شہزادہ حمزہ بغاوت کیس کی میڈیا پر تشہیر پرپابندی عائد،سعودی وزیر خارجہ نے شاہ سلمان کا پیغام اردن پہنچایا

عمان: اردن کے شاہ عبدﷲ دوم اور ان کے سوتیلے بھائی کے درمیان مصالحت ہوگئی ہے ۔شاہی محل کے مطابق شہزادہ حمزہ نے شاہ عبدﷲ اور ملک سے وفاداری سے متعلق دستاویز پر دستخط کر دئیے ۔شاہ اردن کے خلاف بیان دینے پرسابق ولیعہد شہزادہ حمزہ بن حسین کو نظربند کردیا گیا تھا۔خیال رہے گزشتہ دنوں ولیعہد شہزادہ حمزہ بن حسین نے بغاوت کی کوشش کی تھی ، جس میں وہ ناکام ہوگئے تھے ، بعد میں انہیں اور ان کے ساتھیوں کو فوج نے حراست میں لے لیا تھا۔اب شاہ عبداللہ کی جانب سے مصالحت کی کوششیں شروع کی گئی ہیں جس کے تحت شہزادہ حمزہ نے دستاویز پر دستخط کئے ہیں۔ اردن میں رواں ہفتے سابق ولیعہد شہزادہ حمزہ اور اس کے ساتھیوں کی طرف سے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش سامنے آنے کے بعد حکومت نے اس کیس کا فیصلہ سامنے آنے تک ذرائع ابلاغ میں اس کی تشہیر اور ہر قسم کی خبروں کی نشر واشاعت پر پابندی عائد کر دی ہے۔اٹارنی جنرل اردن ڈاکٹر حسن العبد اللات کے مطابق شہزادہ حمزہ اور دیگر ملزمان کے خلاف فیصلہ آنے تک اس حوالے سے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر ہر قسم کی خبروں پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ اس پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ذرائع ابلاغ میں اس حوالے سے کسی قسم کے ویڈیو کلپس اور خبروں کی اشاعت پر پابندی کیس کا فیصلہ آنے تک برقرار رہے گی۔واضح رہیکہ اردنی قوانین کے مطابق پبلک پراسیکیوشن کو کسی بھی زیر تفتیش کیس کے متعلق میڈیا میں مواد شائع کرنے پر پابندی لگانے کا اختیار ہے۔اردن کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان گذشتہ روز دارالحکومت عمان پہنچے۔ بن فرحان ایک پیغام لیکر آئے ہیں جس میں باور کرایا گیا ہے کہ سعودی عرب تمام تر چیلنجوں کا سامنا کرنے میں مملکت اردن کے ساتھ کھڑا ہے۔آج منگل کے روز جاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ ایمن الصفدی نے سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان کا استقبال کیا۔ بن فرحان اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم کے نام خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کا پیغام لے کر پہنچے۔ پیغام میں باور کرایا گیا ہیکہ سعودی عرب شاہ عبداللہ دوم کی جانب سے اردن اور اس کے مفادات کے تحفظ کے واسطے کیے جانے تمام اقدامات کی مکمل حمایت کرتا ہے۔دوسری جانب اردن کے وزیر خارجہ نے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم کے حوالے سے اس امر کو گرانقدر قرار دیا کہ ریاض کا موقف ہمیشہ سے اردن کی حمایت کا حامل رہا ہے۔ دونوں ملکوں کے وزرائے خارجہ نے باور کرایا کہ سعودی عرب اور اردن اور ان کی قیادت گہرے تاریخی تعلقات کے ساتھ مربوط ہیں۔ علاوہ ازیں تمام شعبوں میں ان تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے کام جاری ہے۔بن فرحان اور الصفدی نے زور دیا کہ دونوں مملکتوں کا امن و استحکام ’’جزو لا ینفک‘‘ ہے اور دونوں ممالک تمام تر چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کیلئے ساتھ کھڑے ہیں۔یاد رہیکہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے اتوار کی شام ٹیلیفون پر اردن کے فرمانروا شاہ عبداللہ دوم سے بات چیت کی تھی۔ اس موقع پر شاہ سلمان نے اردن کے ساتھ مکمل یکجہتی کو باور کرایا تھا۔

مزید یہ کہ سعودی عرب شاہ عبداللہ دوم کے ان تمام اقدامات میں ساتھ دے گا جو وہ اپنے ملک کے امن و استحکام کی حفاظت کے واسطے کر رہے ہیں۔


اپنی رائے یہاں لکھیں