• 425
    Shares

اب کچھ دنوں تک یہ خبریں آتی رہیں گی کہ سرکاری کمپنیوں کی بکری ہو رہی ہے اور وہ نجی ہاتھوں میں جا رہی ہیں۔ ائیرانڈیا کو حکومت کے ذریعہ ٹاٹا کو فروخت کیے جانے کے بعد یہ طے مانا جا رہا ہے کہ سال 2003-04 میں جس کامیابی کے ساتھ اٹل بہاری واجپئی کی قیادت والی حکومت نے سرکاری کمپنیوں کو نجی ہاتھوں میں دیا تھا، موجودہ حکومت بھی اس مقصد میں آگے بڑھ رہی ہے۔ نیوز پورٹل آج تک پر شائع خبر کے مطابق مارچ 2022 تک حکومت کے ذریعہ آدھا درجن سے زیادہ کمپنیوں کو پرائیویٹائزیشن کرنے کا منصوبہ ہے۔

ویسے تو کورونا وبا نے پوری معیشت کو تباہ کر دیا ہے اور معیشت کو پٹری پر لانے کے لئے سرمایہ کی ضرورت ہے۔ حکومت اسی سرمایہ کو حاصل کرنے کے لئے سرکاری کمپنیوں کو نجی ہاتھوں میں فروخت کر رہی ہے۔ لیکن بی جے پی کی قیادت والی حکومت نے واجپئی کی قیادت میں بھی سرکاری کمپنیوں کو ٹھیک کرنے یا ان کا گھاٹا کم کرنے کے بجائے فروخت کرنے کو ترجیح دی تھی، جبکہ اس وقت کورونا کی کوئی وبا نہیں تھی۔ واجپئی کے بعد منموہن سنگھ اسی خراب معیشت کو بغیر کچھ بیچے پٹری پر لے آئے تھے۔ پرائیویٹائزیشن کا عمل کورونا کی دوسری لہر کی وجہ سے رک گیا تھا جو اب پھر سے شروع ہوگیا ہے.

واضح رہے حکومت نے اس سال سرکاری کمپنیوں کو نجی ہاتھوں میں دینے کے عمل سے 1.75لاکھ کروڑ روپے حاصل کرنے کا ہدف رکھا ہے۔ یہ ہدف چیلنج سے بھرا ہوا ہے کیونکہ ابھی تک ایکسیز بینک، این ایم ڈی سی، ہڈکو وغیرہ کے حصہ فروخت کرنے سے 8,369 کروڑ روپے اور ایئر انڈیا کی بکری سے 18 ہزارکروڑ روپے ملے ہیں یعنی ابھی تک اس عمل سے صرف 26,369 کروڑ روپے ہی حاصل ہوئے ہیں اس لئے یہ 1.75 لاکھ کروڑ کا ہدف بہت زیادہ لگتا ہے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔