چمولی۔ انڈو تبتن سرحدی پولیس(ائی ٹی بی پی) نے اتوار کے روز کہاکہ اتراکھنڈ کے چمولی ضلع میں برف کے تودے پھٹنے کی وجہہ سے توپاون میں نیشنل تھرمل پاؤر کارپویشن لمٹیڈ (این ٹی پی سی) کے مقام سے کم ازکم نو نعشیں برآمد کرلی گئی ہیں۔

ڈائرکٹر جنرل ائی ٹی بی پی ایس ایس دیسوال نے کہاکہ ایسا خدشہ ہے کہ 100ورکرس اس مقام پر تھے جس میں سے 9-10نعشیں ندی سے نکالی گئی ہیں۔

ائی ٹی بی پی کے ایک ٹیم واقعہ کے مقام پر بچاؤ کا کام کرہی ہے اور ہم این ٹی پی سی کی انتظامی ٹیم سے بھی رابطہ میں ہیں تاکہ جانکاری اکٹھا کرسکیں‘ یہ بتاتے ہوئے دیسوال نے کہاکہ بہت جلد انڈین آرمی کی ایک ٹیم بھی یہاں پر پہنچ جائے گی۔

اتراکھنڈ چیف سکریٹری اوم پرکاش نے اے این ائی کو بتایاکہ چمولی ضلع میں پیش سیلاب کے واقعہ میں 100سے زائد جانیں جانے کا ڈر ہے۔

انہوں نے مزیدکہاکہ ”ائی ٹی بی پی‘ ایس ڈی آر ایف‘ این ڈی آر ایف کی ٹیمیں پہلے ہی مقام واقعہ پر پہنچ گئی ہیں۔ اس علاقے میں ریڈ الرٹ جاری کردیاگیاہے“۔

اتراکھنڈ ڈائرکٹر جنرل آف پولیس اشوک کمار نے کہاکہ تاپوان ڈیم میں پھنسے ہوئے جملہ 16لوگوں کو پولیس نے محفوظ مقام پر منتقل کردیاہے

جوشی مٹھ علاقے سے کچھ فاصلے پر تعمیر بارڈر روڈس آرگنائزیشن کا ایک برج سیلاب کی زد میں آکر بہہ گیا۔ ڈائرکٹر جنرل بی آر او لفٹنٹ جنرل راجیو چودھری نے حکام کو ہدایت دی ہے جنتا جلدی ہوسکا اس برج کوبحال کریں۔

انہوں نے کہاکہ ضروری سامان اور جوانوں کو اس مقام پر منتقل کردیاگیاہے۔

درایں اثناء ہندوستانی فوج نے کہاکہ چمولی کے توپوان علاقے کے رینی گاؤں میں آرمی کے چار دستے‘ دو میڈیکل ٹیمیں اور ایک انجینئرنگ ٹاسک فورس تعینات کردی گئی ہے۔

فضائی نگرانی بھی فوج کی جانب سے کی جارہی ہے۔حالات کاجائزہ لینے کے لئے چیف منسٹر اتراکھنڈ ترویندر سنگھ راؤت چمولی توپوان میں واقعہ رینی گاؤں پہنچے۔

انہیں فوج اور ائی ٹی بی پی کے جوانوں نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات سے واقف کروایا۔

اسی دوران مرکزی وزیر داخلہ نے چیف منسٹر راؤت سے چمولی سیلاب کی صورت سے آگاہی حاصل کی اور ہر ممکن تعاون کا یقین دلایاہے۔

اتوار کے روز برف کے تودے پھٹنے کی وجہہ سے علاقے میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں