بیجنگ :17نومبر ۔(ایجنسیز)چین نے ایک ایسا مصنوعی سورج بنایا ہے، جس کا درجہ حرارت اصلی سورج سے تین گنا زیادہ ہوگا۔ اصلی سورج سے تین گنا گرم یہ آٹریفیشیل سورج چین کے انسٹی ٹیوٹ آف فزیکل سائنس کے سائنسداں نے بنایا ہے۔ اسے’ دی ایکسپیریمنٹل ایڈوانس سپر کنڈکٹنگ ٹوکاماک‘ نام دیا گیا ہے۔مصنوعی سورج بنانے کے لئے ہائڈروجن گیس کو 5 کروڑ ڈگری سیلسیئس کے درجہ حرارت پر گرم کر، اس درجہ حرارت کو 102 سکینڈ تک رکھا گیا۔ واضح ہو کہ اصلی سورج میں ہیلیم اور ہائڈروجن جیسی گیسیز زیادہ درجہ حرارت پر مزید ایکٹیو ہو جاتی ہیں۔ ڈیوٹیریم اور ٹٹیریم ریڈ درجہ حرارت بناتا ہے۔ سورج میں فیوجن کے دوران بھی توانائی نکلتی ہے۔ مصنوعی سورج میں بھی اسی طریقہ کو اپنایا گیا ہے۔یہ ایجاد اس پروجیکٹ کا حصہ ہے جس کے تحت جوہری فیوجن سے صاف اور اچھی توانائی حاصل کی جا سکے۔ مانا جا رہا ہے کہ اس مصنوعی سورج سے فوسل ایندھن پر انحصاری کم ہوگی۔ یہ بھی مانا جا رہا ہے کہ اس سورج میں پیدا کی گئی جوہری توانائی کو خاص تکنیک سے ماحول کے لئے محفوظ گرین توانائی میں بدلا جا سکےگا۔ جس کے سبب زمین پر توانائی کی بڑھتی پریشانی طریقوں سے دور کی جا سکے گی۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔ 


اپنی رائے یہاں لکھیں