ریاست آسام کے بعد اب اترپردیش میں بھی سرکاری امداد یافتہ دینی مدارس کے وجود پرسوال کھڑے ہوگئے ہیں۔ یوپی کے ۵۶۰ ؍ امداد یافتہ دینی مدارس پر یوگی حکومت کا شکنجہ کستا جا رہا ہے۔امداد یافتہ دینی مدارس میں سنگین قسم کی مالی بدعنوانی اور اساتذہ کے استحصال کی شکایات موصول ہونے کے بعد یوگی حکومت امداد یافتہ دینی مدارس کے خلاف سخت کارروائی کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔اس سلسلے میں حکومت کی طرف سے تمام امداد یافتہ دینی مدارس سے جواب طلب کرلیا گیا ہے۔دراصل گذشتہ دنوں دینی مدارس سے ہی تعلق رکھنے والے تین افراد جنید اختر، شمیم احمد اور ریاض قاسمی نے مدارس میں  پائی جانے والی سنگین قسم کی  مالی بد عنوانیوں کی شکایت وزیر اعظم نرندر مودی سے کی تھی۔ جنید اختر، شمیم احمد اور ریاض قاسمی نے وزیر اعظم مودی کو لکھے خط میں دینی مدارس پرموٹی رقم لے کر تقرری کرنے اور مینجمنٹ کی طرف سے اپنے رشتے داروں کو ملازمت دینے کا الزام لگایا گیا تھا۔یوگی حکومت کی طرف سے جاری کردہ سرکلر میں تمام امداد یافتہ مدارس سے جواب طلب کرلیا گیا ہے۔


3 thoughts on “آسام کے بعد اب یوپی میں سرکاری امداد یافتہ دینی مدارس پر کسا شکنجہ،یوگی حکومت نے جاری کیا سرکلر”
  1. یو پی کے امدادیافتہ دینی مدارس کی بابت خبر کے تعلق سے حکومت کا جاری کردہ سرکلر مجھے بھی فراہم کردیں۔ طارق شمسی ایڈیٹر مدارس نیوز ماہنامہ
    8923568223 موبائیل
    ای میل madarisnews@rediffmail.com

    1. یو پی کے امدادیافتہ دینی مدارس کی بابت خبر کے تعلق سے حکومت کا جاری کردہ سرکلر مجھے بھی فراہم کردیں

اپنی رائے یہاں لکھیں