• 425
    Shares

انڈیا کی شمال مشرقی ریاست آسام میں مسلمان شہری کی لاش کی بے حرمتی کے واقعے کے حوالے سے اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کی مذمت کے بعد انڈیا کی وزارتِ خارجہ نے ردِ عمل دیتے ہوئے او آئی سی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔جمعے کی رات انڈیا کی وزارت خارجہ کے ترجمان ارندم باگچی نے یہ بیان ایک سوال کے جواب میں جاری کیا تھا۔وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈیا انتہائی افسوس کے ساتھ یہ بتانا چاہتا ہے کہ او آئی سی نے ایک بار پھر انڈیا کے اندرونی معاملے پر تبصرہ کیا ہے جس میں اس نے انڈین ریاست میں ایک بدقسمت واقعے کے بارے میں حقیقت پسندانہ طور پر غلط تبصرہ کیا ہے۔ اور ایک گمراہ کن بیان جاری کیا ہے۔

اس کے علاوہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انڈیا اس سلسلے میں مناسب قانونی کارروائی کر رہا ہے۔بیان میں یہ بات دہرا دی گئی ہے کہ ‘او آئی سی کو انڈیا کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے اور اسے اپنے پلیٹ فارم کو ذاتی مفاد کے لیے استعمال نہیں ہونے دینا چاہیے۔’اس کے بعد بیان کے اختتام پر انڈیا نے او آئی سی کو خبردار کیا ہے کہ ’انڈیا کی حکومت ان تمام بے بنیاد الزامات کو مسترد کرتی ہے اور امید کرتی ہے کہ مستقبل میں ایسے بیانات نہیں دیے جائیں گے۔‘خیال رہے کہ اس واقعے کی دنیا کے اکثر ممالک کی جانب سے مذمت کی گئی تھی، تاہم عرب ممالک میں یہ تنقید سوشل میڈیا پر کی جا رہی ہے اور گذشتہ دنوں میں وہاں انڈین مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے سے متعلق ٹرینڈ چلائے گئے ہیں۔

او آئی سی نے کیا کہا؟
مسلم ممالک کی تنظیم او آئی سی نے گذشتہ ماہ انڈیا کی شمال مشرقی ریاست آسام کے ضلع درنگ میں مبینہ طور پر سینکڑوں مسلم خاندانوں کو سرکاری زمین سے ‘تجاوزات ہٹانے کی مہم’ کے تحت بے دخل کرنے کے دوران ہونے والی پولیس کارروائی کو ‘منظم تشدد اور ہراساں کرنا’ کہا ہے۔جمعرات کی شام ٹوئٹر پر جاری ایک بیان میں او آئی سی نے اس معاملے کی میڈیا کوریج کو شرمناک قرار دیا اور انڈیا سے ذمہ داری سے برتاؤ کرنے کی اپیل کی تھی۔اس کارروائی کے دوران دو مقامی مسلمان شہری ہلاک ہوئے تھے۔ اس کی ایک خوفناک ویڈیو بھی منظر عام پر آئی تھی۔او آئی سی نے اپنے بیان میں انڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ مسلم اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرے اور ان کے تمام مذہبی اور سماجی بنیادی حقوق کا احترام کرے۔بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قومی خودمختاری کے اندر کسی بھی مسئلے کو حل کرنے کا بہترین طریقہ باہمی بات چیت ہے۔نہ صرف او آئی سی بلکہ غیر ملکی میڈیا نے بھی آسام کے واقعہ کی شدید مذمت کی ہے۔ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے اس واقعے کا موازنہ امریکہ میں جارج فلوئیڈ قتل کیس سے کیا۔
اخبار لکھتا ہے کہ اس طرح کا وحشیانہ واقعہ پولیس کی ناقص تربیت اور اس شخص کے غیر اخلاقی رویے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

اخبار نے لکھا: ‘جس طرح منیاپولیس میں ایک پولیس افسر کے ہاتھوں جارج فلوئیڈ کی ہلاکت کا واقعہ امریکہ میں نسلی عدم مساوات اور پولیس تشدد کی جڑیں دکھاتا ہے وہیں آسام میں ہونے والی بربریت انڈیا میں نفرت، تشدد اور سزا سے معافی کو دکھاتی ہے۔’
اخبار نے لکھا: ‘سنہ 1947 کی تقسیم کے بعد انڈیا کبھی بھی مذہبی بنیاد سے اوپر نہیں اٹھ سکا اور یہاں فرقہ وارانہ تعصبات بہت گہرے ہیں۔ ماضی میں سیاسی رہنماؤں نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور تنوع کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن دائیں بازو کی ہندو قوم پرست تنظیم اور حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی نے پرانی نفرت کو ہوا دی ہے۔ مسلم اقلیتوں کو ہندو اکثریت کے لیے خطرے کے طور پر پیش کیا ہے اور اس کے علاج کے لیے پرتشدد اقدامات تجویز کیے گئے ہیں۔’

اس کے علاوہ برطانوی اخبار نے انڈیا میں ‘لو جہاد’، ‘کورونا جہاد’، دہلی فسادات، چھتیس گڑھ میں ہندو مذہبی تنظیموں کی جانب سے گذشتہ ہفتے کیے جانے والے تشدد، کسانوں کی تحریک، آرٹیکل 370 وغیرہ کا بھی ذکر کیا ہے۔اخبار لکھتا ہے کہ نفرت، خونریزی اور ماتم کے اس خوفناک سلسلے کے ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔ آسام میں ہونے والے واقعے کا ذکر خلیجی ملک کی میڈیا ‘الجزیرہ’ نے بھی اپنی خصوصی رپورٹ میں کیا ہے۔درنگ سے اپنی گراؤنڈ رپورٹ میں الجزیرہ نے اس واقعے کے کئی پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے۔اس واقعے میں ہلاک ہونے والے معین الحق کے چھوٹے بھائی عین الدین کا کہنا ہے کہ ان کے بھائی کو پولیس نے سینے میں گولی ماری تھی اور فوٹوگرافر ان کے سینے پر چھلانگ لگا رہا تھا جبکہ وہ مر چکے تھے۔الجزیرہ لکھتا ہے کہ آسام حکومت کی باگ ڈور ہندو قوم پرست تنظیم بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہاتھ میں ہے۔ اس نے اس واقعے کی عدالتی تحقیقات کا اعلان کیا ہے اور اس واقعے نے سول سوسائٹی کو بڑا دھچکہ پہنچایا ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ وزیراعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے دعویٰ کیا ہے کہ گاؤں کے لوگوں نے پہلے پولیس پر لاٹھیوں اور کلہاڑیوں سے حملہ کیا تھا اور تشدد ایک سازش کا نتیجہ تھا۔ اس کے ساتھ وزیر اعلیٰ نے یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ گاؤں کے لوگوں کو باہر سے آنے والے لوگوں نے اکسایا تھا۔الجزیرہ نے لکھا کہ وزیراعلیٰ سرما نے اس واقعہ کے دعووں کے لیے کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔ تاہم پولیس نے دو مقامی لوگوں کو تشدد پر اکسانے کے الزام میں گرفتار کیا ہے۔

23 ستمبر کو ‘غیر قانونی تجاوزات’ کو ہٹانے کی پولیس کارروائی کے دوران آسام کے درنگ ضلع کے دھول پور گاؤں نمبر تین میں پرتشدد تصادم ہوا جس میں دو افراد ہلاک ہوئے۔ان میں سے ایک شخص مبینہ طور پر پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہوا۔ انتظامیہ کے دعوے کے مطابق اس واقعے میں آٹھ پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔اس واقعے کی ایک ویڈیو منظر عام پر آئی جس میں ایک فوٹو گرافر معین الحق کے گرنے کے بعد اس کے سینے پر کود رہا ہے۔ بیجوئے بانیا نامی فوٹوگرافر مقامی انتظامیہ کے ساتھ واقعے کی ویڈیو گرافی کر رہا تھا جسے بعد میں حراست میں لے لیا گیا۔ریاستی حکومت نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ آسام حکومت کے محکمہ داخلہ نے کہا ہے کہ گوہاٹی ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی قیادت میں انکوائری کی جائے گی۔ تفتیش میں اس واقعے کے رونما ہونے والے حالات کا پتا چلایا جائے گا۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔