چمولی / دہرادون ، 7 فروری (یواین آئی ) اتراکھنڈ کے ضلع چمولی کے رینی گاؤں میں اتوار کے روز گلیشیر ٹوٹنے کے باعث سیلاب آنے سے کم از کم 150فراد کے ہلاک ہونے کا خدشہ ہے۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق گلیشیر ٹوٹنے کی وجہ سے 13.3 میگاواٹ رشی گنگا پن بجلی پروجیکٹ مکمل طور پر تباہ گیا اور الیکندہ ندی میں آبی سطح میں اضافے کی وجہ سے سیلاب آگیا۔

پولیس کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی پی) اشوک کمار نے بتایا کہ رشی گنگا پن بجلی منصوبہ میں کام کرنے والے کئی لوگ بہہ گیا ، ملبے میں پھنسے لوگوں کو بچایا جا رہا ہے ۔ پولیس اور اسٹیٹ ڈیزاسٹر ریسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کی ٹیمیں موقع پرپہنچ گئیں ۔ سیلاب کا پانی کرن پریاگ پہنچ گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم جانی و مالی نقصانات کو روکنے کے لئے پوری کوشش کر رہے ہیں۔


ڈی جی پی نے بتایا کہ تپوون ڈیم میں پھنسے 16 افراد کو پولیس نے باہر نکال لیا ہے اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آج صبح 10.45 بجے سلاب آ یا اور چمولی میں دو ڈیم کو اس سے نقصان پہنچا ہے۔ قدرتی آفت کے بعد ریاست کی ڈیزاسٹر منیجمنٹ راحت و بچاؤ کے کاموں میں مصروف ہے ۔ ڈی جی پی مسٹر کمار نے بتایا کہ ندی کے کنارے واقع بہت سے مکانات اور جھونپڑیاں تیز بہاؤ میں بہہ گئی ہیں ۔ سلا ب کے راستے میں آنے والے کئی راستے میں پیڑ بہہ گئے ہیں ۔


رشی گنگا اور الیکندا کی بڑھتی ہوئی آبی سطح کی کو کم کرنے کے لئے ملک کے سب سے بلند ترین ٹہری ڈیم سے پانی کے بہاؤ کو فی الحال روک دیا گیا ہے ۔ سری نگر ڈیم سے پانی کا بہاؤ تیزی سے بڑھنے اور تیز پانی کے بہاو کی وجہ سے ندی کنارے کے تمام دیہاتوں اور نشیبی علاقوں کو فوری طور پر خالی کرا لیا گیا ہے۔


اتراکھنڈ کے وزیر اعلی تریویندر سنگھ راوت موقع پر پہنچ گئے ہیں اور لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اس قدرتی آف کی ویڈیو شیئر کرکے افواہیں نہ پھیلائیں ۔ وزیر اعظم نریندر مودی ، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ اور مرکزی وزیر برائے ماحولیات ، جنگل و موسمیاتی تبدیلی پرکاش جاوڈیکر نے بھی وزیر اعلی سے فون پر معلومات حاصل کی ۔