راجستھان کے اجمیر میں دفعہ 144 نافذ کیے جانے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اجمیر ضلع انتظامیہ کے ذریعہ جاری حکم میں کہا گیا ہے کہ شہر میں آئندہ ایک مہینے تک کسی بھی مذہبی تقریب میں جھنڈوں اور بینرس کے استعمال پر پابندی رہے گی۔

اجمیر کے کلکٹر انشدیپ کی طرف سے جاری حکم کے مطابق پورے ضلع میں فوری اثر سے کسی بھی طرح کی مذہبی علامات کو سرکاری عمارتوں پر لگانے پر روک لگانے کے ساتھ ہی تیز بجنے والے ڈی جے کے استعمال پر بھی روک لگائی ہے۔ کلکٹر نے ان دونوں پر روک لگانے کے پیچھے نظامِ قانون اور فرقہ وارانہ خیر سگالی کی بات کہی ہے۔

کلکٹر کی طرف سے جو احکامات جاری کیے گئے ہیں اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ضلع میں ہونے والے مذہبی انعقاد میں اب سرکاری مقامات، عوامی چورہے، بجلی اور ٹیلی فون کے کھمبے اور کسی شخص کی ملکیت پر بغیر اجازت کے کسی بھی طرح کے بینر یا جھنڈے نہیں لگائے جا سکیں گے۔ اگر ایسا کرتے ہوئے کوئی بھی پکڑا جاتا ہے تو اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ حالانکہ کلکٹر نے اپنے حکم میں کسی بھی مذہبی تہوار کا تذکرہ نہیں کیا ہے۔ لیکن آنے والے دنوں میں رام نومی، مہاویر جینتی، ہنومان جینتی جیسے تہوار ہیں۔ اس کے پیش نظر بی جے پی اور ہندوتوا تنظیمیں لگائی گئی پابندیوں پر ناراضگی ظاہر کر رہی ہیں۔

کلکٹر کے حکم کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے بی جے پی نے اسے کچھ لوگوں کو خوش کرنے والی سیاست قرار دیا ہے۔ بی جے پی رکن اسمبلی واسودیو دیونانی نے بیان جاری کر کہا کہ پہلے کوٹہ، بیکانیر، جودھپور کے بعد اب اجمیر میں اس طرح کے احکام جاری کر ہندو تہواروں پر پہرہ لگانا چاہ رہی ہے، جسے کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انھوں نے کہا کہ جاری حکم کو جلد از جلد واپس لیا جائے ورنہ پارٹی اس کے خلاف سڑک پر اترے گی اور اس کی مخالفت کرے گی۔