BiP Urdu News Groups

رپورٹ میں بڑے پیمانے پر ’اجرت چوری‘ کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)

قطری کمپنیاں کورونا وبا کے دوران کم آمدن والے غیرملکی کارکنوں کو واجب الادا لاکھوں ڈالر کی اجرت ادا کرنے اور سہولتیں دینے میں ناکام ہو گئی ہیں۔

عرب نیوز کے مطابق یہ انکشاف انسانی حقوق کے ایک گروپ ایکویڈم کی تحقیق میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ بتاتی ہے کہ ہزاروں کارکنوں کو بغیر کسی نوٹس کے برطرف کر دیا گیا ہے، تنخواہوں میں کمی کی گئی ہے اور بغیر تنخواہ کے چھٹیوں پر بھیج دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ ملازمت کے خاتمے پر ادا کی جانے والی رقم بھی ادا کرنے سے انکار کر دیا گیا یا پھر گھر جانے کے لیے پروازوں کے کرائے کے طور پر ادا کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں بڑے پیمانے پر ’اجرت چوری‘ کے بارے میں بھی بتایا گیا ہے۔

ایکویڈم کے مطابق نکالے جانے والے کارکن غذا کی کمی کا شکار ہیں اور وبا کے ان دنوں میں اپنے گھروں کو پیسے بھجوانے کے قابل بھی نہیں حالانکہ قطر دنیا کے امیر ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔

قطر میں کام کرنے والے غیر ملکی کارکنوں میں زیادہ تر کا تعلق ایشیا سے ہے (فوٹو: روئٹرز)

صفائی کا کام کرنے والے ایک بنگلہ دیشی کارکن کا کہنا تھا کہ انہیں چار ماہ سے اجرت نہیں ملی۔

’میں یہاں اپنے خاندان کے لیے کام کرنے آیا تھا بھکاری بننے نہیں۔‘

برطانیہ سے تعلق رکھنے والے کاروباری اور انسانی حقوق کے ادارے کا کہنا ہے کہ 87 فیصد کارکنوں نے ناروا سلوک، اجرت کی عدم ادائیگی یا تاخیر کی شکایت کی ہے۔ جس کے مطابق 2016 سے اب تک 12000 کارکن بری طرح سے متاثر ہو چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق تقریباً 2000 کارکن رکھنے والی تعمیراتی کمپنی نے ایک ہی وقت میں سب کو فارغ کیا (فوٹو: اے ایف پی)

قطر میں کام کرنے والے تقریباً بیس لاکھ غیر ملکی کارکنوں میں سے زیادہ تر کا تعلق ایشیا سے ہے جن میں سے زیادہ تر فیفا 2022 ورلڈ کپ کے لیے بنائی جانے والی سائٹس پر تعمیراتی کام سے وابستہ ہیں۔

ایکویڈم نے مزدوروں کی اصل صورت حال سامنے لانے کے ساتھ ساتھ کورونا وائرس کے حوالے سے کیے جانے والے بعض اقدامات پر قطر کو سراہا بھی ہے۔

مارچ میں حکومت نے کمپنیوں کو پابند کیا تھا کہ قرنطینہ اور بندش کے دوران بھی مزدوروں کو ادائیگیوں کے لیے قرضہ سکیم بنائیں۔

لیکن رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ ان ہدایات پر عمل نہیں ہوا۔

بعد ازاں قطری حکومت نے کمپنیوں کو اجازت دی کہ کام روک دیں اور کارکنوں کو بغیر تنخواہ چھٹی پر بھیجا جائے یا فارغ کر دیا جائے لیکن اس ضمن میں ملک کے لیبر قوانین پر عمل کیا جائے جن میں پیشگی نوٹس اور پورے بقایا جات کی ادائیگی شامل ہے۔

زیادہ تر مزدور فیفا 2022 ورلڈ کپ کے لیے بنائی جانے والی سائیٹس پر تعمیراتی کام سے وابستہ ہیں (فوٹو: اے ایف پی)

رپورٹ میں ان کمپنیوں کی تعداد کی نشاندہی بھی کی گئی ہے جنہوں نے مزدوروں کا استحصال اور ہدایات کو نظرانداز کیا۔

تقریباً 2000 کارکن رکھنے والی تعمیراتی کمپنی نے ایک ہی وقت میں سب کو فارغ کیا۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان میں بیش تر کو واجبات ادا نہیں کیے گئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بڑی تعداد میں غیر ملکی کارکنوں کی حالت ایسی ہے کہ نہ وہ اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا سکتے ہیں اور نہ ہی ان کے پاس اس صورت حال کا کوئی حل ہے۔

ایکویڈم کے ڈائریکٹر مصطفیٰ قادری کا کہنا ہے کہ قانونی حق اور یونین جیسا پلیٹ فارم نہ ہونے کی وجہ سے کارکن حکومت سے بات کر سکتے ہیں اور ہی کمپنیوں کے مالکان سے۔

ایک بیان میں قطر کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وبا کے دنوں میں اس کی جانب سے اختیار کیا جانے والا طرز عمل انسانی حقوق اور صحت عامہ کے عالمی اصولوں کے مطابق ہے۔

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ کارکنوں کو اجرت اور کام ختم ہونے پر واجبات ادا نہ کرنے والی کمپنیوں کے خلاف تادیبی کارروائیاں کی گئی ہیں جن میں جرمانے اور پابندیاں بھی شامل ہیں۔