دبئی۔ متحدہ عرب امارات کے ولی عہد الشیخ محمد بن زاید آل نیان نے سوشل میڈیا پر سامنے آنے والی اس لڑکی سے رابطہ کیا جو گاڑیوں کی مرمت کرتی دیکھی گئیں۔ ولی عہد محمد بن زاید آل نیان نے گاڑیوں کی مرمت کرنے والی ھدیٰ المطروشی سے رابطہ کیا اور مزاحیہ انداز میں اس سے بات کی۔ یہ گفتگو المطروشی کے لیے خوش گوار حیرت سے کم نہ تھی۔ ھدیٰ المطروشی ایک ایسے پیشے سے منسلک ہیں جس میں اب تک مردوں کا غلبہ رہا ہے۔ اماراتی ولی عہد نے ھدیٰ المطروشی کو فون کیا مگر اپنی شناخت ظاہر نہیں کی۔ المطروشی گاڑیوں کی مرمت کی ایک ورکشاپ چلاتی ہیں۔ الشیخ محمد بن زاید نے کہا کہ میرے پاس ایک گاڑی ہے اور میں آپ سے اس کی مرمت کرانا چاہتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب میں نے سنا کہ ھدیٰ المطروشی نامی لڑکی گاڑیوں کی مرمت کا کام کرتی ہے تو مجھے بہت خوشی ہوئی۔ گفتگو میں الشیخ محمد زاید نے کہا کہ بعض لوگ اوائل عمر میں ہی مثال قائم کر دیتے ہیں۔ ہمیں اپنے ایسے بچوں پر فخر ہے۔ ہم آپ کی حمایت کرتے ہیں اور آپ کو کچھ بھی فراہم کرنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ آپ جیسے لوگ دوسروں کے لیے مثال قائم کریں گے۔ ابوظہبی کے ولی عہد ھدیٰ سے کار مرمت کے کام کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ میں نے 16 سال کی عمر میں یہ کام شروع کیا مگر عملی طور پر یہ کام 2020ء میں شروع کیا تھا،الشیخ محمد بن زاید آل نیان نے ھدیٰ المطروشی سے ساتھ فون ختم کرتے ہوئے ہوئے اپنا تعارف کرایا اور کہا کہ صرف فون کال کافی نہیں بلکہ ہم جلد ملاقات بھی کریں گے۔ دوسری طرف ھدیٰ المطروشی نے الخلیج اخبار کو بتایا کہ جب وہ ابو ظبی کے ولی عہد سے بات کر رہی تھیں تو اس کی خوشی کی انتہا نہیں تھی۔ اس کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو نکل پڑے تھے۔ اس کا کہنا تھا کہ مجھے ہمیشہ یہ فخر رہے گا کہ ریاست کے ولی عہد نے خود فون کرکے میری حوصلہ افزائی کی ہے۔


اپنی رائے یہاں لکھیں