نئی دہلی۔وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے پیر کے روز نفی میں اس وقت جواب دیا جب لوک سبھا میں پوچھا گیاتھا کہ اگر حکومت کے پاس نئے زراعی قوانین کے خلاف جاری کسانوں کے احتجاج میں فوت ہونے والے کسانوں کے افراد خاندان کو معاوضہ دینے کی تجویز ہے۔

کسانوں کی تنظیموں کے ساتھ بات چیت کے متعلق لوک سبھا کے متعدد اراکین کی جانب سے تحریر میں کئے گئے سوال کا منسٹر جواب دے رہے تھے۔

تومر نے کہاکہ بعض کسانوں کی یونینیں اور اس کے اراکین نئے نافذ زراعی قوانین کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔

جب خصوصی طور پر پوچھا گیاکہ کیاحکومت احتجاج کے دوران ”مرنے والے یا بیمار پڑنے والے احتجاجی کسانوں کی تعداد“ کے متعلق حکومت واقف ہے‘تومر نے کہاکہ ان کسان یونینوں کے ساتھ بات چیت کے دوران حکومت نے”کئی مرتبہ ان بچوں اور بوڑھوں بشمول خواتین سے درخواست کی تھی کہ انہیں کویڈ کے حالات سخت سردی او ردیگر مشکلات کے پیش نظر اپنے گھر وں کو واپس چلے جائیں“۔

آیا حکومت کے پاس کوئی تجویز ہے جس کے تحت احتجاج کے دوران فوت ہونے والے کسانوں کے افراد خاندان کو معاوضہ دیاجائے گا‘ جس پر منسٹر نے جواب دیا”نہیں جناب“۔

تومر نے ایوان زیریں کو جانکاری دی ہے کہ مذکورہ حکومت کسان یونینوں سے بات چیت کررہی ہے۔انہوں نے کہاکہ ”اب تک 11دور کی بات چیت حکومت اور احتجاج کررہے کسانوں یونینوں کے درمیان میں مسلئے کے حل کے لئے ہوئی ہے۔ حکومت نے زراعی قوانین میں ایک کے بعد دیگر ترمیم لانے کی بھی بات کی ہے“۔

تومر نے کہاکہ احتجاج کررہے کسان یونینوں کے مطالبات مرکز کے نئے زراعی قوانین کے خلاف ہیں۔انہوں نے کہاکہ مذکورہ حالیہ زراعی اصلاحات قوانین کے نفاذ پر سپریم کورٹ نے فی الحال توقف لگادیاہے۔

اس کے علاوہ تومر نے 11دور کی ہوئی بات چیت کے تواریخ بھی پیش کئے ہیں۔تومر نے یہ بھی کہاکہ حکومت ایم ایس پی نظام کو ختم کرنے کی کوئی تجویز حکومت کے پاس نہیں ہے۔

کسانوں کے احتجاج کے دوران اموات پر اسی طرح کے سوالات ہوم منسٹری سے بھی اراکین پارلیمنٹ نے پوچھے ہیں ایک تحریری جواب میں مملکتی وزیر برائے داخلی امور نتیا نند رائے نے کہاکہ پولی ساور عوامی احکامات ائین کے شیڈول سات کے بموجب ریاستی ذمہ داری ہے۔

رائے نے کہاکہ ”لاء اینڈ آرڈر کو برقرار رکھنے بشمول تحقیقات‘ رجسٹریشن جرائم کا پراسکیوشن‘ ملزمین کوسزا دینا زندگیوں اور جائیدادوں کی حفاظت وغیرہ ریاستی حکومت کو بالترتیب ذمہ داری ہے۔

مرکزی حکومت تنظیمو ں اور افراد کی سرگرمیوں پر قانون نفاذ کرنے والے اور سکیورٹی اداروں کے ذریعہ نظر رکھے ہوئے جو قومی سلامتی اور عوامی احکامات کے لئے خطرہ ہیں۔ جب بھی ضرورت پڑے گی قانون کے تحت ضروری کروائی کی جائے گی“۔


اپنی رائے یہاں لکھیں