سپریم کورٹ نے کل اس درخواست کو خارج کردیاجس میں اتر پردیش میں مبینہ طور پر آئینی نظام کو ختم کرنے اور بڑھتے ہوئے جرائم کا حوالہ دیکروہاں صدر راج نافذ کرنے کی اپیل کی تھی۔ عدالت عظمیٰ نے درخواست گزارایڈووکیٹ پر جرمانہ عائد کرنے کا چیلنج دیا اور ان سے دوسری ریاستوں کے جرائم کے ریکارڈ پر تحقیق سے متعلق سوالات

پوچھے گئے۔چیف جسٹس ایس اے بوبڈے اور جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس وی راما سبرامنیم کی بنچ نے درخواست گزار وکیل سی آر جیا سکن کو بتایا کہ وہ جو دعوے کررہے ہیں اس پر کوئی تحقیق نہیں ہوئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ان کے بنیادی حقوق کی پامالی کس طرح کی جارہی ہے۔سکین نے نیشنل کرائم ریکارڈز بیورو اور نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن

کے اعداد و شمار کا حوالہ دیااور کہا کہ انہوں نے تحقیق کی ہے اور اترپردیش میں جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔ بنچ نے کہاکہ آپ نے کتنی ریاستوں میں جرائم کے ریکارڈ کا مطالعہ کیا ہے؟کیا آپ نے دیگر ریاستوں کے جرائم کے ریکارڈ کا مطالعہ کیا ہے؟ دیگر ریاستوں میں جرائم ریکارڈ پر آپ کی تحقیق کیا ہے؟ ہمیں دکھائیں کہ آپ کس بنیاد پر یہ کہہ رہے ہیں . عدالت نے کہا ان کے ذریعہ کئے گئے دعووں کے سلسلے میں کوئی تحقیق نہیں کی گئی۔


اپنی رائے یہاں لکھیں