیگر ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ اس اخبار کی حقیقت اس کے بارے میں رائج تصورات سے بہت الگ ہے اور اکثر مورخین کی تحریریں اس کے حقائق سے میل نہیں کھاتیں۔‘

گربچن چندن اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ اکثر مورخین نے ولیم ہاپکنز پیئرس کے چھاپے خانے سے ’جام جہاں نما‘ کے طباعتی تعلق سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ یہ فرم ایسٹ انڈیا کمپنی کی گماشتہ یا آلہ کار تھا لہٰذا ’جام جہاں نما‘ بھی ایک وظیفہ خوار یا مطیع اخبار تھا۔

’لیکن کسی فرنگی تجارتی ادارے کا نام سنتے ہی یہ تسلیم کرلینا مناسب نہ ہو گا کہ یہ ایسٹ انڈیا کمپنی کا آلہ کار تھا۔ ’جام جہاں نما‘ کو مطیع اخبار بنانے والے مورخین بڑی شدت سے ایسٹ انڈیا کمپنی کے اس سرکاری نشان کا حوالہ دیتے ہیں جو اس کے سرورق کی پیشانی پر شائع ہوتا رہا۔

’بے شک یہ نشان 27 اگست 1828 تک چھپتا رہا لیکن پھر تین ستمبر 1828 کے شمارے سے یہ یکایک غائب ہو گیا اور اس کی آئندہ تقریباً 60 سال کی زندگی بھر میں غائب ہی رہا۔‘

گربچن چندن کا خیال ہے کہ ’جام جہاں نما‘ کے سرورق پر کمپنی کے نشان کی اشاعت سرکاری خبریں اور دیگر صحافتی سہولتیں حاصل کرنے کی ایک تدبیر تھی۔ ’اس زمانے میں نوزائید صحافت کی کامیابی اور ترقی کے لیے حکومت کی خوشنودی کی ضرورت تھی اور غالباً یہ اس سرکاری نشان کی اشاعت سے بہ آسانی حاصل کی جا سکتی تھی۔ گویا سرکاری نشان کی اشاعت محض ایک تجارتی تدبیر تھی۔

’اس کے علاوہ یہ ایک ایسا دور تھا جب کمپنی کا اقتدار بام عروج پر تھا اور اس کے ناظم اپنی نئی حاصل کردہ سطوت قائم رکھنے کے لیے مستعد تھے۔‘ڈاکٹر سمیع احمد اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’جام جہاں نما‘ کا جو پہلا شمارہ نیشنل آرکائیوز آف انڈیا میں موجود ہے، اس کے سرورق پر ایسٹ انڈیا کمپنی کی مہر ثبت ہے۔’اس کے نیچے خط نستعلیق میں اخبار کا نام ’جام جہاں نما‘ مندرج ہے۔ اس کے نیچے اخبار کا نمبر اور تاریخ درج ہے۔ اس کے نیچے اخبار کی قیمت کا اشتہار انگریزی میں ہے جس کا اردو ترجمہ یہ ہے:’یوروپین اصحاب، خود اپنے پڑھنے کے لیے یا اپنے دفتر کے ہندوستانی ملازمین میں علم کی اشاعت کرنے کی فیاضانہ خواہش کے تحت اگر اس اخبار کو خریدنا چاہیں تو تارا چند دت محلہ کولو ٹولہ سے درخواست کرنے پر یہ اخبار بعوض تین روپے ماہوار بشمول اردو ضمیمہ ان کی خدمت میں بھیجا جا سکتا ہے۔‘

ڈاکٹر سمیع احمد لکھتے ہیں کہ اس اشتہار سے معلوم ہوتا ہے کہ اخبار کے سرورق پر ایسٹ انڈیا کمپنی کا نشان پابندی سے اس لیے چھاپا جاتا تھا کہ کمپنی کے سرکاری اشتہارات، خبریں اور صاحب بہادران کی تقرری و تبدیلی کی خبریں لوگوں تک بہ آسانی پہنچ جائیں۔

’یہ بات افسوس ناک ہے کہ جس اخبار نے 60 سال تک ہندوستان میں صحافت کی راہ کو سنوارا اس کے ساتھ انصاف نہیں کیا گیا بلکہ ستم بالائے ستم یہ ہوا کہ اس کو بے وقت کی راگنی اور کاسہ لیس اخبار سمجھ کر بے اعتنائی برتی گئی۔

’آغاز کار میں کچھ دنوں تک یہ اخبار ایسٹ انڈیا کمپنی کی ملکیت تھا۔ اس کی پالیسی بھی اس کے مطابق مقرر کی جاتی تھی لیکن بعد میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کے خلاف ایک مضمون لکھنے پر ایسٹ انڈیا کمپنی نے اس سے قطع تعلق کر لیا۔‘

’جام جہاں نما‘ اور انگریز

نادر علی خاں اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ’جام جہاں نما‘ کے ایڈیٹر منشی سدا سکھ لال نے 23 مئی 1823 سے اردو ضمیمے کی اشاعت انگریزوں کے لیے شروع کی تھی۔

’منشی سدا سکھ لال نے ایک سال بعد پھر اردو اخبار کی تجدید کی لیکن یہ رجعت ہندوستانی اہل ذوق کی طلب پر نہیں بلکہ یوروپین تجار اور اہل علم کی دفتری اور علمی ضرورت کے پیش نظر کی گئی تھی۔‘

ڈاکٹر سمیع احمد لکھتے ہیں کہ انگریزوں کے لیے اردو ضمیمے کی اشاعت کا اعلان ہر اخبار کے صفحہ اول پر انگریزی میں ہوتا تھا۔

’اس اعلان کا اردو ترجمہ یہ ہے: مدیر ’جام جہاں نما‘ نہایت ادب کے ساتھ یہ امر عوام کے گوش گزار کرتا ہے کہ اخبار کے حلقہ معاونین کے یوروپی طبقے کے لیے اخبار کو زیادہ دلچسپ، پرلطف اور مفید بنایا جائے گا۔

’غرض ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ اس اخبار کا ایک ضمیمہ خالص ہندوستانی یا اردو زبان میں شائع کیا کریں گے۔ اگر اسے فارسی اخبار کے ساتھ خریدا جائے تو اس کا چندہ چار آنہ فی پرچہ یا ایک روپیہ ماہانہ ہو گا۔ لیکن اگر صرف اردو ضمیمہ خریدا جائے تو چندہ دو روپے ماہانہ ہو گا۔‘

’جام جہاں نما‘ کے سفر کے اہم واقعات

گربچن چندن اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ہری ہردت نے ’جام جہاں نما‘ کی اشاعت کے ایک سال بعد اس وقت کے چیف سکریٹری ولیم بٹر ورتھ بیلی کو اپنے اخبار کی رجسٹریشن کی درخواست دی۔’اخبار کے اجرا کے تقریباً ایک سال بعد جب گورنر جنرل لارڈ ہیسٹنگز رخصت ہوئے تو ان کی جگہ کونسل کے سینیئر ممبر جان ایڈم قائم مقام گورنر جنرل مقرر ہوئے۔’انہوں نے چارج لیتے ہی چار اپریل 1823 کو ایسے احکام جاری کیے، جن کی رو سے اخباروں اور چھاپہ خانوں کے لیے حکومت سے باضابطہ لائسنس لینا اور اس کے لیے اپنے پرنٹر اور ایڈیٹر کے حلف نامے داخل کرنا لازمی قرار دیا گیا۔

’اس حکم کی پیروی میں جام جہاں نما کی طرف سے ہری ہردت نے 19 اپریل 1823 کو چیف سکریٹری کو ایک درخواست دی، جس میں انہوں نے لکھا: ’اخباروں کی آئندہ رہنمائی کے لیے حال ہی میں جو ریگولیشنز نافذ کیے گئے ہیں، ان کے حوالے سے میں مطلوبہ حلف نامہ اور یہ باضابطہ بیان پیش کرنے کا اعزاز حاصل کرتا ہوں۔‘’نہایت ادب سے عرض کرتا ہوں کہ آپ مجھے مطلوبہ لائسنس کے اجرا کی منظوری عطا فرمائیں تاکہ میں فارسی اور ہندوستانی کا اخبار جس کا نام ’جام جہاں نما‘ ہے (جس کا میں واحد مالک ہوں) جاری رکھ سکوں۔‘گربچن چندن لکھتے ہیں کہ اس درخواست کے ساتھ ہری ہردت نے اپنے اخبار کے پرنٹر ولیم ہاپکنز پیئرس کا حلف نامہ بھی داخل کیا جس میں اس تجارتی کوٹھی نے ’جام جہاں نما‘ کا پرنٹر ہونے کا اعتراف کیا تھا۔’ان دستاویزوں کی بنا پر چیف سکریٹری کے دستخط سے 19 اپریل 1823 ہی کو ہری ہردت کو حسب درخواست فارسی اور ہندوستانی زبانوں میں ’جام جہاں نما‘ کے نام سے ایک پیریاڈیکل (جریدہ) شائع کرنے کا سرکاری لائسنس عطا کیا گیا۔‘گربچن چندن ’جام جہاں نما‘ میں اردو ضمیمہ کے خاتمے کے متعلق اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ اس کی اردو تحریروں نے اس نو خیز زبان (اردو) کی بیش بہا صلاحیت کو اجاگر کیا لیکن خریداروں کی قلت نے اخبار کے اردو حصے کی عمر مختصر کر دی۔

’چناں چہ 23 جنوری 1828 کو جب اس کی اشاعت بند کی گئی تو ایڈیٹر کو لکھنا پڑا کہ بہیترے قدرشناس جن کی لطف گستری سے اس کاغذ (یعنی اخبار) نے رونق اور شہرت پائی اردو عبارت سے ذوق نہیں رکھتے۔’اس اعلان کے دو ہی ہفتے بعد چھ فروری 1828 کے فارسی جام جہاں نما میں ہمیں ایڈیٹر کی طرف سے یہ اطلاع ملتی ہے کہ وہ کئی دنوں سے جسمانی امراض اور دماغی بوجھ میں مبتلا ہیں۔ ہاتھ کام کرنے سے معذور ہیں اور دل کسی طرح بس میں نہیں۔’گو وہ کافی عرصے سے اخبار نگاری کا اپنا کام بساط بھر کرتا رہا ہے، لیکن اب ضروری ہے کہ وہ اپنے کرم فرما قارئین سے درخواست کرے کہ جب تک وہ شفایاب نہ ہو جائے، وہ اس کی معذوریوں کو درگزر کریں۔’معلوم ہوتا ہے کہ اس کے بعد سدا سکھ لال نے کلکتہ چھوڑ دینے کا فیصلہ کیا اور آگرہ چلے گئے جو ان کا وطن پیدائش تھا۔‘

ہری ہردت اور منشی سدا سکھ لال کون تھے؟

ڈاکٹر تہمینہ اسلام اپنے مقالے میں لکھتی ہیں کہ ہری ہردت نامور بنگالی صحافی تاراچند دت کے فرزند تھے۔

’تاراچند دت بنگالی ہفت روزہ اخبار ’سمبد کمودی‘ کے بانیوں میں سے ایک تھے۔ ’جام جہاں نما‘ کے ایڈیٹر مرزا پور کے رہنے والے لالہ سدا سکھ لال تھے جو پیشے کے لحاظ سے منشی تھے۔ وہ اس سے قبل ’سماچار چندریکا‘ سے وابستہ تھے۔‘

گربچن چندن اپنی کتاب میں لکھتے ہیں کہ آج حالت یہ ہے کہ اردو صحافت کے کسی مورخ کی کتاب سے ہمیں ’جام جہاں نما‘ کے بانیوں کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ملتی ہیں۔’ان (کتابوں) میں صرف اتنا لکھا ہے کہ اخبار کے مالک ہری ہردت اور ایڈیٹر سدا سکھ لال تھے۔ صرف اردو ہی نہیں بلکہ انگریزی اور ہندی کے محقق بھی جنہوں نے ’جام جہاں نما‘ کا کچھ ذکر کیا ہے، اس بارے میں خاموش ہیں۔

’میں نے ان کے سوانح کے لیے اردو کے کئی پروفیسروں اور مدیروں سے استفسار کیا۔ کئی اردو اخباروں میں اشتہار شائع کروایا۔ نیشنل آرکائیوز آف انڈیا کا ریکارڈ دیکھا۔ انڈیا آفس لائبریری لندن، نیشنل لائبریری کلکتہ اور مغربی بنگال کے ریاستی آرکائیوز کے دفتروں کو خطوط لکھے لیکن کہیں سے بھی یہ سوانح حاصل نہ ہو سکی۔

’لہٰذا میں نے اخبار کے دستیاب ریکارڈ اور دیگر مواد کے بین السطور سے ان حضرات کی شخصیت اور کارکردگی کا کچھ مواد جمع کرنے کی کوشش کی ہے۔ شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ ان دونوں اصحاب نے لمبی عمریں پائیں جن کا بیشتر حصہ صحافت اور فارسی و اردو زبانوں کی آبیاری میں صرف ہوا۔‘گربچن چندن لکھتے ہیں کہ گو کہ اردو صحافت کی تاریخوں میں ہری ہردت پر زیادہ اطلاعات میسر نہیں ہیں لیکن چوں کہ انہوں نے رام موہن رائے کی رہبری میں اپنی صحافتی زندگی کی ابتدا بنگلہ صحافت سے کی تھی اس لیے ان کے بارے میں کچھ متفرق معلومات بنگالی مورخوں کے ہاں مل جاتی ہیں۔’دستیاب معلومات سے پتہ چلتا ہے کہ اردو صحافت کے بانی (ہری ہردت) محض سرکاری دفتر میں ایک محرر ہی نہیں تھے بلکہ تجارت اور علم کے میدانوں میں قسمت آزمانے والے ایک من چلے بھی تھے۔ وہ بنگال کے باثروت طبقے کے ایک دت خاندان کے چشم و چراغ تھے۔ ان کے دادا رام نیندھی دت تقریباً 50 سال تک کسٹم ہاؤس کے دیوان رہے۔’ہری ہردت نے اس لیے اپنے اخبار کی ادارت کے لیے سدا سکھ لال کو منتخب کیا تھا کیوں کہ وہ نہ صرف ایک ذہین اور علم پرور منشی تھے بلکہ فرنگیوں کو اردو و فارسی پڑھانے کا کام بھی کرتے تھے۔’موصوف کلکتہ کے علاقہ مرزا پور میں رہتے تھے جو ہری ہردت کے محلہ کولو ٹولو کے پڑوس ہی کا ایک محلہ تھا۔ ہری ہردت کی طرح ہمیں سدا سکھ لال کی پیدائش اور وفات کی تاریخیں بھی معلوم نہیں ہو سکیں۔‘