اترپردیش میں مدرسہ ڈھادیا گیا : ویڈیو دیکھیں

1,500

امیٹھی : زرعی زمین پر بنے ایک غیرقانونی مدرسہ کو امیٹھی انتظامیہ نے پیر کے دن ڈھادیا۔ اترپردیش پولیس کے ایک سینئر عہدیدار نے یہ بات بتائی۔ضلع مجسٹریٹ (کلکٹر) راکیش کمار مشرا نے کہا کہ اس عمارت میں گزشتہ 2 سال سے کوئی پڑھائی نہیں ہورہی تھی۔سپرنٹنڈنٹ پولیس جی ایلامارن نے کہا کہ ٹانڈا۔ باندہ قومی شاہراہ پر گوری گنج علاقہ میں زرعی زمین پر قبضہ کرکے غیرقانونی طورپر یہ مدرسہ تعمیر ہوا تھا۔گزشتہ 30 سال سے یہ غیرقانونی طورپر چل رہا تھا اور عدالت میں عرصہ سے مقدمہ زیرسماعت تھا۔ عدالت کے حکم پر ضلع انتظامیہ اور پولیس کی مشترکہ ٹیم نے اسے ڈھادیا۔

لیکھ پال کی رپورٹ کے بعد تحصیل انتظامیہ نے مدرسہ مالک کو نوٹس بھی جاری کر دیا۔ اس کے بعد پیر کی صبح تقریباً پانچ بجے پانچ تھانوں کے ایس ڈی ایم، سی او اور پولیس فورس کی موجودگی میں جے سی بی کی مدد سے مدرسے کو منہدم کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ انتظامیہ نے مدرسہ کے مالک حسن پتر سلطان پر 2 لاکھ 24 ہزار کا جرمانہ بھی عائد کیا ہے۔ جس گاؤں میں مدرسہ بنایا گیا وہ مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔

مدرسے کے انہدام پر امیٹھی کے ڈی ایم راکیش مشرا نے کہا ہے کہ یہ کارروائی عدالت کے حکم پر کی گئی ہے۔ شاہراہ کے کنارے ایک قیمتی زمین تھی جس پر مدرسہ بنایا گیا تھا۔ اسی وقت پولیس سپرنٹنڈنٹ ایلا مارن نے کہا کہ موقع پر امن و امان کی کوئی صورتحال نہیں ہے۔ احتیاط کے طور پر بڑی تعداد میں پولیس فورس کو تعینات کیا گیا تھا۔

دس گاؤں کے بچے پڑھتے تھے۔

مدرسہ انتظامیہ کے بیٹے شکیل احمد کا کہنا ہے کہ یہاں 8-10 گاؤں کے بچے پڑھنے آتے تھے۔ مدرسہ میں مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ انگریزی اور ہندی بھی پڑھائی جاتی تھی۔ لیکن آج انتظامیہ نے مدرسہ کو خالی کر کے گرا دیا ہے۔

مدرسہ 2009 سے چل رہا تھا۔

چراگاہ کی زمین پر بنایا گیا یہ مدرسہ سال 2009 سے چل رہا تھا۔ مدرسہ میں تقریباً 125 بچے دینی تعلیم حاصل کر رہے تھے۔ اس مدرسے کا مقدمہ گوری گنج تحصیلدار کورٹ میں 2018 سے چل رہا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ تنازعہ کی وجہ سے مدرسہ کو پچھلے دو سال سے نہیں چلایا جا رہا تھا۔