متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف دہلی کی سرحدوں پر کسانوں کی تحریک کو تقریباً ڈھائی مہینے ہو گئے ہیں اور فی الحال یہ تحریک ختم ہوتی ہوئی نظر بھی نہیں آ رہی ہے۔ اس درمیان مودی حکومت کے ذریعہ پاس کردہ زرعی قوانین کے خلاف ’کسان تحریک‘ کا عکس اب شادی کے کارڈ پر بھی نظر آنے لگا ہے۔

دراصل ہریانہ کے کچھ کسانوں نے حکومت کے خلاف اپنی ناراضگی ظاہر کرنے کا ایک نیا طریقہ اختیار کیا ہے، اور وہ اپنے بچوں کی شادی کے کارڈ پر ایسے نعرے شائع کر رہے ہیں جو کسانوں کی آواز بلند کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ مثلاً ایک شادی کارڈ پر’کسان نہیں، تو اَن (فصل) نہیں‘ نعرہ لکھا دیکھا گیا۔

میڈیا میں آ رہی خبروں کے مطابق کچھ شادی کارڈس پر کسانوں کے حق میں نعرہ لکھے جانے کے ساتھ ساتھ کسان لیڈر سر چھوٹو رام کی تصویر بھی چھپوائی جا رہی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ کسانوں کے مسیحا مانے جانے والے سر چھوٹو رام کی پیدائش 24 نومبر 1881 کو ہوئی تھی اور برطانوی دور میں انھوں نے کسانوں کے حق میں آواز بلند کی تھی۔

دھونڈریہڑی گاؤں کے کسان پریم سنگھ گویت بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جنھوں نے شادی کارڈ پر نعرہ کے ساتھ سر چھوٹو رام کی تصویر شائع کی ہے۔ ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی لائیو‘ پر شائع ایک خبر کے مطابق پریم سنگھ گویت نے اپنے بیٹے کی شادی کے کارڈ پر کسان تحریک کی حمایت میں نعرہ اور تصویر شائع کی