• 425
    Shares

پرتشدد واقعات کے بعد فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کا بیان
انڈیا کی شمال مشرقی ریاست آسام میں گذشتہ ماہ 23 ستمبر کو ‘غیر قانونی تجاوزات’ ہٹانے کے دوران ہونے والی جھڑپ میں دو افراد ہلاک اور آٹھ پولیس اہلکار زخمی ہوئے تھے۔ یہ واقعہ ضلع درنگ کے تین نمبر گاؤں دھول پور میں پیش آیا تھا۔
اس پر ملک کے اندر اور بیرون ملک سے حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنايا گیا۔ عرب ممالک سے بھی اس کے خلاف سوشل میڈیا پر آوازیں اٹھیں اور انڈیا میں مسلم اقلیت کے ساتھ سلوک پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

ہر طرف سے تنقید کے بعد ریاستی حکومت نے معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ حکومت آسام کے ہوم ڈیپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ گوہاٹی ہائی کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کی قیادت میں انکوائری کی جائے گی اور تفتیش کے بعد سچائی سامنے آ جائے گی۔
اس واقعے کے دن ضلعی انتظامیہ کے افسران پولیس کے ساتھ سرکاری زمین سے مبینہ تجاوزات ہٹانے گئے تھے، جس کی وجہ سے تصادم ہوا۔اس دوران پولیس نے مبینہ طور پر فائرنگ کی جس میں معین الحق اور شیخ فرید نامی دو افراد ہلاک ہوگئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ علاقے کے لوگوں نے تجاوزات ہٹانے کی کارروائی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے پتھراؤ شروع کر دیا، وہ پرتشدد ہو گئے اور پولیس کو اپنے دفاع میں فائرنگ کرنا پڑی۔

درنگ کے واقعے سے متعلق ایک مبینہ ویڈیو بھی منظر عام پر آئی تھی جس میں ایک فوٹو گرافر بیجوئے شنکر بانیا زمین پر بے حس پڑے ایک شخص کو پیٹ رہا ہے اور اس پر کود رہا ہے۔ اس فوٹوگرافر کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ لیکن اس واقعے نے آسام میں سماجی صورت حال کے متعلق بہت سے سوال کھڑے کر دیے۔آسام کے وزیر اعلیٰ ہیمنت بسوا سرما نے درنگ میں پیش آنے والے واقعے کے لیے پاپولر فرنٹ آف انڈیا نامی تنظیم کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔چیف منسٹر نے کہا: ‘ریاستی حکومت کے پاس واضح انٹیلی جنس ہے کہ غریب اور بے زمین خاندانوں کے کچھ لوگوں نے گذشتہ تین ماہ میں 28 لاکھ روپے یہ کہہ کر اکٹھے کیے تھے کہ وہ حکومت سے بات کرنے کے بعد بے دخلی کی مہم روک دیں گے۔ ان لوگوں نے وہاں کے لوگوں کو اکسایا۔

‘اس سے قبل پی ایف آئی نے کھانا تقسیم کرنے کے بہانے علاقے کا دورہ کیا تھا۔ صرف 60 خاندانوں کو وہاں سے ہٹانا تھا تو وہاں دس ہزار خاندان کہاں سے آئے۔ اگر وہاں سے نکالے گئے لوگوں کے پاس زمین نہیں ہے تو ہم انھیں دو ایکڑ زمین دیں گے۔ لیکن، ان لوگوں میں سے بیشتر کے پاس زمین ہے، وہ بے زمین نہیں ہیں۔’
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ تجاوزات ہٹانے کی مہم کو نہیں روکا جائے گا۔
فیکٹ فائنڈنگ ٹیم
اس معاملے پر ایسوسی ایشن فار پروٹیکشن آف سول رائٹس (اے پی سی آر) کی ایک فیکٹ فائنڈنگ ٹیم ضلع درنگ کے دھول پور علاقے میں پہنچی ہے اور اس نے حقائق اکٹھے کیے ہیں۔
فیکٹ فائنڈنگ ٹیم میں سماجی کارکن، صحافی اور محققین شامل ہیں۔ ان کی تحقیق کی بنیاد پر فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے ایک پریس کانفرنس میں اپنی رپورٹ جاری کی ہے۔
اس پریس کانفرنس میں سپریم کورٹ کے سینیئر ایڈووکیٹ سنجے ہیگڑے، مصنفہ فرح نقوی، اے پی سی آر کے سیکرٹری ندیم خان، ایس آئی او آف انڈیا کے قومی صدر سلمان احمد، ریسرچ سکالر فہد احمد اور دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر اپوروانند موجود تھے۔
اس رپورٹ میں تجاوزات ہٹانے میں قانون کی تعمیل نہ کرنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ علاقے کے لوگوں کو جگہ خالی کرنے کے لیے کافی وقت نہیں دیا گیا اور بلا اشتعال پرتشدد طریقے اختیار کیے گئے۔
رپورٹ میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ انتظامیہ کی یہ کارروائی ریاست کی بی جے پی حکومت کی فرقہ وارانہ سیاست کا ایک حصہ ہے، جس کے تحت اقلیتوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کے رکن ندیم خان نے کہا: ‘ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد ہم نے فیصلہ کیا کہ ہمیں وہاں جانا چاہیے اور اپنی آنکھوں سے جو تصاویر سامنے آئیں ان کو دیکھنا چاہیے۔ اب وہاں ٹریکٹر اور جے سی بی چلا دیے گئے ہیں۔ وہاں رہنے والے لوگوں کا کوئی سراغ نہیں۔ اب لوگ بھاگ کر آس پاس کے علاقوں میں چلے گئے ہیں۔
رپورٹ کیا کہتی ہے؟
تجاوزات ہٹانے کے طریقۂ کار پر سوال
فیکٹ فائنڈنگ ٹیم کا کہنا ہے کہ تجاوزات ہٹانے سے پہلے حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ بحالی کے انتظامات کرے۔ لیکن اس علاقے کے لوگوں کے لیے ایسا کچھ نہیں کیا گیا۔ جب انتظامیہ انھیں ہٹانے پہنچی تو بحالی کا وعدہ کیا گیا۔
علاقے کے لوگوں سے بات چیت کی بنیاد پر رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نوٹس 10 ستمبر کو علاقے میں رہنے والے لوگوں کے نام پر جاری کیا گیا تھا لیکن انھیں یہ نوٹس 19 ستمبر کی رات کو ملا۔ صبح انتظامیہ لوگوں کو ہٹانے کے لیے پہنچی اور انھیں جگہ خالی کرنے کو کہا گیا۔ لوگوں کو جگہ خالی کرنے کے لیے کوئی وقت نہیں دیا گیا۔
ندیم خان کہتے ہیں: ‘یہ لوگ سنہ 1965 سے اس علاقے میں رہ رہے ہیں۔ یہ علاقے دھول پور 1، 2 اور 3 ہیں۔ ان لوگوں نے ووٹ دیا ہے، ان کے پاس آدھار کارڈ ہیں۔ یہاں سنہ 1980 سے تعمیر شدہ سکول بھی ہے۔ راتوں رات اسے تجاوزات کہا جانے لگا۔ انھیں وقت پر نوٹس بھی نہیں دیا گیا۔’
پولیس کی کارروائی پر سوال
اس حوالے سے دو یکسر باتیں سامنے آئی ہیں۔ پولیس کا بیان الگ ہے اور علاقے کے لوگ کچھ اور کہتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ ‘جب پولیس زون 3 دھول پور پہنچی تو تقریبا دو سے ڈھائی ہزار افراد کا ہجوم ان کے سامنے کھڑا تھا۔ وہ حکومت مخالف نعرے لگا رہے تھے اور جنگ جیسی صورتحال تھی۔’
جج پللبی کچاری نے مظاہرین کو پرسکون کرنے کی بہت کوشش کی لیکن وہ مزید پرتشدد ہوگئے۔ ان حالات کی اطلاع سینیئر افسران کو دی گئی، پھر کچھ دیر بعد اے سی پی اور درانگ کے ڈپٹی ایس پی اضافی سکیورٹی فورسز کے ساتھ وہاں پہنچ گئے۔ مظاہرین کو قائل کرنے کی بہت کوشش کی گئی اور بحالی کا وعدہ کیا گیا لیکن وہ نہیں مانے۔
‘مظاہرین یہیں نہیں رکے، انھوں نے پولیس اہلکاروں اور جج پر حملے شروع کردیئے۔ جس کے بعد پولیس نے آنسو گیس کے گولے اور ربڑ کی گولیوں کا استعمال کیا۔ اس کے بعد بھی جب معاملہ نہیں سنبھالا گیا تو پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑا۔ لیکن جب مظاہرین نے پولیس پر ہتھیاروں سے حملہ کرنا شروع کیا تو انھیں فائرنگ کرنی پڑی۔’مظاہرین کے حملے میں کئی پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق پولیس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک بار لوگوں نے جگہ خالی کرنے پر رضامندی بھی ظاہر کی تھی لیکن پھر سینکڑوں لوگوں کا ہجوم لاٹھی اور پتھر لے کر وہاں پہنچ گیا۔ پولیس نے کچھ تنظیموں پر لوگوں کو اکسانے کا الزام لگایا ہے۔
اقلیتوں کو نشانہ بنانے کی کوشش
رپورٹ میں الزام لگایا گیا ہے کہ ریاست میں جاری انسداد تجاوزات مہم صرف تجاوزات تک محدود نہیں ہے، اس کے سیاسی مضمرات بھی ہیں۔ ہیمنت بسوا سرما کی زیرِ قیادت بی جے پی حکومت ریاست کے اقلیتی مسلمانوں کو تجاوزات کے بہانے نشانہ بنا رہی ہے۔اس سے قبل کمیونسٹ پارٹی (مارکسی) کی رہنما برندا کرت نے ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ ان کی ٹیم نے اس علاقے کا دورہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ‘انھیں صرف اس لیے نشانہ بنایا گیا ہے کہ وہ اقلیت ہیں اور مسلم اقلیت ہیں۔’
انھوں نے اس دلسوز واقعے کو جنگی جرائم قرار دیا۔
خیال رہے کہ آسام میں بنگلہ دیشی مسلمانوں اور ریاست کے مقامی شہریوں کے درمیان تنازع ایک دیرینہ مسئلہ رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ‘یہاں کے مسلمانوں کو تجاوزات یا غیر قانونی تارکین وطن کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان پر یہاں کے مقامی لوگوں کی زمین اور روزگار چھیننے کا الزام ہے۔
اس نقطہ نظر کے تحت ہی ریاست میں شہریوں کا قومی رجسٹر (این آر سی) لایا گیا اور مسلمانوں کو بیرونی ثابت کرنے کی کوشش کی گئی۔ لیکن این آر سی میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد کے نام رجسٹرڈ ہیں۔ انھوں نے شہریت کی دستاویزات پیش کی ہیں۔ تجاوزات ہٹانے کا طریقہ اس وقت اختیار کیا گیا جب این آر سی پر کوئی بات نہیں ہوئی۔
مصنفہ فرح نقوی نے اسے ترقی کے کام کے بجائے نفرت کا کام قرار دیا۔ انھوں نے کہا: ‘یہ صرف چند لوگوں کی تجاوزات کا معاملہ نہیں ہے۔ خلاف ورزی ایک الگ چیز ہے لیکن اس میں جو نفرت ہے وہ بجوئے بانیا (تقریبا مردہ جسم پر کودنے والے صحافی) میں دیکھی جا سکتی ہے۔
‘جب بنگلہ دیشی اور در اندازی (والے سارے حربے) سب ناکام ہو گئے اور بہت سے مسلمانوں کے نام این آر سی میں شامل ہوئے تو تجاوزات کا ایک نیا طریقہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ فرقہ وارانہ سیاست اپنے شہریوں کو کس قسم کے نام دے رہی ہے۔’
بہر حال حکومت ایسے کسی بھی الزام کی تردید کرتی ہے۔ این آر سی کے دوران مرکزی حکومت نے کہا تھا کہ اس کا انڈین مسلمانوں پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ یہ ان لوگوں کی شناخت کے لیے ہے جو بنگلہ دیش سے غیر قانونی طور پر ہندوستان آئے تھے۔
تجاوزات ہٹانے کے لیے جاری مہم کو بھی ریاستی حکومت نے ریاست کی ترقی کے لیے ضروری قرار دیا ہے۔ یہ خالی زمین زراعت کے ذریعے روزگار پیدا کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔
ٹیم کی سفارشات
اس پورے معاملے کے پیش نظر فیکٹ فائنڈنگ ٹیم نے ریاستی حکومت کو کچھ سفارشات بھی پیش کی ہیں:
• حکومت شیخ فرید اور معین الحق کے اہل خانہ اور اس واقعہ میں زخمی ہونے والوں کو معاوضہ دے۔
• درانگ ایس پی سوشانت بسوا سرما سمیت غیر مسلح افراد پر فائرنگ کے ذمہ دار پولیس افسران کے خلاف کارروائی کی جائے۔
• تجاوزات ہٹانے کی مہم فوری بند کی جائے۔
• تجاوزات کی مخالفت کرنے والے افراد کے خلاف مقدمات واپس لیے جائیں۔
• تجاوزات ہٹانے سے پہلے لوگوں کو بحالی کی سہولت فراہم کی جائے۔

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔