ایودھیا :ایک طرف ایودھیا میں عظیم الشان رام مندر تعمیر کا عمل زور و شور سے جاری ہے، اور اب ایسی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ ایودھیا میں ’شری رام یونیورسٹی‘ قائم کرنے کا منصوبہ بھی تیار کیا جا رہا ہے۔ اتر پردیش کے نائب وزیر اعلیٰ دنیش شرما نے اس سلسلے میں اطلاع دی اور اعلان کیا کہ ایودھیا میں جلد شری رام یونیورسٹی قائم کرنے کا عمل شروع ہوگا۔ یہاں قابل ذکر ہے کہ نائب وزیر اعلیٰ دنیش شرما کے پاس وزارت برائے اعلیٰ تعلیم بھی ہے، اور شری رام یونیورسٹی قائم کرنے کو لے کر وہ بہت پرجوش ہیں۔

خبر رساں ادارہ آئی اے این ایس کی ایک خبر کے مطابق 5000 کروڑ روپے سے زیادہ کے اس پروجیکٹ کی تجویز نجی سیکٹر سے آئی ہے او راس یونیورسٹی کے 2022 تک شروع ہونے کا امکان ہے۔ اس مجوزہ یونیورسٹی میں ویدک ریاضی، جیوتش کیندر، کرم کانڈ (پنڈتوں کے ذریعہ منعقد پوجا اور ہوَن خدمات) پڑھائے و سکھائے جائیں گے۔ ساتھ ہی گیتا، ویدک اور رامائن سمیت دیگر مذہبی گرنتھوں پر ریسرچ ہوگا۔

نائب وزیر اعلیٰ دنیش شرما نے اس سلسلے میں بتایا کہ ’’یونیورسٹی کی تجویز دینے والے نجی سیکٹر سے جڑے شخص نے ایودھیا میں 50 ایکڑ سے زیادہ زمین پر یونیورسٹی قائم کرنے کی تجویز دی تھی، جسے ضلع مجسٹریٹ نے منظوری دے دی ہے۔ یہاں تک کہ ریاستی یونیورسٹیوں کی ایک کمیٹی نے بھی اس کے حق میں رپورٹ دی ہے۔ اگر وہ سبھی ضروری خانہ پری مکمل کر دیں تو جلد ہی یونیورسٹی شروع ہو جائے گی۔‘‘

دنیش شرما نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’مذہبی گرنتھوں (صحیفوں) پر ریسرچ کرنے کے لیے یہ ایک بڑا ادارہ بن جائے گا۔ ویسے بھی اس یونیورسٹی کے قیام کا مقصد علم کے قدیم اور روایتی خزانے کا تحفظ کرنا، فروغ دینا اور نوجوانوں میں ثقافتی جڑوں کو مضبوط کرنا ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’ہم ایودھیا کو ایک روحانی شہر کی شکل میں وسعت دینا چاہتے ہیں۔ اس یونیورسٹی کے ذریعہ ہم ان چیزوں کو واپس لانے کی کوشش کر رہے ہیں جنھیں بھلایا جا رہا ہے۔‘‘