ابراہیم "خلیل اللہ” سے اسمعیل "ذبیح اللہ” تک

6

زمین و آسمان کی ہر چیز اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ اس کائنات کا خالق بس ایک ہی رب ہے ،آسمان میں گردش کرنے والے چاند سورج ستارے و سیارے بھی گواہی دے رہے تھے کہ ہمیں بس ایک ہی رب نے پیدا کیا ہے ۔ بے نمونہ و بے ستون کھڑا آسمان جس میں کوئی شگاف نہیں اور لہلہاتی ہوائیں شور مچارہی تھیں کہ اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو!
جو ستارے اس کائنات کے واحد رب کی شہادت دے رہے تھے ان کے بارے میں تو کچھ اور ہی سرگوشیاں ہونے لگی تھیں!!

زمین کے کسی گوشے میں ایک دربار لگا تھا!
جس کا بادشاہ اپنی خدائ کا زعم لیے رعایا کے ہر فرد پر جلال بناہوا تھا ۔ بادشاہ نمرود!
انتہائ سنگ دل ! ظالم جابر و متکبر بادشاہ!
لیکن یہ کیا کہ آج اس کے دربار میں نجومی غمناک اور سرجھکائے بیٹھے ہیں !
نمرود ذرا پریشاں سا ہوگیا، سوال کیا ۔۔۔

"اے نجومیوں کیا بات ہے کہ تم آج ہراساں نظر آتے ہو؟
نجومی بھلا کس طرح ظالم بادشاہ کو اس کی ہلاکت کی خبر سناتے ۔۔۔ چنانچہ ڈرتے ڈرتے کہنے لگے ۔۔
"اے نمرود! آسمان میں ایک ستارہ نمودار ہوا ہے اور آج سے پہلے ایسا ستارہ کبھی نمودار نہیں ہوا۔ اے نمرود! یہ ستارہ تیری حکومت کے زوال کی خبر دیتا ہے ،تیری رعایا میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو تیری حکومت کا تختہ پلٹ دیگا!”

یہ سن کر تو پہلے نمرود پریشان ہوا اور پھر حکم جاری کر دیا!

"اے مردوں! تم اپنی عورتوں سے الگ رہو اور اس دن کے بعد جو بھی بچہ پیدا ہو اسے قتل کر دیا جائے ۔” ( سورہ الانعام آیت 74 تفسیر ابن کثیر)

حضرت ابراہیم علیہ السلام کی ولادت انہی دنوں میں ہوئی لیکن اللہ پاک نے آپ علیہ السلام کو ظالموں سے محفوظ رکھا۔

ابراہیمؑ کے والد آزر نے نمرود کے ڈر سے آپ کو ایک غار میں چھپا دیا تھا جہاں آپ جوان ہوئے۔
( سورہ الانعام آیت 74 تفسیر ابن کثیر)

آپؑ جب جوان ہوئے تو آزر انھیں گھر واپس لے آیا اور اور آپؑ کا نکاح سارہ علیہ السلام سے کر دیا گیا ۔

ابراہیم علیہ السلام دیکھتے کہ ان کا باپ آزر پتھر کو تراش کر مورتیاں بناتا ہے چنانچہ اپنے باپ سے سوال کرنے لگے،

"اباجان ! یہ کیا ہیں؟”
والد نے کہا ’’ یہ ہمارے خدا ہیں۔‘‘
حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے تعجّب سے کہا’’ یہ کیسے خدا ہیں کہ جن کو آپ پتھر کے ٹکڑوں سے تراش رہے ہیں۔‘‘

لیکن پتھروں کو تراش تراش کر ان کے دل خود پتھر ہوچکے تھے پھر یہ لوگ کہاں سے اس بات کو سمجھتے!

لیکن ابراہیمؑ کو اللہ تعالی نے رشدوہدایت سے نوازا تھا آپ انتہائ بردبار اور سلیم الفطرت انسان تھے اللہ ایسے ہی لوگوں سے محبت کرتا ہے جو تدبر و تفکر سے کام لیتے ہیں۔
قرآن میں بارہا افلاتتدبرون اور افلا تتفکرون” افلا یعقلون کے الفاظ گردش کرتے ہیں۔
چنانچہ ابراہیمؑ ان خداوں سے بیزار آسمان پر نظریں جمائے تدبر کرنے لگے تھے، چاند سورج ستاروں کی ہیئت و ساخت اور ان کی روشنی کو دیکھ کر کہنے لگے کہ "یہ میرے خدا ہیں!” لیکن زیادہ دیر نہ گزری کہ ان کا دل مایوس ہوچکا تھا اور کہتا جاتا یہ "کیسے خدا ہیں جو غروب ہوجاتے ہیں غروب ہونے والے میرے خدا نہیں ہوسکتے !”

نفس لوامہ نے آواز دی اور نفس مطمئنہ لبیک کہہ کر پکار اٹھا ۔۔
( انی وجھت وجھی للذی فطرالمسوات۔۔۔۔الخ)
مَیں نے سب سے یک سُو ہو کر اپنی ذات کو اُس کی طرف متوجّہ کر لیا ہے،جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور مَیں ہرگز مُشرکوں میں سے نہیں ہوں۔‘‘
(سورۂ انعام :79)

لیکن والد کو دعوت حق کی طرف بلانا سب سے بڑا چیلنج تھا چنانچہ ایک دن ابراہیم علیہ السلام اپنے والد سے کہنے لگے،

اِذۡ قَالَ لِاَبِيۡهِ يٰۤـاَبَتِ لِمَ تَعۡبُدُ مَا لَا يَسۡمَعُ وَلَا يُبۡصِرُ وَ لَا يُغۡنِىۡ عَنۡكَ شَيۡـئًـا
” ابّا آپ ایسی چیزوں کو کیوں پوجتے ہیں جو نہ سنیں اور نہ دیکھیں اور نہ آپ کے کچھ کام آسکیں۔
(سورہ مریم 42)

لیکن ہائے بدبختی کہ ان کے باپ کا جواب "لارجمنک واھجرنی” کے سوا کچھ نہ تھا!

باپ اور بیٹے میں زبردست گفتگو ہونے لگی جس کا تفصیلی ذکر سورہ مریم41 تا 48 میں کیا گیا ہے۔
بیٹے نے باپ کو بہترین اور عمدہ طریقے سے دعوت حق دی لیکن باپ نے سوائے سنگسار کردینے کی دھمکی کہ کوئی جواب نہ دیا۔
یہ آپ کی رحم دلی و محبت تھی کہ آپ اپنے والد کو مغفرت کی دعا کی تسلی دیتے رہے لیکن رب ذوالجلال کو ایک مشرک کی مغفرت بالکل ناگوار تھی۔ ابراہیم ع کو ان کے لیے دعائے مغفرت کرنے سے منع کردیا گیا چنانچہ
حدیث شریف میں ہے کہ "قیامت کے دن حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے والد آزر سے ملیں گے تو آزر کے چہرے پر گرد و غبار اور سیاہی ہو گی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام فرمائیں گے: "کیا میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ میری نافرمانی نہ کریں؟” وہ کہے گا ” آج میں نافرمانی نہیں کرونگا” پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام فرمائیں گے: "یارب تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ جس دن لوگ (قبروں سے) اٹھائے جائیں گے، اس دن تو مجھے رسوا نہیں کریگا۔ اس سے بڑھ کر رسوائی کیا ہو گی کہ میرا باپ رحمت سے دور(جہنم میں) جا رہا ہے؟” اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ” میں نے جنت کافروں پر حرام کر دی ہے”۔ پھر فرمایا جائے گا، ائے ابراہیم! ذرا اپنے پیروں کے نیچے دیکھو کیا ہے۔ وہ دیکھیں گے تو ذبح کیا ہوا جانور خون میں لتھڑا ہوا پڑا ہو گا، جسے ٹانگوں سے پکڑ کر دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔
(صحیح بخاری: 3350)

ابراہیمؑ کو جس قوم کی طرف بھیجا گیا تھا وہ لوگ سال میں دو بار بہت بڑا جشن مناتے تھے جب سب لوگ جشن کے لیے نکلنے لگے تو ابراہیمؑ بیماری کا بہانہ بناکر وہیں رک گئے ( انی سقیم۔۔)
سب کے جانے کے بعد آپ نے تمام بتوں کو توڑ ڈالا اور ایک بڑے بت کے ہاتھ میں کلہاڑا دے دیا ۔ اس کا ذکر سورہ انبیاء میں تفصیل سے ملتا ہے
چناچہ آپ کی قوم جب واپس آئی تو سب ابراہیمؑ کو الزام دینے لگے اس وقت ابراہیمؑ بہترین حکمت سے اپنے لوگوں کو دعوت حق دیتے ہوئے کہنے لگے
"بلکہ یہ سب اس بڑے بت نے کیا ہے ، ان ہی سے پوچھ لو اگر یہ بولتے ہیں۔”
ان کی اس بات کو سن کر سب اپنے نفسوں کی طرف پلٹے کہ آخر یہ کیسے کرسکتا ہے ۔۔۔؟
لیکن ہائے بدبختی ان پتھر تراشنے والوں کے دل پتھر ہوچکے تھے ،سوائے آپ کی بیوی سارہؑ اور لوط علیہ السلام کے جو آپ کے بھتیجے تھے آپ پر کوئی ایمان نہ لایا۔
دعوت ایمان دینے والوں کے ساتھ ہمیشہ یہی ہوتا ہیکہ یا تو زندان کی نذر کردیا جاتا ہے یا آگ کے گڑھوں کی غذا بنا دیا جاتا ہے۔
چنانچہ آپ کو آتش دان کی نذر کرنے کا فیصلہ کردیا گیا۔
آگ کا الاو تیار کیا جانے لگا لیکن ابراہیم ع کا ایمان ذرا بھی متزلزل نہ ہوا۔
اس دوران نمرود نے ابراہیم ع سے پوچھا "اے ابراہیمؑ تیرا رب کون ہے؟”
ابراہیمؑ نے جواب دیا "وہی جو مردے کو زندہ کرتا ہے اور سورج کو مشرق سے نکالتا ہے پس اگر تو خدا ہے تو سورج کو مغرب سے نکال لا !!”
نمرود ششدر رہ گیا ! لیکن اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا (القران)

ادھر آپ کو جلانے کا سامان ہوچکا تھا آپ کو آگ میں پھینکنے کے لیے منجنیق تیار کی جاچکی تھی یہ ہیزن نامی ایک شخص نے تیار کی تھی جو اس سے پہلے کبھی نہیں بنائی گئ تھی۔
( سورہ الانبیا 68 تفسیر ابن کثیر )

لوگوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو پکڑ کر باندھ دیا اور مشکیں کَس دیں۔
لیکن ہائے ابراہیم!
تیرا عشق تو بے مثال تھا اس وقت بھی اپنے رب سے امید باندھے اسی کو پکار رہا تھا،
"(ائے اللہ!) تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں، تو پاک ہے، جہانوں کے مالک! تیری ہی تعریف ہے، تیری ہی بادشاہی ہے اور تیرا کوئی شریک نہیں۔”
آسمان و زمین لرز اٹھے تھے فرشتوں کو ابراہیم کے عشق پر رشک آرہا تھا منجیق آگ کے قریب لے جائی جارہی تھی
آگ بھی ایسی کہ شعلے آسمان کو جاپہنچتے!

ایسے میں بارش کا فرشتہ نمودار ہوتا ہے کہ
"اے ابراہیم ع! آپ کہیں تو میں پانی برسادوں؟”
ابراہیم نے پوچھا، "کیا تمھیں اللہ نے بھیجا ہے؟”
کہا، "نہیں!”
پھر جبرائیل ع نمودار ہوئے،
"اے ابراہیم ع! آپ کو کوئ حاجت ہے؟”
کہا، "کیا آپ کو اللہ نے بھیجا ہے؟”
کہا، "نہیں!”
ابراہیم نے کہا، "جس نے مجھے پیدا کیا اور جس کے سب محتاج ہیں میں اسی رب العالمین کا محتاج ہوں وہ علیم بھی ہے اور خبیر بھی ۔”
(الانبیا 68 – تفسیر ابن کثیر)

بس پھر ہونا کیا تھا

بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق!

آہ ابراہیمؑ !! تیرے رب نے تجھ سے دوستی کرلی تجھے خلیل اللہ کا لقب دے دیا گیا تیرے آگ میں کودنے سے قبل ہی تجھ پر آگ کو ٹھنڈا کردیا گیا۔
"یا نارکونی بردو وسلام علی ابراہیم ۔”
"اے آگ ابراہیم علیہ السلام پر ٹھنڈی ہوجا اور سلامتی والی بن جا!۔
سلام ہو ابراہیمؑ پر !”

لیکن آزمائشوں کا سلسلہ ابھی کہاں ختم ہونے والا تھا آپ آگ سے تو صحیح سلامت نکل آئے لیکن پتھر دل لوگ پھر بھی ایمان نہ لائے۔
پھر آپ وہاں سے اللہ کے حکم سے ہجرت کرگئے۔ آپ کو خدا نے ۶۸ چھیاسی برس تک کوئی اولاد نہ دی تھی بڑھاپے سے ہڈیاں گلتی جارہی تھی آپ نے ہاجرہ علیہ سے نکاح کیا تھا اور اللہ سے دعا کرتے جاتے۔

"ربی ھب لی من الصالحین”
اے میرے رب مجھے صالح لڑکا عطا کر۔
اس دعا کو بڑھاپے کی عمر میں شرف قبولیت عطا ہوا۔
آپ کے یہاں اسمعیلؑ پیدا ہوئے
ابراہیم علیہ السلام کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا آپ شکر گزاری میں سجدہ ریز ہوگئے۔
لیکن آہ! آزمائش !!
خداوند تعالی کو یہ بھی کہاں منظور تھا کہ اسکے خلیل کے دل میں رب سے زیادہ بیٹے کی محبت بس جائے،
حکم ہوتا ہے "جا اپنی بیوی اور بچے کو مکہ کی وادی میں چھوڑ آ۔”
خلیل اللّٰہ نے ایک لمحہ بھی نہ سوچا اور خدا کے حکم پر راضی ہوگئے، بیوی بھی ایسی فرمانبردار کہ اف نہ کیا اور رب تعالی کے حکم اور شوہر کی اطاعت میں سر تسلیم خم کردیا۔
آہ آزمائش پھر بھی کہاں تھمنے والی تھی!
اسمعیلؑ جوان ہوچکے تھے
ان کی والدہ نے تن تنہا ان کی پرورش کی تھی اور تربیت بھی ایسی کی ابراہیم خلیل اللہ کے لخت جگر اسمعیل، ذبیح اللہ بننے والے تھے۔
ابراہیمؑ اپنے بیٹے کو تلاش کرتے ہوئے مکہ آگئے اور اپنے بیٹے سے خوب محبت کرنے کے بعد کہنے لگے،
"اے میرے بیٹے میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں !”
بجائے اس کے کہ اپنے والد سے لڑتے اور یہ کہتے کہ آپ نے تو بچپن ہی میں مجھے اور میری والدہ کو بے آب و گیاہ میدان میں چھوڑ دیا تھا اسمعیل کا جواب تو رونگٹے کھڑے کردینے والا تھا!!

"یاابت افعل ماتومر ستجدنی ان شاءاللہ من الصابرین” (الصافات)
"اے ابا جان آپ کر گزریے جو ٘آپ کو حکم دیا جاتا ہے ان شاءاللہ آپ مجھے صابروں میں سے پائیں گے !”

ہائے!!!!
یہ فیضانِ نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھاۓ کس نے اسمعیل کو آدابِ فرزندی!

آہ!! اسمعیل ذبح ہونے کے لیے تیار کھڑے ہیں۔ باپ بیٹے قربانی کے لیے چلتے جارہے ہیں۔
لیکن یہ کیا کہ آنسوؤں سے تر اور غمزدہ دل لیے بوجھل آواز سے کوئی روئے جارہا ہے اور کہتا جاتا ہے،
"نہیں ابراہیمؑ یہ تیرا لاڈلا ہے تیرے بڑھاپے کا سہارا ہے ایسا مت کر ،
نہیں اسمعیلؑ تو اس شخص کی بات نہ مان جو تجھے بچپن ہی میں چھوڑ گیا تھا۔
یہ شیطان تھا جو وسوسہ ڈالنے آیا تھا اور ابراہیمؑ کی تو زندگی اس شیطان کو مایوس کرنے میں گزری تھی _ ابلیس لعین شیطان مایوس ہوکر چلا گیا۔

پھر وہ منظر۔۔۔ وہ خوفناک منظر بھی سامنے آیا جب ابراہیمؑ اپنے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹا چکے تھے۔

فلما اسلما و تلہ للجبین
اور دونوں نے رب کا حکم مان لیا اور بیٹے کو ماتھے کے بل لٹادیا۔
( الصافات)

چھری گردن پر رکھی جاچکی تھی، ابراہیمؑ آنکھیں موندے گردن مبارک پر چھری چلانے والے ہیں
ہاتھ ہے کہ حکم خداوندی پر چلنے کو تیار ہے گردن ہیکہ حکم خداوندی پر کٹنے کو تیار ہے۔۔۔ کہ
آواز آتی ہے
اے ابراہیمؑ ۔۔۔۔۔!!
"قد صدقت الرءیا
تو نے اپنا خواب سچ کر دکھایا ۔۔
ابراہیم ،خلیل اللہ کا تو اسمعیلؑ ،ذبیح اللہ کا لقب پا چکے تھے۔
آہ ابراہیمؑ تجھے تیرے رب نے خوب آزمایا اور تو کامیاب ہوگیا !

اللہ نے ان کی قربانیوں کو ضائع نہ کیا۔ اس قربانی کو رہتی دنیا تک اسلامی شعار بنادیا۔

انا کذالک نجزی المحسنین_

اور یہ دنیا !!

اصل قربانی پر غور کرنے سے قاصر دنیا!!

فورمیلٹیز نبھانے والی دنیا!!

عارضی چیزوں میں اُلجھی دنیا!!

الغرض یہ کہ اصل قربانی تو باپ بیٹے کی گفتگو تھی۔۔۔۔
آج دنیا کو جانوروں کا ذبح کرنا یاد رہا اور
وہ ایمان سے لبریز رب تعالیٰ کے حکم پر سر جھکا دینے والی گفتگو بھول گئی جس سے آگاہی انسان کو زمین سے ثریا پر پہنچا دے۔

اللہ رب العزت سے دعا ہیکہ وہ ہمیں ابراہیم واسمعیل سا جذبہ اطاعت و قربانی عطا کرے۔ آمین

عالیہ خانم حافظ نذراللہ خان،

(ممبر جی آئ او، اردھاپور )