!-- Auto Size ads-1 -->

گوہاٹی: آسام کا سیلاب ہر سال لوگوں کے لیے پریشانی کا باعث بنتا ہے۔ اس بار بھی آسام میں سیلاب نے لوگوں کا جینا محال کر دیا ہے۔ ریاست کے 27 اضلاع میں 6.6 لاکھ سے زیادہ لوگ مانسون سے قبل ہونے والی بارشوں کی وجہ سے سیلاب کی زد میں ہیں۔ اس دوران 9 افراد کی موت بھی واقع ہوئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اب تک 48000 سے زیادہ لوگوں کو 248 ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ ہوجائی اور کچھار سب سے زیادہ متاثرہ اضلاع ہیں اور ان میں سے ہر ضلع میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ فوج نے ریسکیو آپریشن کے تحت ہوجائی ضلع میں پھنسے ہوئے 2000 سے زیادہ افراد کو محفوظ نکال لیا ہے۔

جنوبی آسام کا دیما ہساو ضلع سڑکیں بہہ جانے کی وجہ سے آج پانچویں روز بھی متاثر رہا۔ بارش کی وجہ سے ہونے والی لینڈ اسلائیڈنگ نے دیما ہاساو سے سڑک اور ریل رابطہ منقطع کر دیا ہے۔ اس کی وجہ سے اتوار سے وادی براک کے ساتھ تریپورہ، میزورم اور منی پور کے کے اہم علاقوں کے لئے سڑک اور ریل رابطہ بھی منقطع ہو گیا ہے۔

گزشتہ دو دنوں سے شمال مشرقی ریاستوں آسام، میگھالیہ اور اروناچل پردیش میں موسلادھار بارش ہو رہی ہے۔ گوہاٹی میں محکمہ موسمیات نے اگلے چار دنوں تک پورے خطے میں بڑے پیمانے پر بارش کی وارننگ جاری کی ہے۔

مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے آسام کو مرکزی حکومت کی طرف سے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ایک ٹوئٹ میں انہوں نے کہا کہ وہ پہلے ہی آسام کے وزیر اعلی ہیمنت بسوا سرما سے بات کر چکے ہیں۔

ریاست سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ضروری اشیا کی سپلائی کو برقرار رکھنے اور مواصلاتی ذرائع کو بحال کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔