کولہا پور:: کورونا کے اس بحران میں ، جہاں بہت سے لوگ دواؤں اور دیگر ضروری چیزوں کوکئی گنا اونچی قیمت فروخت کرکے انسانیت کو داغدار کرنے کا کام کر رہے ہیں ۔ وہیں ، مہاراشٹر کے کولہا پور میں آٹو چلانے والے جتیندر سنگھ اس کو انسانوں کی خدمت کرنے کا موقع سمجھ کر ہر روز ، اوسطاً 40 ضرورت مند افراد کو ہسپتال پہنچا کر اپنے والدین کی خدمت نہ کرپانے کا ملال کم کر رہے ہیں ۔

دن بھر بجتا رہتا ہے جتیندر کا فون
سارا دن جتیندر شندے کا فون بجتا رہتا ہے۔ کہیں کسی کو ہسپتال جانا ہے تو ، جتیند اسے فوری طور پر ہسپتال پہنچاتے ہیں ، چاہے اس کے لئے انہیں کتنا ہی دور جانا پڑے ، مریض ٹھیک ہوجائے تو اس کو خوشی خوشی اس کے گھر بھی پہنچاتے ہیں ، بدقسمتی سے کورونا سے متاثرہ کسی مریض کورونا کی موت ہو جائے اور اس کی میت کو شمشان / قبرستان پہنچانے والا کوئی نہ ہو تو ، جتیندر اس کو اس کے آخری پڑاؤ تک بھی لے جاتے ہیں اور اس کے مذہب کے مطابق اس کی آخری رسوم انجام دیتے ہیں ۔

تارکین وطن مزدوروں کی بھی کرتے ہیں مدد
اتنا ہی نہیں ، تارکین وطن مزدوروں کو کھانا کھلانے اور ان کی گھر واپسی میں مدد کے کام میں بھی جتیندر بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔ جتیندر سنگھ نے بتایا کہ جب ان کے والدین کی وفات ہوئی تو وہ صرف 10 سال کے تھے۔ انہیں ہمیشہ اس کا دکھ ہوتا تھا کہ وہ آخری لمحے میں اپنے والدین کی خدمت نہیں کر پائے ۔ کورونا دور میں ، انہوں نے انسانیت کی خدمت کو قبول کرکے اپنے دل کے اس بوجھ کو کم کرنے کی کوشش کی۔

اب تک 15 ہزار مریضوں کو پہنچا چکے ہیں ہسپتال
اس دوران ، وہ 15 ہزار سے زیادہ مریضوں کو ہسپتال تک پہنچا چکے ہیں ، جن میں ایک ہزار سے زیادہ کورونا مریض بھی شامل ہیں۔ پچھلے ایک سال میں ، اس کام پر وہ اپنی ڈیڑھ لاکھ روپے کی جمع پونجی بھی خرچ کر چکے ہیں ۔ اس دوران ، وہ 70 سے زیادہ حاملہ خواتین اور معذور افراد کو بھی اپنے آٹو میں ہسپتال لے گئے ہیں ۔ ہر دن اپنے آٹو میں 200 روپے کا ایندھن بھروانے والے جتیندر شندے سے جب پوچھا گیا کہ لوگوں کی مفت خدمت کر تے ہیں تو گھر کا خرچ کیسے چلتا ہے ، تو انہوں نے فون اپنی اہلیہ لتا کو دے دیا ۔
احتیاط میں کوئی کمی نہیں آنے دیتے جتیندر شندے
لتا نے بتایا کہ وہ گھروں میں کھانا پکانے کا کام کرتی ہیں ، ان کی بہو ہسپتال میں کام کرتی ہے اور گھر چلانے میں مدد کرتی ہے۔ لتا بتاتی ہیں کہ چھ افراد پر مشتمل پریوار کا خرچ وہ مل جل کر چلاتے ہیں اور ان کے شوہر دن بھر ضرورت مندوں کی خدمت کرتے ہیں ۔ جتیندر نے بتایا کہ وہ پی پی ای کٹ پہن کر مریضوں کو لے جانے ل کا کام کرتے ہیں ۔ کئی بار ، ان کے ساتھی آٹو ڈرائیور انہیں کورونا ہونے کے شبہ میں آٹو اسٹینڈ پر آٹو نہیں لگا دیتے ہیں۔ حالانکہ اب وہ اینٹی کورونا ویکسین کی دونوں خوراکیں لے چکے ہیں ، لیکن وہ کورونا سے بچاؤ کی احتیاطی تدابیر میں کوئی کمی نہیں آنے دیتے ہیں ۔

2020 سے کر رہے ہیں مریضوں کی مدد
مریض یا عام لوگ بیٹھنے سے پہلے اور اترنے کے بعد آٹو کو مکمل طور پر سینیٹائز کرتے ہیں اور خود بھی پوری احتیاط کرتے ہیں ۔ لوگوں کی مدد کے اس سلسلہ کی شروعات کے بارے میں پوچھے جانے پر ، شندے کا کہنا ہے کہ مارچ 2020 کے آخری ہفتے میں ، انہیں ایک تارکین وطن مزدور کا فون آیا جس میں کورونا کی علامات تھیں۔ شندے نے ا س کوفوری طور پر کولکا پور کے سی پی آر ہسپتال پہنچایا۔ کچھ دن بعد اسی شخص کے فون کی گھنٹی بجی اور اس نے بتایا کہ وہ کورونا کو شکست دینے میں کامیاب ہوگیا ہے۔ اس ایک کال کے بعد ، شندے کو وہ سکون ملا ، جس کی انہیں برسوں سے تلاش تھی ۔ پھر تو یہ سلسلہ ہی چل گیا ۔ دن ہو یا رات ، شندے مدد مانگنے والے کو مایوس نہیں کرتے ہیں اور مصیبت میں پھنسے ہوئے کسی بھی مجبور کی مدد کرنے کا موقع نہیں جانے دیتے۔