آسام کے نئے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے پیر کے روز وزیر اعلیٰ عہدہ کا حلف لے لیا، اور اس کے بعد کئی ایشوز پر میڈیا کے سوالوں کا جواب دیا۔ اس دوران انھوں نے ’این آر سی‘ اور ’لو جہاد‘ پر قانون بنائے جانے سے متعلق بی جے پی کے وعدے پر بھی اپنا رد عمل ظاہر کیا۔ متنازعہ این آر سی کے حوالے سے پوچھے جانے پر ہیمنت بسوا سرما نے کہا کہ ان کی حکومت آسام کے سرحدی اضلاع میں 20 فیصد ناموں اور دیگر علاقوں میں 10 فیصد ناموں کا از سر نو سرٹیفکیشن (ری ویریفکیشن) چاہتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’اگر بے حد معمولی غلطیاں پائی گئیں تب ہم موجودہ این آر سی کے ساتھ آگے کی کارروائی کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر وسیع خامیاں ہیں تو مجھے لگتا ہے کہ عدالت نوٹس لے گی اور نئے نظریہ کے ساتھ آگے کا کام کرے گی۔‘‘’لو جہاد‘ کے خلاف قانون لانے کے بی جے پی کی یقین دہانے کے بارے میں جب وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما سے سوال کیا گیا تو انھوں نے واضح لفظوں میں کہا کہ ’’ہر وعدہ پورا کرنے کے لیے لیا گیا ہے۔ انھیں پورا کرنے کے لیے جو بھی ممکن ہوگا ہم کریں گے۔‘‘ اس بیان سے ظاہر ہے کہ ہیمنت بسوا سرما ’لو جہاد‘ پر قانون لانے سے متعلق پیش رفت کر سکتے ہیں، لیکن فی الحال ان کی توجہ ریاست میں کووڈ کی صورت حال کو قابو کرنے پر ہے۔

کووڈ وبا کے تعلق سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’’آسام میں کووڈ-19 کی حالت سنگین ہے۔ ہمارے یہاں روزانہ نئے معاملوں کی تعداد 5000 کے پار پہنچ گئی ہے۔ کل کابینہ کی میٹنگ میں ہم سبھی پہلوؤں پر غور کریں گے اور قدم اٹھائیں گے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’’آسام میں دوسری بار بنی بی جے پی کی حکومت کی خصوصی توجہ کووڈ-19 وبا کو قابو کرنے، سبھی وعدوں کو پورا کرنے اور ریاست کو سالانہ سیلاب کے بحران سے آزاد کرنے پر ہے۔‘‘ ہیمنت بسوا سرما نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ’’ہم اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کل سے ہی کام شروع کریں گے۔‘‘