انڈیا کی برسرِ اقتدار جماعت بی جے پی ریاستی انتخابات میں ملک کی سب سے زیادہ آبادی والی ریاست اتر پردیش میں ایک آسان فتح حاصل کرتی ہوئی نظر آ رہی ہے، اور اس طرح وہ 25 سال سے قائم یہ طلسم بھی توڑ دے گی کہ وہاں سے کوئی جماعت لگاتار دوسری مرتبہ نہیں جیت سکتی۔

اترپردیش میں بے جے پی کی اس فتح کا سہرا کیسری لباس پہننے والے جماعت کے سخت گیر ہندو مذہبی رہنما یوگی ادتیہ ناتھ کے سر ہے۔ یوگی ادتیہ اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ بھی ہیں۔ ان کی فتح اس کے باوجود یقینی ہے کہ ان کے حق میں کوئی انتخابی مہم نہیں نظر آ رہی تھی۔

پانچ سال برسرِ اقتدار رہنے کے باوجود ان کے خلاف بی جے پی کے اندر اور باہر مہم بھی چلائی جا رہی تھی۔

گذشتہ ہفتے میں نے مشرقی حلقے گورکھپور میں ان کی انتخابی مہم دیکھی۔ یاد رہے کہ وہ وہاں کے ایک بااثر مندر میں اعلیٰ پروہت بھی ہیں۔

جب ان کا پھولوں سے سجایا گیا ٹرک جسے رتھ بھی کہا جاتا ہے، اس شہر کی تنگ و تاریک گلیوں سے گزرا تو ہزاروں افراد نے راستے میں ان کا استقبال کیا، کئی چھتوں اور بالکنیوں پر کھڑے یہ نظارہ دیکھ رہے تھے اور ان پر پھولوں کی پتیاں برسا رہے تھے۔

جب لاؤڈ سپیکروں میں پارٹی کے ترانے اور ہندو مذہبی گیت چلائے جا رہے تھے اس وقت ادتیہ ناتھ فتح کا نشان بنا کر لوگوں کا شکریہ ادا کر رہے تھے۔ ان کے ساتھ کھڑے ہوئے بی جے پی ایک رکن پارلیمان نے روڈ شو کے متعلق کہا کہ ’یہ فتح کا جشن ہے۔‘

اس وقت یہ ذرا عجیب اور وقت سے پہلے کا تجزیہ لگا لیکن جمعرات کے نتائج سے پتہ چلا کہ وہ اعتماد غلط نہیں تھا۔

یوگی ادتیہ ناتھ جو ایک انتہائی متنازعہ شخصیت تصور کیے جاتے ہیں ان سے بیک وقت نفرت اور محبت کی جاتی ہے۔ ان کے پیروکار انھیں ایک مقدس شخصیت مانتے ہیں، ایک ہندو شبیہہ، بھگوان کا اوتار، بلکہ بذاتِ خود بھگوان۔

لیکن ان کے ناقدین سمجھتے ہیں وہ ایک انتہائی تقسیم کرنے والے اور گندی زبان استعمال کرنے والے سیاستدان ہیں جو اکثر اپنی ریلیوں کے دوران مسلم مخالف جذبات بھڑکاتے ہیں۔

ان کے پانچ سالہ دورِ اقتدار میں مسلمانوں پر مشتعل ہجوم کے ہاتھوں تشدد اور ان کے خلاف نفرت بھری تقاریر کی شہ سرخیاں بنتی رہیں، ریاست نے بین المذاہب شادیوں کے خلاف ایک متنازعہ قانون بنایا اور ان ریستورانوں اور دکانوں کو اپنی مرضی سے بند کر دیا گیا جو گوشت بیچتے تھے اور جن کو اکثر مسلمان ہی چلاتے تھے۔

خدشہ ہے کہ ان کے دوسرے دورِ اقتدار میں ریاست کے چار کروڑ مسلمانوں کے لیے زمین مزید تنگ ہو جائے گی۔

اپنی سیاسی اہمیت کے باوجود اتر پردیش ملک کی سب سے بدحال ریاستوں میں سے ایک ہے۔ گذشتہ پانچ برسوں میں یہ اور پیچھے چلی گئی ہے۔ اس کی معیشت گری ہے، بے روز گاری بڑھی ہے، ضروری اشیائے خوردونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں اور خواتین کے خلاف بہیمانہ جرائم کی وجہ سے ریاست لگاتار شہ سرخیوں میں رہی ہے۔

گذشتہ سال کووڈ 19 سے بچاؤ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات اور علاج کی سہولیات میں ناقص انتظام کی وجہ سے بھی ریاست خبروں میں رہی تھی، جہاں ہزاروں افراد علاج کی سہولت، آکسیجن وغیرہ نہ ملنے کے باعث ہلاک ہوئے اور جہاں دن رات چتائیں جلتی رہیں اور انڈیا کا مقدس دریا گنگا لاشوں سے بھر گیا۔

لیکن شہریوں کے احتجاج اور مایوسی کے باوجود بی جے پی اس اہم ریاست میں بھاری فتح حاصل کرتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔

شرت پردان ایک سینیئر صحافی ہیں جنھوں نے یوگی ادیتہ ناتھ پر ایک حالیہ کتاب لکھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ یوگی اپنے ووٹروں کو یہ بات سمجھانے میں کامیاب رہے ہیں کہ ان کے دورِ اقتدار میں ریاست نے ترقی کی ہے، ’چاہے وہ آدھے سچ اور جھوٹے دعؤوں پر ہی منحصر ہو۔‘

پروپیگینڈا میں بی جے پی کو کوئی نہیں ہرا سکتا۔ پارٹی نے یوگی ادیتہ ناتھ کی ’کامیابیوں‘ کی تشہیر کے لیے ساڑھ چھ ارب روپے خرچ کیے ہیں، اگرچہ ان میں سے بہت سے پراجیکٹ صرف کاغذوں میں ہیں۔

انھوں نے ماضی کی حکومتوں کے پراجیکٹس کو بھی اپنا کہہ کر پیش کیا ہے، جیسا کہ لکھنؤ میٹرو، خواتین کی ہیلپ لائن، ایک ایکپریس وے اور کرکٹ سٹیڈیم۔

وہ کہتے ہیں کہ بی جے پی نے یہ بھی بیانیہ قائم کیا ہے کہ صرف وہی امن و امان قائم کر سکتی ہے اور خواتین کو تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سب سے بڑھ کر یہ ہے کہ ادتیہ ناتھ کی جیت نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ ووٹروں کو مذہبی بنیادوں پر تقسیم کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔

’ان کے پاس بیچنے کی اہم چیز ہندوتوا ہے۔ ان کے کٹر حمایتیوں کے لیے یہ اہم نہیں ہے کہ یوگی ادتیہ ناتھ ان کے لیے کیا کرتے ہیں، بلکہ یہ کہ وہ مسلمانوں کے خلاف کیا کرتے ہیں، جنھیں وہ شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ اور یہ دلیل کارگر ثابت ہوئی ہے۔‘

گورکھپور کے ایک صحافی امیش پاتھک کہتے ہیں کہ لگتا ہے کہ حکومت نے ریاست میں جو فلاح و بہبود کی سکیمیں شروع کی تھیں انھوں نے بھی ووٹروں کو قائل کیا ہے۔

سنہ 2020 میں عالمی وبا کے آغاز کے بعد حکومت نے 15 کروڑ لوگوں میں مفت راشن تقسیم کیا ہے اور غریب خاندانوں کے ہزاروں گھر اور ٹوائلٹس بنانے میں مدد کی ہے۔

پاتھک کہتے ہیں کہ ان کے نیچے مقامی انتظامیہ نے بہت کام کیا ہے۔ یوگی بہت زیادہ کام کرنے والے ہیں، وہ ترقیاتی سکیموں کی کارکردگی جاننے کے لیے باقاعدہ میٹنگز کرتے ہیں جس کی وجہ سے سرکاری اہلکار مستعد رہتے ہیں۔

سنہ 2017 میں یوگی کو وزیرِ اعلیٰ بنائے جانے کے فیصلے نے سب کو حیران کر دیا تھا۔ 80 ممبر پارلیمان والی اہم سیاسی ریاست کی بھاگ ڈور سنبھالنے کے لیے وزیرِ اعظم مودی کے پاس اپنی ایک علیحدہ پسند تھی، لیکن یوگی کو ہندو قوم پرست گروپ آر ایس ایس کے اصرار پر وزیرِ اعلیٰ بنایا گیا۔

نریندر مودی بھی کبھی آر ایس ایس کے رکن ہوا کرتے تھے۔ ان کے حمایتی کہتے ہیں کہ اس مرتبہ پارٹی کے لیے بھاری جیت یوگی کو مزید مضبوط بنا دے گی۔

لیکن کیا ایسا ہو گا؟

گذشتہ ہفتے گورکھپور کے ریاستی دارالحکومت میں افواہیں گرم تھیں کہ یوگی اور بی جے پی کی اعلیٰ قیادت کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں۔ پارٹی کے ایک سینیئر رہنما نے مجھے بتایا کہ یوگی کے عزائم کی وجہ سے پارٹی قیادت کچھ خائف ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کے اقتدار میں آنے کے چھ مہینے کے بعد ہی ایسی افواہیں آنا شروع ہو گئی تھیں کہ اگلے وزیرِ اعظم وہ بنیں گے اور یہ مودی کو اور نہ ان کے سیکنڈ ان کمانڈ امت شاہ کو پسند آیا جو انھیں ایک حریف، ایک خطرہ تصور کرتے ہیں۔

ادتیہ ناتھ نے بھی اپنے کافی دوستوں کو خود سے دور کیا ہے، اور ان میں سے ایک کا کہنا ہے کہ پارٹی کے اندر بھی کئی لوگ کام کر رہے ہیں کہ ان کی ہار کو یقینی بنایا جائے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’سیاست اکیلے فرد کا کھیل نہیں ہے، آپ کو ٹیم پلیئر ہونا چاہیے، لیکن وہ بہت سخت ہیں۔ سیاست پتنگ اڑانے کی طرح ہے، آپ کو ڈور کھینچنی اور ڈھیلی کرنا پڑتی ہے، اگر آپ اسے صحیح وقت پر ڈھیلی نہیں کریں گے تو یہ کٹ جائے گی۔‘

لیکن یوگی ادتیہ ناتھ کے ساتھ تین دہائیوں تک مندر میں بطور ان کے نائب کام کرنے والے دوارکا تیواری سبوتاژ کے افواہوں کو نظر انداز کرتے ہیں۔

انھوں نے مجھے بتایا کہ ’یہ ایک بڑی ریاست ہے، آپ ہر کسی کو مطمئن نہیں کر سکتے، لیکن وہ ہمیشہ اچھی نیت سے عمل کرتے ہیں اور جو کام بھی شروع کیا اس میں کامیاب ہوئے۔ انھوں نے گورننس، نوکریاں دینے اور ریاست چلانے کے طریقوں میں شفافیت لائی ہے۔ لوگ ان کی حکومت سے ناخوش نہیں ہیں۔‘ انھوں نے اصرار کیا کہ پارٹی انھیں دوبارہ وزیرِ اعلیٰ نامزد کرے گی۔

وہ پوچھتے ہیں کہ ’انھیں کیوں نہ دوبارہ نامزد کیا جائے گا؟ اگر آپ کا بچہ کلاس میں سب سے آگے ہے، آپ کیوں سمجھیں گے کہ وہ امتحان پاس نہیں کرے گا؟‘

تاہم صحافی شرت پردھان کہتے ہیں کہ پارٹی میں اختلافات کی خبریں حقیقی ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ ’یوگی کو مودی کے خلاف بہت زیادہ منحرف سمجھا جاتا رہا ہے لیکن اگر پارٹی نے ریاست میں ان کا اثر و رسوخ کم کرنا ہے تو پھر انھیں ان کو مرکز میں کوئی وزارت دینی پڑے گی تاکہ انھیں راضی کیا جائے۔

’وہ انھیں مکمل طور پر فراموش نہیں کر سکتے کیونکہ وہ مرکزی قیادت کے لیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں۔‘

پانچ سال پہلے یوگی ادتیہ ناتھ کو ’بی جے پی کا کل‘ کہا جاتا تھا۔ عمر بھی ان کا ساتھ دے رہی ہے، 49 سال کے یوگی نریندر مودی سے 20 سال چھوٹے ہیں اور بہت سے لوگ سوچتے ہیں کہ وہ کب وزیرِاعظم کی سیٹ کا دعویٰ کرتے ہیں۔ آج لگتا ہے کہ وہ اس کے مزید قریب پہنچ چکے ہیں۔

گیتا پانڈے. بی بی سی نیوز، دہلی