• 425
    Shares

اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کے ’ابا جان‘ والے بیان پر ہنگامہ بڑھتا ہی جا رہا ہے۔ اس بیان کی وجہ سے اب یوگی آدتیہ ناتھ پریشانی میں مبتلا ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ دراصل ان کے خلاف بہار کے مظفر پور کی ایک عدالت میں پیر کے روز عرضی داخل کی گئی ہے جسے سماعت کے لیے منظوری بھی مل گئی ہے۔ میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق وزیر اعلیٰ یوگی پر مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کیس درج کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

 

مظفر پور کے سماجی کارکن تمنا ہاشمی نے چیف جیوڈیشیل مجسٹریٹ کی عدالت میں یوگی آدتیہ ناتھ کے خلاف عرضی داخل کی ہے۔ تمنا نے الزام عائد کیا ہے کہ بی جے پی لیڈر کے تبصرہ سے مسلم طبقہ کی بے عزتی ہوئی ہے جسے برداشت نہیں کیا جا سکتا۔ تمنا ہاشمی نے میڈیا کو دیے گئے ایک بیان میں بتایا کہ تعزیرات ہند کی دفعہ 295، 295 اے، 296 اور 511 کے تحت معاملہ درج کرایا گیا ہے جسے عدالت نے منظوری دیتے ہوئے سماعت کی آئندہ تاریخ 21 ستمبر مقرر کی ہے۔

 

قابل ذکر ہے کہ یوگی آدتیہ ناتھ نے 12 ستمبر کو اپنے ایک بیان میں ’ابا جان‘ لفظ کا استعمال کیا تھا جس پر ہنگامہ لگاتار بڑھتا جا رہا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں نے بھی یوگی آدتیہ ناتھ کے اس بیان کو پرزور انداز میں تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ یوگی آدتیہ ناتھ کے مذکورہ بیان کو اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ ملائم سنگھ یادو پر حملہ ٹھہرایا جا رہا ہے، اس لیے پہلے تو سماجوادی پارٹی اور اکھلیش یادو نے یوگی آدتیہ ناتھ پر شدید حملہ کیا، اور پھر کانگریس، ٹی ایم سی اور نیشنل کانفرنس نے بھی ’ابا جان‘ والے بیان کی بھرپور مذمت کی۔ نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے اس تعلق سے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’بی جے پی کے پاس فرقہ پرستی اور مسلمانوں کے تئیں نفرت کے سوا دوسرا کوئی ایجنڈا نہیں ہے۔‘‘

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔