اجیت ڈوبھال کی بین المذاہب کانفرنس

564

✍:پرویز نادر
دہلی میں منعقدہ بین المذاہب کانفرنس جس میں انڈونیشیا کے مندوبین اور انڈیا سے علماء سو جو اجیت ڈوبھال کے گروپ کے خاص الخاص ہے شریک تھے ،اس بین المذاہب کانفرنس میں دو مذاہب ہندو دھرم اور اسلام زیر بحث ضرور تھے لیکن ہمیشہ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کو لگتا ہے کہ اسلام ہی کو اپنی تعلیمات میں تبدیلی کی ضرورت ہے اسی لیے اس مرتبہ بھی اسلام ہی نشانہ تھا اور مسلمانوں ہی کو کٹہرے میں کھڑا کیا گیا،اس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے ڈوبھال نے کہا کہ "دنیا میں اسلام کی صحیح تشریح پیش کئے جانے اور اس کے ماڈرن پہلو کو اجاگر کرنے کی شدید ضرورت

ہے کیونکہ یہ ایسا مذہب ہے جو تمام مذاہب کے لئے امن، شانتی ، رواداری اور بھائی چارے کا پیغام لیکر آیا ہے، جس میں دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جہاد انا کے خلاف ہونی چاہئے انسان اور انسانیت کے خلاف نہیں” گویا امن شانتی رواداری اور بھائی چارے کو ژبو تاز ہمیشہ اسلام کو ماننے والے ہی کرتے ہیں، جو اسلام کی قدیم روایت کا حصہ ہے اس لیے اب اسلام کی جدید تشریحات پیش کرنے اور ماڈرن پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے امت میں سے سفید ریش مہروں کی ضرورت ڈوبھال صاحب کو پیش آگئی اسی لیے وہ ہمیشہ کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ اس طرح کی کانفرنس یا نشستوں کا انعقاد کرکے اسلام کی من چاہی تشریح اور اسی کے مطابق بھارتی مسلمانوں کی رہنمائی کرائیں،اجیت ڈوبھال کو معصوم سمجھنے والے بزرگوں کو لگا ہوگا اسلام کی تعریفیں ہورہی ہیں لیکن اجیت ڈوبھال کی

معصومیت نے مزید ایک جملہ کسا” انہوں نے کہا کہ ملک اور سرحد پر سے دہشت گردی کے خاتمے اور منافرت کوختم کرنے کے لئے مسلم علمااور دیگر تمام مذاہب کے رہنما نمایاں کردار ادا کرسکتے ہیں جس کے لئے انہیں آگے آنا چاہئے۔” اگر دہشت گردی کا خاتمہ اور رواداری کی اتنی ہی فکر ہوتی تو صاف کہہ دیتے کہ دھرم سنسد کے نام پر مسلمانوں کی نسل کشی کی باتیں کرنے والے سادھو سنت سماج دشمن عناصر ہیں اور یہ جس دھرم کی تعلیمات سے متاثر ہیں وہ دہشت گردی کی تعلیم ہے، اس میں بھی علماء ہی کو آگے آنے کی کیا ضرورت آن پڑی۔مزید یہ کہ ہر آئے دن کسی نئی مسجد کو بت خانے میں تبدیل کرنے کی بات کرنے والے بھی تو سماج کے دو طبقات میں نفرت اور تشدد کی فضاء پھیلانا چاہتے ہیں جس کی فکر ڈھوبال صاحب کو زیادہ ہونی چاہیے، اپنے خطاب میں سماجی ہم آہنگی کا نسخہ بیا کرتے ہوئے ڈھوبال صاحب کہتے ہیں، "جمہوریت میں جہاں دہشت گردی کی کوئی جگہ نہیں ہے، وہیں نفرت انگیز بیانات اور تقریر کے ذریعے مذہبی منافرت پھیلانے کی بھی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ایسے لوگوں کی شناخت کرکے انہیں تنہا کئے جانے کی ضرورت ہے۔” تو

کردیجیے امت شاہ کو اس سماج سے الگ !!جس نے مسلمانوں کے زخموں کو کریدتے ہوئے کہا کہ گجرات فسادات میں انہوں نے مسلمانوں کو سبق سکھایا ہے ، ۲۰۰۰ سے زائد مسلمانوں کے قتل عام کے ذریعے انہیں سبق سکھانے کی بات کرنا نفرت انگیز بیان اور مذہبی منافرت کا فروغ ہی ہو سکتی ہے ۔کیوں کہ وہ فسادی مسلمانوں ہی کو سمجھتے ہیں، اسی لیے ان کی ریاستی حکومت کی عام معافی اور مرکزی حکومت کی رضامندی سے بلقیس بانو کی عصمت دری کے مجرم اور ان کے گھر کے سات افراد کے قاتل رہا کردیے گئے۔اتنا سب ہونے کے بعد بھی اجیت ڈوبھال صاحب چاہتے ہیں کہ اسلام کی تعلیمات ہی سارے مسائل کی وجہ ہے اس لیے وہ نام نہاد سیکولر ذہنیت کے مارے علماء کو اپنے حلقہ میں شامل فرماتے رہتے ہیں۔ ویسے ایک اطلاع کے طور پر آپ کو معلوم ہو کہ اس کانفرنس میں سابق وزیرمملکت ایم۔ جے۔ اکبر، سابق ممبر پارلیمنٹ مولانا محمود مدنی، سابق لیفتیننٹ جنرل عطا حسین، ماہر قانون فیضان مصطفی، پروفیسر اخترالواسع، مولانا اصغر امام مہدی سلفی اہم شرکا میں شامل تھے۔