ارب پتی مزید دولت مند ہوئے اور غریبوں کا درد مزید بڑھ گیا, آکسفیم انڈیا کی نئی رپورٹ میں انکشاف

139

نئی دہلی:16/ جنوری(ایجنسیز)سب سے امیر 21 ہندوستانی ارب پتیوں کے پاس 70 کروڑ ہندوستانیوں سے زیادہ ملکیت ہے۔ یہ بات آکسفیم انڈیا کی حال میں جاری رپورٹ میں بتائی گئی ہے اور نابرابری کو لے کر کئی دیگر اہم اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے ہیں۔ ان سے متعلق حوالے اور ذرائع بھی رپورٹ میں درج ہیں۔ کورونا وبا کے شروع ہونے سے نومبر 2022 تک ہندوستانی ارب پتیوں کی ملکیت 121 فیصد بڑھی ہے۔ دیکھا جائے تو حقیقی معنوں میں 3608 کروڑ روپے روزانہ کے حساب سے یہ ملکیت بڑھی ہے، یعنی 2.5 کروڑ روپے فی منٹ۔صرف 5 فیصد ہندوستانیوں کے پاس ملک کی ملکیت کا 60 فیصد حصہ ہے جبکہ نیچے کے 50 فیصد کے پاس ملک کی ملکیت کا محض 3 فیصد حصہ ہے۔

آکسفیم کی جدید رپورٹ ’سروائیول آف دی ریچسٹ: دی انڈیا اسٹوری‘ نے یہ جانکاری دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ہندوستان کے سب سے امیر شخص کی ملکیت سال 2022 میں 46 فیصد بڑھی ہے۔ اس رپورٹ نے بتایا کہ ان ارب پتیوں کے ’اَن ریئلائزڈ گینس‘ پر یکبارگی 20 فیصد ٹیکس سے (21-2017 کے دوران) 1.8 لاکھ کروڑ روپے حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ رقم ایک سال کے دوران پرائمری اسکولوں میں 50 لاکھ اساتذہ کو روزگار دینے کے لیے کافی ہے۔ آکسفیم نے مرکزی وزیر سے اپیل کی ہے کہ اس انتہائی نابرابری کو ختم کریں اور آئندہ بجٹ میں ملکیت ٹیکس جیسے برابری والے اقدام اٹھائیں۔بہرحال، رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 21-2012 کے دوران جو ملکیت میں اضافہ ہندوستان میں ہوا ہے، اس کا 40 فیصد سے زیادہ حصہ اوپر کی 1 فیصد آبادی کو گیا ہے،

جبکہ نیچے کی 50 فیصد آبادی کو محض 3 فیصد حصہ ملا ہے۔ آکسفیم انڈیا کی جدید رپورٹ (جو عالمی معاشی پلیٹ فارم کے ڈیوو سمیلن-سوئٹزرلینڈ میں پہلے دن ریلیز ہوئی) میں بتایا گیا ہے کہ ہندوستان میں ارب پتیوں کی تعداد 2020 میں 102 سے بڑھ کر 2022 میں 166 ہو گئی۔ ہندوستان کے 100 سب سے زیادہ امیر لوگوں کی مجموعی ملکیت 54 لاکھ کروڑ روپے پہنچ گئی، جس سے 18 ماہ کا مرکزی بجٹ بن سکتا ہے۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سب سے امیر 10 ہندوستانیوں کی کل ملکیت 27 لاکھ کروڑ روپے ہے۔ گزشتہ سال سے اس میں 33 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ یہ ملکیت صحت اور آیوش وزارتوں کے 30 سال کے بجٹ، وزارت تعلیم کے 26 سال کے بجٹ اور منریگا کے 38 سال کے بجٹ کے برابر ہے۔ کارپوریٹ ٹیکس میں 2019 میں کمی کی گئی اور چھوٹ کی شکل میں سال 2021 میں 103285 کروڑ روپے کا فائدہ انھیں ملا جو 1.4 سال کے لیے منریگا بجٹ کے برابر ہے۔آکسفیم انڈیا کے چیف ایگزیکٹیو افسر امیتابھ بیہر کا کہنا ہے کہ ’’امیر طبقہ کے حق میں کھڑے نظام میں حاشیہ والے لوگ (دلت، قبائل، مسلم، خواتین، غیر رسمی سیکٹر کے محنت کش) پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں۔

اب وقت آ گیا ہے کہ امیر طبقہ پر ٹیکس بڑھا کر ان سے مناسب حصہ حاصل کیا جائے۔ ہم وزیر مالیات سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ملکیت ٹیکس اور انہیریٹنس ٹیکس جیسے ٹیکس لائیں جس سے نابرابری کم ہو۔‘‘ایسے ٹیکسز سے حکومت کو زیادہ مالی وسائل حاصل ہوں گے اور پھر ضرور عوامی خدمات و ماحولیاتی تبدیلی کم کرنے جیسے اہم کام آگے بڑھ سکیں گے۔ نابرابری کے خلاف ’بھارتیہ سنگھرش الائنس‘ کے سروے کے مطابق 80 فیصد لوگ امیر طبقہ اور کووڈ کے دوران زیادہ منافع کمانے والوں پر زیادہ ٹیکس کی حمایت کرتے ہیں۔ 90 فیصد نے کہا کہ بجٹ میں نابرابری کم کرنے والے اقدام بڑھائیں، مثلاً سب کے لیے سماجی تحفظ، طبی حقوق، خواتین پر تشدد کم کرنے کی ترکیب وغیرہ۔سب سے اوپر کے 1 فیصد امیر اشخاص کی ملکیت پر مستقل طور پر ٹیکس لگنا چاہیے، اور زیادہ امیر اشخاص سے زیادہ ٹیکس حاصل کرنے پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ ملکیت ٹیکس، ونڈفال ٹیکس اور انہیریٹنس ٹیکس کے ذریعہ سے زیادہ رقوم حاصل کرنے چاہئیں۔جو غریب اور متوسط طبقہ کے روز مرہ کے استعمال اور ضروریات کی چیزیں ہیں، ان پر جی ایس ٹی کی شرح کم کرنی چاہیے اور عیش و آرام کی چیزوں پر جی ایس ٹی کی شرح بڑھانی چاہیے۔ اس طرح ٹیکس نظام ملک میں برابری کو فروغ دے گا۔

قومی صحت پالیسی کی سہولتوں کے مطابق صحت کے لیے بجٹ کو 2025 تک جی ڈی پی کا 2.5 فیصد کر دینا چاہیے تاکہ عوامی صحت مضبوط ہو سکے اور لوگوں پر بوجھ کم ہو سکے، وہ کسی صحت بحران کا سامنا بہتر طریقے سے کر سکیں۔تعلیم کے لیے حکومت کے بجٹ الاٹمنٹ کے بارے میں یہ وسیع نظریہ ہے کہ یہ جی ڈی پی کا 6 فیصد ہونا چاہیے۔ اسے قومی تعلیمی پالیسی میں بھی منظوری ملی ہے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے حکومت کو منصوبہ بند طریقے سے الاٹمنٹ کو بڑھانا چاہیے۔ تعلیم میں موجودہ نابرابری کو دور کرنے کے لیے اس کے موافق پروگراموں کو بڑھانا چاہیے، مثلاً درج فہرست ذات و درج فہرست قبائل کے طلبا، خصوصاً طالبات کے لیے میٹرک کے پہلے اور بعد میں اسکالرشپس۔مشکل دور سے گزرتے اور مہنگائی سے نبرد آزما ہوتے مزدوروں کی سیکورٹی بڑھانے اور ان کی معاشی و روزگار کے حالات کو مضبوط کرنے کے لیے کوششیں بہت اہم ہیں۔