اجمیر: راجستھان کے اجمیر میں صوفی خواجہ معین الدین حسن چشتی کی درگاہ میں نذرانہ ( چڑھاوا) کے حوالے سے ایک بار پھر تنازع منظرعام پر آیا ہے۔ درگاہ میں نذرانہ پیش کرنے پر درگاہ کمیٹی ، انجمن سیدزادگان اور انجمن شیخ زادگان کے درمیان سرد جنگ چل رہی ہے اور اب درگاہ کمیٹی کی جانب سے پولیس کا دروازہ بھی کھٹکھٹایاگیا ہے۔

موصولہ اطلاع کے مطابق درگاہ کیمپس میں خادم فیضل چشتی کے کورونا لاک ڈاؤن کے باوجود نذرانہ مانگنے کی بات سامنے آئی ہے۔ جس پر درگاہ کمیٹی نے سخت اعتراض کا اظہار کرتے ہوئے دونوں انجمنوں کو تحریری نوٹس بھیج کر جواب طلب کیا ہے ، لیکن فی الحال دونوں انجمنوں کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا ہے ، لیکن ناظم اشفاق حسین نے درگاہ پولیس کو نذرانہ وصول کرنے کا حق درگاہ کمیٹی کو قرار دیتے ہوئے پولیس کو اطلاع دی ہے جس میں پوچھا گیا ہے کہ درگاہ پولیس اور گارڈ کی سیکورٹی کے تحت جاری لاک ڈاؤن کے باوجود عقیدت مند درگاہ میں کیسے داخل ہوئے۔

گزشتہ ایک ہفتہ سے درگاہ سے لائیو زیارت اور ویڈیو اپ لوڈ کا معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد درگاہ کمیٹی نے سخت اعتراض کیا تھا۔ دونوں انجمن کے عہدیدار بھی درگاہ کی ویڈیو بنانے کے سخت خلاف ہیں لیکن ان کے کسی بھی خادم کے خلاف کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

درگاہ کمیٹی نے اپنے خط میں واضح کیا ہے کہ خادم فیضل نے درگاہ ایکٹ 1955 کی خلاف ورزی کرکے عقیدت مندوں سے نذرانہ حاصل کرنے کی جو کوشش کی ہے ،یہ حق صرف درگاہ کمیٹی کو حاصل ہے۔ دوسری جانب درگاہ سے وابستہ خادموں کا کہنا ہے کہ ناظم کا نوٹس خادموں کے حقوق پر بہتان ہے۔ خادموں کو حق ہے کہ وہ درگاہ کے اندر نذرانہ حاصل کرے۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ درگاہ کے احاطے میں نذرانہ حاصل کرنے کے لئے مختلف رنگ کے صندوق رکھے گئے ہیں اور اسی کے مطابق نذرانہ کی تقسیم بھی کی جاتی ہے ، لیکن کورونا کی وجہ سے لاک ڈاؤن کے سبب سے فی الحال درگاہ میں زائرین کیلئے داخلہ بند ہے۔