ترک صدر رجب طیب اردوغان کی جانب سے ملک کے مرکزی بینک کے گورنر کو برطرف کیے جانے کے بعد ترکی کی کرنسی لیرا کی قیمت میں 14 فیصد کمی آئی ہے۔

حالیہ دنوں میں لیرا کی قیمت مستحکم رکھنے میں گورنر ناجی اقبال کے کردار کو انتہائی اہم قرار دیا جاتا ہے تاہم سنیچر کو ایک حیران کن اقدام کے طور پر صدر اردوغان نے انھیں برطرف کر دیا۔

گذشتہ دو سالوں میں یہ تیسرے شخص ہیں جو کہ سنٹرل بینک کے گورنرکے عہدے پر فائز رہے ہیں۔

ناجی اقبال کو گذشتہ نومبر میں تعینات کیا گیا تھا اور وہ مہنگائی کی شرح پر قابو پانے کے لیے مرکزی انٹرسٹ ریٹ (شرح سود) میں اضافے کی پالیسی اپنائے ہوئے تھے۔

ان کی برطرفی مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں دونوں کے لیے حیران کن بات ہے جو کہ ترکی کی حالیہ مالیاتی پالیسی کی تعریف کر رہے تھے۔

ایک وقت تھا جب لیرا امرجنگ مارکین کی کرنسیوں میں 2021 کی سب سے بہتر کرنسی تصور کی جا رہی تھی اور اس کی امریکی ڈالر کے مقابلے میں قیمت میں تقریباً 20 فیصد اضافہ ہو گیا تھا۔

گذشتہ ہفتے ترک لیرا اور بھی مضبوط اس وقت ہوا جب اقبال نے شرحِ سود میں دو فیصد اضافہ کر دیا جو کہ ماہرینِ معاشیات کی توقعات سے تقریباً دوگنا اضافہ تھا۔

تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

سرمایہ کار بہت عرصے سے ترکی میں سخت تر مالیاتی پالیسی مانگ رہے ہیں تاکہ ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی کی شرح پر قابو پایا جا سکے۔

تاہم اب اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ صدر اردوغان کی جانب سے سہپ سیوگولو کو سنٹرل بینک کے گورنر کے عہدے پر تعینات کرنے سے ناجی اقبال کے قلیل مدتی دور میں آنے والی بہتری ضائع نہ ہو جائے۔

سہپ سیوگولو بینکاری کے پروفیسر اور برسرِاقتدار جماعت کے سابق قانون ساز ہیں۔ وہ شرحِ سود میں اضافے کے ذریعے مہنگائی کی شرح پر قابو پانے کے مخالف کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

ترکی میں شرحِ سود اس وقت 19 فیصد ہے جس کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاروں نے اپنے اثاثے اس کرنسی میں منتقل کیے ہوئے ہیں۔

اتوار کے روز سنٹرل بینک نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ‘وہ مالیاتی پالیسی کے آلات کو استعمال کرتے ہوئے مستقل بنیادوں پر مہنگائی کی شرح کو کم کرنے کے ہدف کو حاصل کرنے کوششیں جاری رکھیں گے۔‘