ظفر آغا

مجھ سے اکثر اردو قارئین ان دنوں یہ سوال کرتے ہیں کہ اتر پردیش میں مسلم ووٹر کیا کریں! میرا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ یہ مسئلہ محض مسلم ووٹر کا نہیں ہے بلکہ یہ مسئلہ ہر اس ووٹر کا ے جو نریندر مودی مخالف ہے۔ ہر اس ہندوستانی شہری کو یہ طے کرنا ہے کہ کس طرح اس ملک کی جمہوریت اور سیکولرزم کو بچایا جائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اتر پردیش چناؤ نے ایک کروٹ لی ہے اور وہاں بی جے پی میں جو بغاوت پھوٹی ہے اس نے یہ گنجائش پیدا کر دی ہے کہ اسمبلی چناؤ میں بی جے پی کو ہرایا جا سکتا ہے۔

اب سوال یہ ہے کہ اس کو کس طرح ممکن بنایا جائے۔ اس مسئلہ کا سیدھا سا حل خود اتر پردیش کے سنہ 1993 کے اسمبلی چناؤ کے نتائج میں پنہاں ہے۔ سنہ 1993 میں کیا ہوا تھا! آپ کو یاد ہوگا کہ سنہ 1992 میں ایودھیا میں بابری مسجد گرائی گئی تھی۔ اتر پردیش ہی نہیں، تقریباً سارے ہندوستان میں ہی مسلمانوں کے خلاف نفرت کی لہر چل رہی تھی۔ ہزاروں مسلمان فسادات میں مارے گئے تھے۔ الغرض صوبہ میں ہندوتوا سیاست کا بول بالا تھا۔ اس ماحول میں 1993 کے اسمبلی چناؤ منعقد ہوئے اور بی جے پی چناؤ ہار گئی۔ یہ کیسے ممکن ہوا!

آپ کو یاد ہوگا کہ 1993 یوپی چناؤ میں ملائم سنگھ یادو کی سماجوادی پارٹی اور کانشی رام کی بہوجن سماج پارٹی نے مل کر اتحاد سے چناؤ لڑا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بی جے پی کو شکست ہوئی اور سب حیرت زدہ رہ گئے۔ لیکن اس اتحاد میں ایسی کیا خاص بات تھی کہ اس نے بی جے پی کی مسلم منافرت کی سیاست کو اس کے عروج پر شکست دے دی! دراصل سنہ 1993 کے چناؤ اور اس میں یک طرفہ ووٹنگ بی جے پی کو ہرانے کا ایک اہم سبق ہے جس کو سمجھ کر حالیہ چناؤ میں بھی بی جے پی کو ہرایا جا سکتا ہے۔ اس چناؤ میں محض سماجوادی پارٹی اور بہوجن سماج پارٹی کا ہی اتحاد نہیں ہوا تھا، بلکہ زمینی سطح پر ایک سماجی اتحاد بھی پیدا ہوا تھا جس نے بی جے پی کی سیاست کو شکست دے دی تھی۔

وہ اتحاد تھا پسماندہ ذاتوں اور دلتوں کا۔ ملائم سنگھ یادو کی قیادت میں زیادہ تر پسماندہ ذاتیں اور کانشی رام کی قیادت میں دلتوں کی اکثریت یکجا ہو گئی تھی۔ صرف اتنا ہی نہیں، بلکہ اتر پردیش کا تیسرا سب سے بڑا ووٹ بینک مسلمان نے اس چناؤ میں بہت سوجھ بوجھ سے اسٹریٹجک ووٹنگ کی تھی۔ مسلمان نے اس چناؤ میں کیا کیا! اس نے یہ طے کر لیا کہ اس کا مقصد اس الیکشن میں بی جے پی کو ہرانا ہے۔ بس اس مقصد کے ساتھ اس نے 1993 میں ہر اسمبلی حلقہ میں اس کو ووٹ ڈال دیا جو بی جے پی کو ہرانے کی حیثیت میں تھا۔ پھر جب نتائج آئے تو سب محو حیرت تھے۔

یہی حکمت عملی اس بار یعنی 2022 کے اسمبلی چناؤ میں بھی اپنانی چاہیے۔ کیونکہ اس چناؤ میں بھی زیادہ تر پسماندہ ذاتیں بھارتیہ جنتا پارٹی چھوڑ کر بھاگ رہی ہیں اور ان کا رجحان سماجوادی پارٹی کی طرف ہے۔ دلتوں کا بھی ایک بڑا طبقہ بی جے پی سے پریشان ہے اور وہ یوگی حکومت سے نجات چاہتا ہے۔ جہاں تک مسلمان کا تعلق ہے، تو وہ تو بی جے پی کی سیاست سے سخت پریشان ہو چکا ہے۔ یعنی زمینی سطح پر پھر وہی 1993 والے سیاسی حالات پیدا ہو چکے ہیں۔ پسماندہ ذاتیں، دلت اور مسلمان اتر پردیش کے تین سب سے بڑے ووٹ بینک بی جے پی مخالف ہو چکے ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ ان تینوں ووٹ بینک کا اتحاد پیدا ہو تاکہ سنہ 1993 والے نتائج دہرائے جا سکیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ان تینوں یعنی پسماندہ ذاتوں، دلتوں اور مسلم ووٹر کا بٹوارا نہیں ہونا چاہیے۔ ان تینوں کا مقصد یوگی حکومت سے نجات حاصل کرنا ہے۔ یہ تب ہی ممکن ہے کہ جب سنہ 1993 کی طرح یہ تینوں ہر چناوی حلقوں میں اسٹریٹجک ووٹنگ کر ہر اس امیدوار کو مل کر ووٹ ڈالیں جو بی جے پی کو چناؤ ہرانے کی حیثیت میں ہو۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا بی جے پی ان تینوں سماجی گروہ کے اتحاد کو توڑنے کی کوشش نہیں کرے گی! یہ خیال کرنا کہ بی جے پی اس کو روکنے کی بھرپور کوشش نہیں کرے گی یہ خام خیالی ہوگی۔ بی جے پی کی ان حالات میں کیا حکمت عملی ہو سکتی ہے! بی جے پی کے پاس ہمیشہ انگریزوں کی طرح بانٹو اور راج کرو والی حکمت علی ہوتی ہے۔ وہ اس حکمت عملی پر کام کر رہے ہیں۔ انھوں نے اس بار منڈل پلس کمنڈل حکمت عملی کا راستہ اپنایا ہے۔ یعنی وہ پسماندہ اور دلتوں میں پھوٹ اور بٹوارا کرنے کی کوشش میں ہے اور ساتھ ہی ساتھ کمنڈل یعنی صوبہ میں مسلم منافرت کی بھرپور لہر پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہوگا! اس کے لیے انھوں نے طے کیا ہے کہ جہاں پسماندہ ذاتوں کی اکثریت ہو وہاں پسماندہ نمائندہ کھڑا کر ان کا ووٹ بانٹ دو۔ اسی طرح دلت آبادی والے علاقوں میں دلتوں کا ووٹ بانٹ دو۔ رام پور اور مراد آباد جیسے کثیر مسلم آبادی والے شہروں میں یہ کام ان کے لیے اسدالدین اویسی کے نمائندے کرنے کو تیار ہیں۔ چنانچہ اس چناؤ میں پسماندہ ذاتوں، دلتوں اور مسلمانوں کو یہ سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کرنی ہے کہ ہر حلقہ میں کون نمائندہ دراصل بی جے پی مخالف ہے اور کون بی جے پی پراکسی ہے۔ اور پھر بہت سوجھ بوجھ کے ساتھ تینوں گروہ مل کر اسٹریٹجک ووٹنگ کے ذریعہ اصل بی جے پی مخالف کے خلاف ووٹ ڈالیں۔

اس سلسلے میں مسلم ووٹر کا رول بہت اہم ہوگا۔ مسلم ووٹر اکثر اسلام اور مسلمان کے نام پر جذبات میں بہہ جاتا ہے اور اپنے ووٹ کا بٹوارا کر دیتا ہے۔ اس کو اسدالدین اویسی جیسے جذباتی مسلم قائدین سے پرہیز کرنا ہوگا۔ اگر وہ جذبات کی رو میں بہہ کر اپنا ووٹ بانٹ دے گا تو پھر اس کا حشر وہی ہوگا جو بابری مسجد کے معاملے میں جذباتی سیاست کرنے سے ہوا۔ بابری مسجد ایکشن کمیٹی کے زیر سایہ مسلمان جذبات میں مسجد تحفظ کے نام پر سڑکوں پر اتر پڑا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مسجد بھی گئی اور مسلمان بھی مارا گیا۔ جب فساد ہوئے تو اسلام اور مسلمان کی قسم کھانے والے مسلم قائدین کہیں نظر نہیں آئے۔ ایسے ہی اسدالدین صاحب کی جذباتی مسلم حقوق کی تقریریں ایک تو ہندو کو یکجا کریں گی اور دوسرے مسلم ووٹ بانٹ کر بہار کی طرح بی جے پی کو فائدہ پہنچائیں گی۔ چنانچہ مسلم ووٹر کو ہر حال میں جذباتی سیاست سے پرہیز کرنا چاہیے اور پسماندہ و دلتوں کے اتحاد کے ساتھ ووٹنگ کرنی چاہیے۔ ورنہ بی جے پی کی وہ تلوار جو ابھی سر پر لٹک رہی ہے، وہ تلوار اب گردن تک پہنچ جائے گی۔

لب و لباب یہ کہ سنہ 2022 یوپی اسمبلی چناؤ میں بی جے پی کو ہرانے کے امکان پیدا ہو گئے ہیں۔ لیکن یہ تب ہی ممکن ہے جب کہ پسمندہ و دلت ذاتیں اور مسلمان یکجا ہو کر بی جے پی کے خلاف ووٹنگ کریں۔ اور اس اتحاد کو لبرل و سیکولر اعلیٰ ذاتوں کی بھی حمایت حاصل ہو۔ اگر یہ ووٹ آپس میں بٹ گئے تو پھر بی جے پی کامیاب ہو جائے گی۔ اس لیے اس ووٹ کو بٹنے سے روکیے اور بی جے پی کو شکست دیجیے۔