گولڈن ٹیمپل سکھوں کا مقدس ترین مقام ہے جہاں 30 سال پہلے کارروائی کی گئی تھی

کبھی کبھی بعض لوگوں کو اپنی موت کا اندازہ پہلے سے ہو جاتا ہے۔ انڈیا کی تیسری وزیراعظم اندرا گاندھی کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔

بھوبنیشور میں تقریر کرنے کے بعد انھیں خبر ملی کہ دہلی میں ان کے پوتے اور پوتی کی کار کا حادثہ ہو گیا تو وہ اپنا سفر درمیان میں ہی چھوڑ کر دہلی واپس لوٹ آئیں۔

اگلے دن 31 اکتوبر 1984 کو مشہور اداکار پیٹر استنوو ان کا انٹرویو لینے والے تھے۔ ٹھیک نو بج کر 12 منٹ پر اندرا گاندھی نے اپنی رہائش گاہ اور دفتر کے درمیان کے وکٹ گیٹ کو پار کیا۔

گیٹ پر تعینات سب انسپکٹر بےانت سنگھ کو دیکھ کر اِندرا گاندھی مسکرائیں، لیکن بےانت سنگھ نے اپنا ریوالور نکال کر ان پر فائرنگ شروع کر دی۔

جیسے ہی وہ زمین پر گريں، گیٹ کے دوسری طرف تعینات ستونت سنگھ نے بھی اپنی سٹین گن کا پورا میگزین اُن پر خالی کر دیا۔

ان دونوں نے گولڈن ٹیمپل پر انڈین فوج کے حملے کا بدلہ لے لیا تھا۔

پانچ ماہ پہلے 31 مئی 1984 کی شام میرٹھ میں نائن انفینٹری ڈویژن کے کمانڈر میجر جنرل کلدیپ بلبل برار اپنی بیوی کے ساتھ دہلی جانے کی تیاری کر رہے تھے۔ اس کے اگلے دن انھیں منیلا کے لیے روانہ ہونا تھا، جہاں وہ چھٹیاں منانے جا رہے تھے۔

،تصویر کا ذریعہPIB

،تصویر کا کیپشن
سابق وزیراعظم اندرا گاندھی کو انھی کے سکھ محافظوں نے گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا

برار یاد کرتے ہیں: ‘شام کو میرے پاس فون آیا کہ میٹنگ کے لیے اگلے دن کی صبح مجھے چنڈی مندر پہنچنا ہے۔ میں میرٹھ سے دہلی بائی روڈ گیا وہاں سے جہاز پکڑ کر چنڈی گڑھ اور براہ راست مغربی کمان کے ہیڈکوارٹر پہنچا۔ وہاں مجھے خبر ملی کہ مجھے آپریشن بلیو سٹار کمانڈ کرنا ہے اور جلد سے جلد امرتسر پہنچنا ہے کیونکہ حالات بہت خراب ہو گئے ہیں۔ گولڈن ٹیمپل پر بھڈراں والے نے مکمل قبضہ کر لیا ہے اور پنجاب میں کوئی قانون اور نظام نہیں رہا ہے۔

‘مجھ سے کہا گیا کہ اسے جلد سے جلد ٹھیک کرنا ہے ورنہ پنجاب ہمارے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ میری چھٹی منسوخ ہو گئی اور میں فوری طور پر ہوائی جہاز سے امرتسر پہنچا۔’

بھنڈراں والے کو کانگریسیوں ہی نے فروغ دیا تھا، جس کا مقصد یہ تھا کہ اکالیوں کے سامنے سکھوں کا مطالبہ اٹھانے والے کسی ایسے شخص کو کھڑا کیا جائے جو ان کو ملنے والی حمایت میں نقب لگا سکے۔

بھنڈراں والے متنازع مسائل پر اشتعال انگیز تقریریں کرنے لگے اور آہستہ آہستہ انھوں نے مرکزی حکومت کو بھی نشانہ بنانا شروع کر دیا۔

بھنڈراں والے نے مختلف مسائل پر اشتعال انگیز تقاریر شروع کر دیں

سینیئر صحافی اور بی بی سی کے سابق صحافی ستیش جیکب کو بھی کئی بار بھنڈراں والے سے ملاقات کا موقع ملا۔

جیکب کہتے ہیں: ‘میں جب بھی وہاں جاتا تھا، بھنڈراں والے کے محافظ دور سے کہتے تھے اوجی او جی بی بی جی آ گئے۔ کبھی انھوں نے بی بی سی نہیں کہا۔ وہ کہتے تھے تُسی اندر جاؤ، سنت جی آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔’

وہ کہتے ہیں: ‘بھنڈراں والے سے ایک بار میری اکیلے میں طویل ملاقات ہوئی۔ ہم دونوں گولڈن ٹیمپل کی چھت پر بیٹھے ہوئے تھے جہاں کوئی نہیں جاتا تھا۔ وہاں بندر ہی بندر گھوم رہے تھے۔ میں نے باتوں ہی باتوں میں ان سے پوچھا کہ جو کچھ آپ کر رہے ہیں لگتا ہے کہ آپ کے خلاف کچھ ایکشن ہو گا، تو انھوں نے کہا کیا خاک ایکشن ہو گا۔

‘انھوں نے مجھے چھت سے اشارہ کر کے دکھایا کہ سامنے کھیت ہیں۔ سات آٹھ کلومیٹر کے بعد پاکستان کی حد ہے۔ ہم پیچھے سے نکل کر سرحد پار چلے جائیں گے اور وہاں سے چھاپہ مار جنگ کریں گے۔ مجھے حیرت تھی کہ یہ شخص مجھے یہ سب کچھ بتا رہا ہے اور مجھ پر یقین کر رہا ہے، اس نے مجھ سے یہ بھی نہیں کہا کہ تم اسے چھاپو گے نہیں۔’

ہلاکتیں جتنی کم ہوں اتنا اچھا ہے

،تصویر کا ذریعہGETTY IMAGES

،تصویر کا کیپشن

میجر جنرل کلدیپ بلبل برار نے آپریشن بلیو اسٹار کی قیادت کی تھی

چار جون 1984 کو بھنڈراں والے کے لوگوں کی پوزیشن کا جائزہ لینے کے لیے ایک افسر کو سادہ کپڑوں میں گولڈن ٹیمپل کے اندر بھیجا گیا۔ پانچ جون کی صبح جنرل برار نے آپریشن میں حصہ لینے والے فوجیوں کو بريف کیا۔

جنرل برار نے بی بی سی کو بتایا: ‘پانچ کی صبح ساڑھے چار بجے میں ہر بٹالین کے پاس گیا اور ان کے جوانوں سے قریب آدھے گھنٹے بات کی۔ میں نے ان سے کہا کہ گولڈن ٹیمپل کے اندر جاتے ہوئے ہمیں یہ نہیں سوچنا ہے کہ ہم کسی مقدس مقام کو برباد کرنے جا رہے ہیں، بلکہ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہم اس کی صفائی کرنے جا رہے ہیں۔ اس آپریشن میں ہلاکتیں جتنی کم ہوں اتنا اچھا ہے۔’

وہ کہتے ہیں: ‘میں نے ان سے یہ بھی کہا کہ اگر تم میں سے کوئی اندر نہیں جانا چاہتا تو کوئی بات نہیں، میں آپ کے کمانڈنگ افسر سے کہوں گا کہ اندر جانے کی ضرورت نہیں ہے اور آپ کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا جائے گا۔ میں تین بٹالين میں گیا، کوئی نہیں کھڑا ہوا، چوتھی بٹالین میں ایک سکھ افسر کھڑا ہو گیا۔

’میں نے کہا کوئی بات نہیں، اگر آپ کے جذبات مجروح ہوتے ہیں تو اندر جانے کی ضرورت نہیں۔ اس نے کہا آپ مجھے غلط سمجھ رہے ہیں، میں ہوں سیکنڈ لیفٹیننٹ رائنا اور میں اندر جانا چاہتا ہوں اور سب سے آگے جانا چاہتا ہوں، تاکہ میں اکال تخت میں سب سے پہلے پہنچ کر بھنڈراں والے کو پکڑ سکوں۔’

میجر جنرل کلدیپ برار بتاتے ہیں کہ انھیں اندازہ نہیں تھا کہ علیحدگی پسندوں کے پاس راکٹ لانچر ہیں۔

پیراشوٹ رجمنٹ

آپریشن کی قیادت کر نے والے جنرل سندر جي، جنرل دیال اور جنرل برار کی حکمت عملی یہ تھی کہ اس پوری مہم کو رات کے اندھیرے میں انجام دیا جائے۔ دس بجے کے ارد گرد سامنے سے ہلہ بولا گیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن
آپریشن بلیو سٹار میں ہلاک ہونے والے سکھ

کالی وردیاں پہنے پہلی بٹالین اور پیراشوٹ رجمنٹ کے كمانڈوز کو ہدایت کی گئی کہ وہ جتنی جلدی ممکن ہو اکال تخت کی طرف قدم بڑھائیں۔ لیکن جیسے ہی کمانڈو آگے بڑھے، ان پر دونوں طرف سے خودکار ہتھیاروں سے شدید فائرنگ کی گئی۔ چند ہی کمانڈو اس جوابی حملے میں بچ پائے۔

ان کی مدد کرنے کے لیے آگے بڑھنے والے لیفٹیننٹ کرنل اسرار رحیم خان کی قیادت میں دسویں بٹالین کے گارڈز نے سیڑھیوں کے دونوں طرف مشین گنوں کے ٹھکانوں کو غیر فعال کر دیا، لیکن ان کے اوپر تالاب کی دوسری طرف سے شدید فائرنگ ہونے لگی۔

کرنل اسرار خان نے تالاب کے اس پار عمارت پر گولی چلانے کی اجازت مانگی، لیکن اسے مسترد کر دیا گیا۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ فوج کو جس مخالفت کا سامنا کرنا پڑا اس کا انہوں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔

مضبوط قلعہ بندی

برار کہتے ہیں: ‘وہ تو پہلے 45 منٹ میں پتہ چل گیا تھا کہ ان کی پلاننگ، ان کے ہتھیار اور ان کی قلعہ بندی اتنی مضبوط ہے کہ ان سے نمٹنا آسان نہیں ہوگا۔ ہم چاہتے تھے کہ ہمارے کمانڈوز اکال تخت کے اندر سٹن گرینیڈ پھینکیں۔

‘صرف شمالی اور مغربی کنارے ہی سے فوجیوں پر فائرنگ نہیں ہو رہی تھی، بلکہ علیحدگی پسند زمین کے نیچے مین ہول سے نکل کر مشین گن سے فائر کرنے کے بعد اندر غائب ہو رہے تھے۔’

جنرل بلبل برار یاد کرتے ہیں: ‘ہماری کوشش تھی کہ ہم اپنے ان جوانوں کو اکال تخت کے نزدیک سے نزدیک پہنچا سکیں، لیکن ہمیں پتہ نہیں تھا کہ ان کے پاس راکٹ لانچر ہیں۔ انھوں نے راکٹ لانچر فائر کر کے اے پی سی کو اڑا دیا۔’

،تصویر کا ذریعہSATPAL DANISH

،تصویر کا کیپشن

ہرچر سنگھ لونگا وال اور جرنیل سنگھ بھنڈراں والے گولڈن ٹیمپل سے نکلتے ہوئے

جس طرح سے چاروں طرف جاری فائرنگ جاری تھی، جنرل برارکو مجبور ہو کر ٹینک منگوانا پڑے۔

میں نے جنرل برار سے پوچھا کہ کیا ٹینکوں کا استعمال پہلے سے آپ کی منصوبہ بندی میں تھا؟

برار کا جواب تھا: ‘بالکل نہیں۔ ٹینکوں کو تب بلایا گیا جب ہم نے دیکھا کہ ہم اکال تخت کے نزدیک بھی نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔ ہمیں ڈر تھا کہ صبح ہوتے ہی ہزاروں لوگ آ جائیں گے اور چاروں طرف سے فوج کو گھیر لیں گے۔ ٹینکوں کا استعمال ہم اس لیے کرنا چاہتے تھے کہ ان کے بلب بہت طاقتور ہوتے ہیں۔ ہم ان کے ذریعے ان کی آنکھوں کو چندھیانا چاہتے تھے تاکہ وہ کچھ لمحوں کے لیے کچھ نہ دیکھ پائیں اور ہم اس کا فائدہ اٹھا کر حملہ کر دیں۔’

وہ کہتے ہیں: ‘لیکن یہ بلب زیادہ سے زیادہ 20، 30 یا 40 سیکنڈ تک آن رہتے ہیں اور پھر فیوز ہو جاتے ہیں۔ بلب فیوز ہونے کے بعد ہم ٹینک کو واپس لے گئے، پھر دوسرا ٹینک لائے۔ لیکن جب کچھ بھی کامیاب نہیں ہو پایا اور صبح ہونے لگی اور اکال تخت میں موجود لوگوں نے ہار نہیں مانی تو حکم دیا گیا کہ ٹینک سے اکال تخت کے اوپر والے حصے پر فائر کیا جائے، تاکہ اوپر سے گرنے والے پتھروں سے لوگ ڈر جائیں اور باہر نکل آئیں۔’

اس کے بعد تو اکال تخت کو کسی اور فوجی ہدف کی طرح ہی سمجھا گیا۔ بعد میں جب ریٹائرڈ جنرل جگجیت سنگھ ارورا نے گولڈن ٹیمپل کا دورہ کیا تو معلوم ہوا کہ انڈین ٹینکوں نے اکال تخت پر کم سے کم 80 گولے برسائے تھے۔

پاکستان جو چاہے وہ بولتا رہے

،تصویر کا ذریعہALAMY

،تصویر کا کیپشن
اکال تخت پر ٹینکوں سے کم از کم 80 گولے برسائے گئے تھے

میں نے جنرل برار سے پوچھا کہ آپ کو کب اندازہ ہوا کہ جرنیل سنگھ بھنڈراں والے اور جنرل شاہ بیگ سنگھ مارے گئے ہیں؟

برار نے جواب دیا: ’تقریباً 30، 40 لوگوں نے باہر نکلنے کے لیے دوڑ لگائی۔ ہمیں لگا کہ ایسی کچھ بات ہو گئی ہے اور پھر فائرنگ بند ہو گئی۔ پھر ہم نے اپنے جوانوں سے کہا کہ اندر جا کر تلاشی لو۔

’تب جا کر ان کی موت کا پتہ چلا۔ لیکن اگلے دن کہانیاں شروع ہو گئیں کہ وہ رات کو بچ کر پاکستان پہنچ گئے، اور پاکستانی ٹی وی اعلان کر رہا ہے کہ بھنڈراں والے ان کے پاس ہیں اور 30 جون کو وہ انھیں ٹی وی پر دکھائیں گے۔‘

وہ کہتے ہیں: ’میرے پاس وزیرِ اطلاعات ایچ کے ایل بھگت اور سیکرٹری خارجہ کا فون آیا کہ آپ کا کہنا ہے کہ بھنڈراں والے کی موت ہو چکی ہے جبکہ پاکستان کہہ رہا ہے کہ وہ زندہ ہیں۔ میں نے کہا کہ ان کی شناخت ہو گئی ہے اور ان کی لاش ان کے خاندان کو دے دی گئی ہے اور ان کے پیروکاروں نے ان کے پیر چھوئے ہیں۔ ان کی موت ہو گئی ہے اب پاکستان جو چاہے وہ بولتا رہے۔‘

اس پورے آپریشن میں انڈین فوج کے 83 فوجی ہلاک اور 248 زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ 492 دیگر لوگوں کی موت کی تصدیق ہوئی اور 1592 افراد کو حراست میں لیا گیا۔

اس واقعے سے انڈیا کیا پوری دنیا میں سکھ برادری کے جذبات مجروح ہوئے۔ یہ انڈین فوج کی فوجی جیت ضرور تھی، لیکن اسے بہت بڑی سیاسی شکست سمجھا گیا۔

اس کی ٹائمنگ، حکمت عملی اور عمل پر کئی سوال اٹھائے گئے اور بالآخر اندرا گاندھی کو اپنی جان دے کر اس کی قیمت چکانی پڑی۔

ریحان فضل بی بی سی ہندی، نئی دہلی

نوٹ: یہ تحریر اس سے قبل چھ جون 2014 میں شائع کی گئی تھی.