عالمی شہرت کے دوور کاخاتمہ‘فنکار اپنے علاقے میں جی لیتا ہے تو بڑی بات :نورالحسنین
ناندیڑ:5ڈسمبر۔(ورق تازہ نیوز)وارثان حرف و قلم اورنگ آباد وہاٹس اپ گروپ کے روح رواں انجینئر خالد سیف الدین نے ناندیڑاردوگھر کے لئے اورنگ آباد کے علاوہ مراٹھواڑہ کے دیگر اضلاع کے مرحوم اردو شاعروں‘ ادیبوں ‘فنکاروں اور دانشوروں کے رنگین پورٹریٹ تحفے میں دینے کااعلان کیا۔وہ 4ڈسمبر کو صبح ساڑھے دس بجے وارثان حرف وقلم کے اراکین کے اعزاز میں اردوگھر میں منعقدہ ایک شانداراستقبالیہ تقریب میںاظہار خیال کررہے تھے ۔ یہ تقریب اردوگھر کی سرکاری ثقافتی کمیٹی کی جانب سے رکھی گئی تھی ۔ جو جشن نورالحسنین کے سلسلے کی ایک کڑی تھی ۔ خالد سیف الدین نے کہاکہ وہ اردو گھر کے لئے ہرطرح کاتعاون واشتراک کریںگے۔

ابتداءمیں ثقافتی کمیٹی کے رکن اور ور ق تازہ کے مدیراعلیٰ محمدتقی نے کمیٹی کے اراکین کاتعارف کرواتے ہوئے کہاکہ اردوگھر ریاستی حکومت کے ایک جی آر کے مطابق قائم ہوا ہے ۔جی آر میںدرج ہدایات کے مطابق ہی اردو گھر میںادبی ‘ سماجی ‘ثقافتی پروگرام منعقدکئے جاسکتے ہیں ۔ اردوگھر 2016ءمیں ہی تعمیر ہوچکاتھا لیکن اس کاافتتاح ضلع کے سرپرست وزیر اشوک راو چوہان کی کوششوں سے گزشتہ جولائی2021ءمیں عمل میں آیا ۔ اب تک صرف ایک تعلیمی پروگرام ٹی ای ٹی (معلم اہلیتی ٹیسٹ) ورکشاپ منعقد ہوا جو 20 دن تک جاری رہا ۔ محمدتقی نے کہا کہ یہ اردوگھر اردو زبان ‘ادب اور تعلیم کی ترقی ‘فروغ بقاءکے لئے قائم ہواا ہے اسلے ااس کی حفاظت اوراس کواستعمال کی ذمہ داری اردووالوںپر عائد ہوتی ہے ۔صاحب جشن نورالحسنین نے اپنی تقریر میں کہاکہ اب عالمی شہرتوں کا دور ختم ہوگیا ہے اگر سوشل میڈیا نے بڑی شخصیات کودنیا کے کونے کونے میں پہونچادیا ہے۔اب اگر آپ اپنے علاقے میں ہی مشہور ہوتے ہیںتو بڑی بات ہے ۔

مجھے اپنے بچپن کاایک واقعہ یادآرہا ہے جب معروف ترقی پسندافسانہ نگار کرشن چندر اورنگ آباد آئے تھے اور ہم انھیں دیکھنے کے لئے اسکول سے بھاگے تھے ۔ وہ صوبہ داری گیسٹ ہاوس میںٹہرے ہوئے تھے۔میں وہاں پہونچا توایک شخص کھڑاتھا ۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کرشن چندر کہاں ٹھہرے ہیں ۔ وہ شخص مجھے اپنے کمرے میں لے گیااور کہاکہ مجھ دیکھو میں ہی کرشن چندر ہوں ۔حسنین نے اپنی تقریرجاری رکھتے ہوئے کہا کہ دکن کوہمیشہ نظرانداز کیاگیا ہے ۔ یہ تخلیق کاروں کاعلاقہ ہے ۔ یہاں نقاد نہیں ہیں ۔ اور تخلیق کار کونقاد ہی بڑی آدمی بناتا ہے۔ دریں اثناءتقریب سے قبل اورنگ آباد‘پربھنی کے نے اردوگھر کا مکمل دورہ کیااوراسکی تعریف کی۔ثقافتی کمیٹی کے رکن لکچرر ذکی احمدقریشی نے اردوگھر میں منعقدہ ٹی ای ٹی ورکشاپ کی تفصیلات پیش کیں اور وارثان حرف و قلم کے ذمہ داران سے مفید مشورے دینے کی گزارش کی ۔

اس موقع پر کمیٹی کے دیگر اراکین حبیب مسعودعلی ‘ پروفیسرڈاکٹرشبانہ درانی (صدرشعبہ اردو یشونت کالج ناندیڑ) محمدمظفرالدین کے علاوہ محترمہ تسنیم بیگم (کوآرڈینیٹر اردو اسٹڈی سرکل ناندیڑ)‘جشن نورالحسنین کمیٹی کے ذمہ داران پروفیسر ڈاکٹر سلیم محی الدین ‘ پروفیسر عبدالقادر ‘ ڈاکٹررفیع الدین ناصر‘ محترمہ کوثر حیات ‘ سالک حسن خاں ‘ خالد سیف الدین ‘ اخترخاں لالہ ‘ سید کامل ‘سید مختارالدین قادری ‘ اوراردوگھر کے لائبریرین غلام محمد ‘کلرک محمدساجد احمدموجودتھے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔