گوہاٹی۔ آسام میں جاری اسمبلی انتخابات کے پیش نظر مذکورہ حزب اختلاف کی پارٹیوں مخالف سی اے اے(شہریت ترمیمی قانون) پر غور کررہی ہیں اور اس کو دوسرے اور تیسرے مرحلے کی رائے دہی کا بڑا موضوع قراردے رہی ہیں۔ پہلی مرحلے کی رائے دہی ہفتہ کے روز انجام پائی اور 77فیصد رائے دہی درج کی گئی ہے۔

اب سیاسی جماعتوں نے اپنی تمام تر توجہہ دوسرے او رتیسرے مرحلے کی رائے دہی پر مرکوز کرلی ہے۔ جہاں تک اگلے دو مرحلے کی انتخابی مہم کا معاملہ تو سی اے اے بمقابلہ ترقی ہوگا۔

بی جے پی کے اعلی قائدین راست طور پر سی اے اے کا ذکر کرنے سے اجتناب کررہے ہیں
تاہم بی جے پی کے اعلی قائدین انتخابی مہمات کے دوران راست طور پر سی اے اے کا ذکر کرنے سے اجتناب کررہے ہیں اور ترقی کے متعلق بات کررہے ہیں۔

مگر پارٹی کانگریس‘ اے ائی یو ڈی ایف اتحادکو نشانہ بنانے کا ایک موقع بھی نہیں چھوڑ رہی ہے اور اس اتحاد پر الزام لگارہی ہے کہ کانگریس پارٹی گھس پیٹ کرنے والوں کے ساتھ اتحادکیاہے۔

آسام کے چیف منسٹر ساربندا سونوال نے اے این ائی کو بتایاکہ مذکورہ سی اے اے‘ این آر سی کوئی ایک مسئلہ نہیں ہے اور اسکا اثر ریاست کے انتخابات پر نہیں پڑیگا۔ اے این ائی سے بات کرتے ہوئے بی جے پی کے ریاستی صدر رنجیت کمار داس نے کہاکہ ”آسام میں سی اے اے ایک مسئلہ نہیں ہے۔ اس کو پارلیمنٹ سے منظوری ملی ہے۔ اگر ہم اقتدار میں آتے ہیں تو ہم اسکونافذ کریں گے“۔

درایں اثناء کانگریس لیڈر کھاگین کالیتا نے کہاکہ سی اے اے بی جے پی کوبڑی پیمانے پر دوسرے او ر تیسرے مرحلے کی ریاست میں پولنگ میں نقصان پہنچایاگا۔

انہوں نے اے این ائی کوبتایاکہ”سی اے اے انہیں (بی جے پی) کے لئے دوسرے او رتیسرے مرحلے کی رائے دہی میں بھاری نقصان پہنچایاگا کیونکہ اس کی وجہہ سے بہت سارے مذہبی اقلیتوں کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

آپ دیکھیں گے ان دو مراحل میں رائے دہندے بی جے پی کے خلاف ووٹ دیں گے۔ اوپر آسام میں امیدواروں کے انتخاب کا ان کا طریقہ سی اے اے کا اثر ہے۔

انہوں نے اپنے اراکین اسمبلی کی سیٹیں تبدیل کردیں کیونکہ انہیں ان سیٹوں پر ہار کا خوف ہے“۔

آسام میں 2019ڈسمبر کے وقت مخالف سی اے اے پرتشدد احتجاجی مظاہرے پیش ائے اور دعوی کیاجارہا ہے کہ پولیس فائرینگ اموات کی وجہہ ہے۔

اس احتجاج کے بعد دو پارٹیاں آسوم جاتیا پریشد اور رائجور دل پارٹی آسام میں تشکیل پائی ہے۔ رائجور دل کی تشکیل کرشاک مکتی سنگرام سمیتی کے قائد اکھل گوگوئی نے عمل میں لائی ہے جو ڈسمنر کے بعد سے ان کے مخالف سی اے اے احتجاج میں شمولیت کے پیش نظر جیل میں ہیں۔

بتایاجارہا ہے کہ ان کی حمایت 70مذہبی گروپس کررہے ہیں جو شہریت قانونی میں ترمیم کے خلاف ہیں

دوسری مرحلہ
دوسرے مرحلے میں 39اسمبلی حلقوں پر پولنگ ہوگی جو 345امیدوار وں کے مقدر کا فیصلہ کریں گے۔ وہیں تیسرے مرحلے میں 40اسمبلی حلقوں میں 337امیدوار مقابلہ کریں گے

سال2016کے ریاستی انتخابات میں بی جے پی نے ترون گوگوئی کی زیر قیادت کانگریس حکومت کو بیدخل کیاتھا۔

کانگریس نے ”مہاجاتا“ کے عنوان سے ایک اتحاد قائم کیاہے جس میں اے ائی یو ڈی ایف‘ سی پی ائی اور سی پی ائی ایم کے علاوہ سی پی ائی ایم ایل‘ اے جی ایم‘ بی پی ایف نام کی سیاسی جماعتیں شامل ہیں جس کا مقصد بی جے پی کو اقتدار سے بیدخل کرنا ہے۔

دوسری جانب بی جے پی نے اے جی پی اور یو پی پی ایل کے ساتھ اتحادکیاہے۔پہلے مرحلے کی رائے دہی میں 47سیٹوں پر الیکشن ہوا جو بی جے پی کے زیر قیادت این ڈی اے کا مضبوھ گڑ مانا جاتا ہے۔

مگر دوسرے او رتیسرے مرحلے کی رائے دہی این ڈی اے کے لئے سخت مقابلہ کا ہے کیونکہ اس علاقے کوکانگریس اوربدرالدین اجمل کی زیر قیادت اے ائی یو ڈی ایف کا اس کو مضبوط قلعہ مانا جاتا ہے۔

دوسرے مرحلے میں کانگریس اور اے ائی یوڈی ایف کی نظر جنوبی آسام کی 39سیٹوں پر ہیں۔

سال2016میں کانگریس اور اے ائی ڈی یو ایف کے درمیان میں ووٹوں کا تقسیم کا فائدہ بی جے پی او راس کی ساتھی پارٹیوکو ہوا تھا جس نے 40میں سے 20سیٹوں پر جیت حاصل کی تھی۔ دوسرے مرحلے کی رائے دہی ریاست میں 6اپریل کو مقرر ہے


اپنی رائے یہاں لکھیں