• 425
    Shares

کلکتہ 14اگست (یواین آئی) بی جے پی کے جنرل سیکریٹری اور آرایس ایس کے دیگر دو لیڈروں جشنو بوس اور پردیپ جوشی کی 2016کے اجتماعی عصمت دری کے معاملے میں کلکتہ ہائی کورٹ نے عبوری پیش گی ضمانت منظور کرلی ہے۔ان تینوں کو 25اکتوبر تک عبوری ضمانت دیدی گئی ہے۔جسٹس ہریش ٹنڈن اور جسٹس کوشک چندر کی ڈویژن بنچ نے یہ فیصلہ سنایاہے۔29 نومبر 2016 کو ایک خاتون نے ان تینوں افراد کے خلاف ایک فلیٹ میں اجتماعی زیادتی کے الزامات عاید کئے تھے۔

خاتون نے شکایت کی تھی کہ اس واقعے کے بعد اسے اور اس کے خاندان کو جان سے مارنے کی دھمکیاں ملنا شروع ہو گئیں۔ دھمکی کے اس الزام کی بنیاد پر 2019 میں سرسونا اور 2020 میں بول پور میں شکایات درج کی گئیں۔ تاہم، پولیس نے سرسونا تھانے میں درج شکایت کو خارج کردیا۔خاتون نے 2020 میں علی پور نچلی عدالت میں اپیل کرتے ہوئے ان تینوں لیڈروں کے خلاف اجتماعی عصمت دری کا الزام لگایا۔ اس نے جج کے سامنے ایف آئی آر درج کرائی۔ علی پور عدالت نے ایف آئی آر کو مسترد کردیا۔ اس سال یکم اکتوبر کو کلکتہ ہائی کورٹ کے جسٹس وویک چودھری نے نچلی عدالت کو اپنی اپیل پر دوبارہ غور کرنے کی ہدایت دی۔ جج نے 8 اکتوبر کو ایف آئی آر درج کرنے کی ہدایت دی۔ بھوانی پور پولیس اسٹیشن میں کیلاش سمیت تین افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی۔

تینوں رہنماؤں نے پیشگی ضمانت کے لیے ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔سماعت کے دوران، پولس انتظامیہ کے وکیل نے کہا کہ تحقیقات شروع ہوئے چار دن ہوچکے ہیں۔ سرت بوس روڈ پر اس فلیٹ کے دو سپروائزرز کے بیانات لیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کیلاش وجے ورگی سمیت ایک سے زیادہ افراد فلیٹ میں پارٹی کے کام کے لیے آتے تھے۔ تفتیش کے مطابق فلیٹ پون روئیر کے نام پر ہے اور اسے کیلاش وجے ورگی نے کرائے پر لیاتھا۔ انہوں نے شکایت کنندہ کو خفیہ بیان دینے کے لیے بھی طلب کیا۔ شکایت کنندہ نے کہا کہ وہ اس ماہ کی 17 یا 18 تاریخ کو تفتیشی افسران سے ملاقات کریں گی۔تینوں رہنما ہائی کورٹ کے یکم اکتوبر کے حکم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رہے ہیں۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔