Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

"ابلیس” کب اور کیسے مرے گا __؟؟

IMG_20190630_195052.JPG

اس تحریر کو پڑھنے کے بعد آپ کے دلوں کی کیا کیفیت ہےآپ کو ضرور اندازہ ہوجائے گا۔

احنف بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے ملاقات کے لئے ایک مرتبہ مدینہ منورہ جانا ہوا ۔ ایک مجمع میں حضرت کعب احبار رضی اللہ عنہ کو تقریر کرتے ہوئے دیکھا تو میں بھی بیٹھ گیا وہ فرمارہے تھے کہ حضرت آدم علیہ السلام نے وفات کے وقت اللہ تعالیٰ سے عرض کیا یا اللہ میری موت سے میرا ازلی دشمن ( ابلیس) بہت خوش ہوگا، اس کو تو قیامت تک زندہ رہنا ہے ، جواب ملا آدم تم انتقال کے بعد جنت میں چلے جاؤگے اور وہ ملعون قیامت تک دنیا ہی میں رہے گا ،آخر میں اس کو موت آئے گی تاکہ ساری دنیا کے لوگوں کے برابر موت کی تکلیف اٹھائے۔ آدم علیہ السلام نے ملک الموت سے فرمایا: ابلیس کی موت کا منظر مجھے بھی کچھ بتاؤ ۔ فرشتہ نے سنانا شروع کیا تو وہ اتنا دردناک تھا کہ آدم علیہ السلام سن نہ سکے۔

فرمایا بس کرو اب نہیں سنا جاتا، اتنا فرماکر حضرت کعب رضی اللہ عنہ خاموش ہوگئے ۔ لوگوں نے کہا حضرت کچھ ہمارے سامنے بھی اس کی موت کا منظر بیان فرمائیں ۔ پہلے تو انکار کیا مگر لوگوں کے بیحد اصرار پر فرمایا:

جب قیامت قریب آئے گی لوگ حسبِ عادت بازاروں میں مشغول ہوں گے۔ اچانک ایک زور دار دھماکہ ہوگا جس سے بہت سے لوگ بے ہوش ہوجائیں گے ۔اللہ تعالیٰ ملک الموت سے فرمائیں گے، میں نے سب سے زیادہ تمہارے مدد گار ومعاون بنائے اور تم کو ان سب کے برابر قوت دی ۔ میرے غصہ اور غضب کا لباس پہن کر جاؤ اور ابلیس ملعون کی روح قبض کرو اور اس کے ساتھ تمام انسانوں اور جنوں سے زیادہ سختی کرنا اور مالک ( داروغہ جہنم ) سے کہو کہ جہنم کے دروازے کھول دے۔

ملک الموت غیض وغضب میں بھرے بہت سے فرشتوں کے ساتھ دنیا میں اسی طرح آئیں گے کہ آسمان و زمین والے دیکھ لیں تو خوف کے مارے پگھل جائیں ۔ ابلیس کے پاس پہنچ کر بہت زور سے ڈانٹ پلائیں گے جس سے ابلیس بری طرح دھاڑیں مار مار کر چیخے گا ، اگر دنیا والے اس کی آواز سن لیں تو بے ہوش ہوجائیں۔

ملک الموت ابلیس سے کہیں گے خبیث تونے بہت طویل عمر پائی اور بے شمار انسانوں کو گمراہ کیا جو تیرے ساتھ جہنم میں جائیں گے ۔آج ان سب کے برابر تجھے موت کا مزہ چکھاؤں گا ۔ تیری مہلت اور ڈھیل کا وقت ختم ہوچکا اب تو موت سے بھاگ نہیں سکتا ۔

ابلیس گھبرا کر مشرق کی جانب بھاگے گا تو کبھی مغرب کی جانب لیکن ہر طرف اپنے سامنے ملک الموت کو پائے گا ، سمندر میں گھسنے کی کوشش کرے گا تو سمندر نکال پھیکے گا ۔آدم علیہ السلام کے قبر کے پاس کھڑا ہوکر کہے گا ۔اے آدم! تمہاری وجہ سے میں ملعون ومردود بنا، کاش کہ تم پیدا ہی نہ ہوتے ۔ پھر ملک الموت سے کہے گا کتنی سختی اور تکلیف کے ساتھ میری جان نکالو گے ؟ فرمائیں گے جتنے لوگ جہنم میں ہیں ان سب کی موت سے کہیں زیادہ تکلیف اور سختی کے ساتھ ۔ یہ سن کر تڑپنے لگے گا اور چیختا چلاتا اِدھر اُدھر بھاگے گا اور جہاں موت آنی ہے وہاں گر جائےگا وہ جگہ آگ کے انگارے کی طرح سرخ ہوگی اور وہاں جہنم کی کانٹوں والی کنڈیاں لگی ہوں گی ،ان کنڈیوں سے تڑپا تڑپا کر اس کی جان نکالی جائے گی ۔آدم علیہ السلام وحوا علیہ السلام سے کہا جائے گا ذرا اپنے دشمن کو دیکھو کس طرح ذلت کے ساتھ مر رہا ہے وہ دیکھ کر خوش ہوں گے اور کہیں گے “ربنا قد اتممت علینا النعمۃ“ یا اللہ تونے ہم پر اپنی نعمت مکمل فر مادی۔ [تنبیہ الغافلین از ابو لیث]۔ (ماخوذ)