• 425
    Shares

گوہاٹی/ممبئی (یو این آئی) آل انڈیا یونائیٹیڈ ڈیمو کریٹک فرنٹ کے قومی صدر و رکن پارلیمنٹ مولانا بدرالدین اجمل نے آسام کے نہتے مسلمانوں پرپولس کی مبینہ ظالمانہ کاروائی اور ایک فوٹو گرفر کے وحشیانہ عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ظلم و جبر کی بد ترین مثال قرار دیا ہے۔یہ بات انہوں نے آج یہاں جاری ایک ریلیز میں کہی ہے۔

 

انہوں نے کہا کہ آسام میں درنگ ضلع کے دھولپورگوروکھٹی علاقہ میں برسوں سے رہنے والے مسلمانوں کو بغیر متبادل جگہ فراہم کئے جس طرح ان کے گھروں پر بلڈوذر چلایا گیا وہ انسانیت کو شرمسار کرنے والا عمل ہے۔انہوں نے کہاکہ حکومت کا کام لوگوں کا گھر آباد کرنا ہوتاہے مگر آسام حکومت نے جس طرح طاقت کا مظاہرہ کرکے غریبوں کے آشیانہ کو تہس نہس کیا یہاں تک کہ عبادت گاہوں کو بھی مسمار کردیا وہ ظلم و بربریت کی گواہی دیتا ہے۔

 

مولانا نے مزید کہاکہ حد تو اس وقت ہو گئی جب اس مبینہ ظلم کے خلاف وہاں کے لوگ احتجاج کر رہے تھے تو پولس نے ان پر مبینہ طورپر فائرنگ کر دی جس میں دو لوگ شہید ہوگئے جبکہ درجنوں زخمی ہوگئے اور ان سب میں ایک کیمرہ مین نے مظلوم اور مقتول شخص پر چھلانگ لگاکر اور اس پر گھونسے مارکر بربریت کی انتہا کر دی۔انہوں نے پورے معاملہ کی جوڈیشیل انکوائری کروانے، گناہگاروں کو سخت سزا دینے، مقتولوں کے اہل خانہ کو بیس بیس لاکھ اور زخمیوں کو دس دس لاکھ بطور معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔ نیز انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ سرکار تمام لوگوں کو گھر کے لئے زمین فراہم کرائے اورہر ایک کو دو دو لاکھ روپیہ گھر بنانے کے لئے بھی دے۔

مولانا نے کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو آسام کے خطرناک سیلاب میں اپنا گھر بار گنوا چکے ہیں اور اس جگہ پر برسوں سے رہ رہے تھے جہاں انہیں روڈ، بجلی، پانی اور اسکول وغیرہ سب کچھ میسر تھا پھر کووڈ کے اس پُرآشوب دور میں سرکار نے ان کے گھروں پر بلڈوزر چلاکر تباہ کریا ہے۔ مولانا نے کہا کہ مزید کہا کہ 16 ستمبر کو مجھے slipped disc (کولھے کی ہڈی اپنی جگہ سے ہٹ گئی ہے)ہوا ہے، جس کے بعد سے ہی میں ڈاکٹروں کی ہدایت پر مکمل بیڈ ریسٹ پر ہوں، اسی وجہ سے میں سفر نہیں کرسکتا لیکن 20 ستمبر کو جیسے ہی مجھے لوگوں کے گھر اجاڑے جانے کا علم ہوا میں نے اسی دن اپنے ایم ایل اے کے وفد کو وہاں بھیجاجنہوں نے حالات کا جائزہ لیکر وہاں کے ضلع انتظامیہ سے ملاقات کی اور اپنا احتجاج درج کروایا نیز بے گھر لوگوں کی رہائش کا فوری انتظام کرنے کا مطالبہ کیا۔

انہوں نے کہاکہ دوسری طرف وفد نے متأثرین کو فوری راحت رسانی کے لئے بھی انتظام کرنے کا پروگرام بنایا اور اس کے لئے انتظام میں لگ گئے۔ مگر اس دوران 23 ستمبر کو جب متأثرین جمہوری طریقہ سے احتجاج کررہے تھے تو پولس نے لاٹھی ڈنڈوں سے ان کی پیٹائی کردی اور اس کے بعدمبینہ طور پر گولی چلادی جس نے دو بے گناہوں کی جان لے لی جبکہ درجنوں کو گھائل کر دیا۔ واقعہ کے فوری بعد ہمارے ایم ایل اے کا وفد متأثرہ جگہ پہونچا، لوگوں سے ملاقات کی اورسرکار کی کاروائی کے خلاف آواز بلند کی۔آج ہماری پارٹی کے ایم ایل اے کے وفد نے آسام کے گورنر سے بھی ملاقات کی ہے اور واقعہ کی مذمت کے ساتھ ساتھ مطالبات بھی ان کے سامنے پیش کئے ہیں۔ اس کے علاوہ ہماری پارٹی نے آج اس واقہ کے خلاف آسام بند نیز خاموش احتجاج کا بھی اہتمام کیا ہے۔مولانا نے کہا کہ مظلوموں کے حق اور ظلم کے خلاف ہم اور ہماری پارٹی جمہوری طریقہ سے لڑتے رہیں گے،اوراگر انصاف نہیں ملا تو عدالت بھی جائیں گے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔