آپسی اختلاف کی صورت میں اہل علم سے رجوع ہوں :مفتی محمد خلیل الرحمن

0 11

ناندیڑ: 7دسمبر( شیخ اکرم) ممتاز و محترم عالم دین حضرت مفتی محمد خلیل الرحمن صاحب قاسمی دامت برکاتہم نے انوارالمساجد میں خطبہ جمعہ سے قبل خطاب کرتے ہوئے مطالعہ و اتحاد کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ مفتی صاحب نے کہا کہ قرآن کی سب سے پہلی آیت کا نزول ” اقرائ“ سے ہوا ہے۔ دین کا بنیادی و ضروری علم سیکھنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے۔ اس کے بغیر کوئی انسان کتنی ہی ترقی کرلے لیکن وہ حقیقی کامیابی حاصل نہیں کرسکتا۔ آج مسلم گھرانوں میں آسائش زندگی کا ہر سامان موجود ہے لیکن دینی علوم پر مشتمل کتابیں موجود نہیں ہوتیں ، اور نہ ہی اس بات کا احساس ہوتا ہے کہ علم سے لاپرواہی برت کر ہم کتنی بڑی خیر سے محروم ہورہے ہیں۔ علم انسان کی عقل و فہم کو جلا بخشا ہے۔ علم کے ذریعہ یہ ممکن ہوتا ہے کہ آدمی صحیح او رغلط میں فرق کرسکے۔ علم کے حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ کتب بینی و مطالعہ بھی ہے۔ گھر کے ایک چھوٹے سے کونے میں مفید کتابوں کا ذخیرہ ہو تو مطالعہ کے ذریعہ گھر کا ہر فرد اس سے بہ آسانی استفادہ کرتے ہوئے اپنے علم و شعور میں اضافہ کرسکتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں عموماً دینی تعلیم کے حصول کے ذرائع مردوں کے مقابلہ میں عورتوں کے لئے کم ہیں۔ اجتماع، دینی مجالس، جلسے اور جمعہ کے دن کے خطبات وغیرہ سے صرف مرد ہی استفادہ کرتے ہیں۔ عورتوں کے لئے یہ مواقع مردوں کے مقابلے میں نسبتاً کم ہیں۔ اس صورتحال میں تبدیلی کے لئے اصلاحی اقدامات کرتے ہوئے عورتوں کے لئے بھی زیادہ سے زیادہ دینی تعلیم کے حصول کے ذرائع کے استعمال کی ضرورت ہے۔ اصلاحی مجالس و جمعہ کے خطبات سے خواتین کو استفادہ کے لئے علیحدہ سے بیٹھنے کا انتظام ضروری ہے۔ اس سے ایک بڑی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ معاشرے میں بگاڑ کی ایک اہم وجہ خواتین میں دینی شعور کی کمی ہے۔ اگر خواتین کے لئے اس طرح کا انتظام ہو تو بڑی حد تک خواتین میں دینی شعور بیدار کیا جاسکتا ہے۔ مفتی صاحب نے مزید کہا کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر جو خطبہ ارشاد فرمائے ہیں وہ رہتی دُنیا تک انسانوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ اس میں انسانیت کی بھلائی کے لئے بے مثال تعلیم دی گئی ہے اور مسلمانوں کو آپس میں اتحاد و محبت کے ساتھ زندگی گزارنے کی تلقین کی گئی ہے۔ آخر میں مفتی صاحب نے کہا کہ 6دسمبر یوم شہادت بابری مسجد کے موقع پر مسلمانان ناندیڑ نے جو اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے وہ قابل ستائش و خوش آئند ہے۔ اتحاد کی اہمیت مسلمہ ہے۔ اتحاد میں اللہ تعالیٰ کی برکت و مدد ہوتی ہے۔ انتشا رسے مسلمانوں کی صفوں میں کمزوری پیدا ہوتی ہے۔ منافقین نے روزِ اوّل سے ذاتی مفاد و ذہنی تسکین کے لئے مسلمانوں کی اجتماعیت کو گزند پہنچانے اور آپس میں انتشار پھیلانے کی کوشش کی ہے اور عام مسلمانوں کے ذہن کو منتشر کرنے کا کام کیا ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے جہنم کے سب سے نیچے طبقہ میں انہیں رکھنے کی خبر دی ہے۔ عامة المسلمین کو چاہئے کہ وہ آپسی اختلاف کی صورت میں اہل علم سے رجوع ہوں تاکہ اتحاد برقرار رہ سکے۔