آزدائی اظہار رائے کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ کسی مذہبی شخصیت کا مذاق اڑایا جائے

5

تحریک ”نبی رحمت“کے تحت منعقدہ پروگراموں سے مقررین کا اظہار خیال
دیوبند 12/نومبر (پریس ریلیز)نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کو عام کرنے اور فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کرنے کے لئے شروع کی گئی معہد عائشہ الصدیقہ ؓ قاسم العلوم للبنات کی مہم ”نبی رحمت“کے تحت ملک کے مختلف علاقوں میں پروگرام اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے،معہد کی فاضلات اور طالبات کے ذریعہ اپنے اپنے علاقوں میں پروگرام منعقد کرکے نبی رحمت کی تعلیمات کو عام کرنے کے ساتھ ساتھ فرانسیسی مصنوعات کے بائیکاٹ کی مہم کو بھی بحسن وخوبی چلارہی ہے۔،مہم کے بارے میں جانکاری دیتے ہوئے معہد عائشہ الصدیقہ قاسم العلوم للبنات دیوبند کی پرنسپل عفت ندیم الواجدی نے اپنے اخباری بیان میں کہا کہ فرانس میں نبی اکرم ﷺ کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سے پورے دنیا کا مسلمان تکلیف میں ہے اور اس نے اپنے غم وغصہ کا اظہار کیاہے،معہد عائشہ کی انتظامیہ،طالبات اور فاضلات کے مشترکہ مشورے سے یہ طے پایا کہ اس وقت ایسی کوئی تحریک شروع کی جائے جس میں نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات سے دنیا کو واقف کرایا جائے تاکہ مغرب کی طرف سے ”نبی رحمت“اور ان کی تعلیمات کے سلسلے میں جو غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں ان کا ازالہ کیا جاسکے .چنانچہ ہم نے دس روزہ ”نبی رحمت“مہم کا آغاز کیا جو الحمدللہ کامیابی سے جاری ہے انہوں نے بتایا کہ اب تک کشمیر،مہاراشٹر،یوپی کے مختلف اضلاع کے علاوہ نیپال وغیرہ میں بھی پروگرام اور احتجاج کئے گئے ہیں جس میں معہد کی فاضلات نے نمایاں کردار ادا کیا ہے،انہوں نے بتایا کہ اس علاوہ نبی رحمت کی زندگی پر مشتمل مضامین کی اشاعت،احادیث نبویہ کی اشاعت فرانس کی مصنوعات اور ان کے متبادل کی تشہیر وغیرہ بھی جارہی ہے۔ہمارا مقصد ہے کہ ہم نبی اکرم ﷺ کی تعلیمات کو دنیا کے تمام انسانوں تک پہنچائیں اور انشاء اللہ اس مہم کے بعد بھی ہم اپنے مشن اور مقصد میں تندہی کے ساتھ دل وجان سے لگے رہیں گے۔عشرہ ”نبی رحمت کے تحت آج کشمیر کے ضلع پونچھ،مہاراشٹر کے ضلع آکولہ،یوپی کے ضلع شاملی،امروہہ،سلطان پور اور گجرا ت کے احمد آباد میں پروگرام کا انعقاد کیا ہوا۔ضلع شاملی میں عزیز پور گاؤں میں منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے معہد کی فاضلہ صاحبہ جمشید نے کہا کہ انسان اس وقت تک مؤمن کامل نہیں ہوسکتا جب تک وہ خداوند عالم کو اپنا معبود حقیقی تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ محبد عربی ﷺ کو آخری نبی اور رسول نہ مان لے۔انہوں نے کہا کہ نبی کریمﷺ سے محبت مؤمن کا جزو ایمان ہے یہی وجہ ہے کہ مسلمان ہر تکلیف اور مصیبت کو گوارا کرلیتا ہے لیکن نبی رحمت ﷺ کی شان میں ادنی سی گستاخی بھی برداشت نہیں کرپاتا۔انہوں نے کہا کہ فرانس میں اہانت رسول ﷺ اور گستاخانہ خاکوں کی تشہیر اور صدر میکرون کے اسلام مخالف بیان پورا عالم اسلام چراغ پا اور ہر ایک اس گستاخانہ حرکت اور بدتمیزی کی کھلے لفظوں میں مذمت کررہا ہے،انہوں نے کہا کہ ہم اپنی حکومت سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ فرانس کے سلسلے میں دیئے گئے اپنے بیان پر غور کرے اور اسے واپس لے کیونکہ اس بیان سے ہندوستانیوں کو تکلیف پہنچی ہے اور ہندوستان ایک سیکولر اور گنگا جمنی تہذیب کا حامل ملک ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کے تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ فرانس کے مصنوعات کا بائیکاٹ کریں کیونکہ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ جس ملک کا معاشی بائیکاٹ کیا جاتا ہے وہ ملک گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجاتا ہے،نیپال کے رانی بن گورکھا میں منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے معہد کی طالبہ عائشہ رمضان نے کہا کہ واقعی اس گستاخانہ رویہ سے پوری دنیا کے مسلمانوں کو تکلیف پہنچی ہے ہر ایک کبید خاطر ہے،انہوں نے کہا کہ آزدائی اظہار رائے کا یہ ہرگز مطلب نہیں کہ کسی مذہبی شخصیت کا مذاق اڑایا جائے،
تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ اس کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لے اور فرانس کے خلاف ہر مسلمان سراپا احتجاج بن جائے اور اسے ایسا سبق سکھائیں کہ پھر کبھی اسے اس کی جرأت نہ ہوسکے۔ضلع امروہہ کے قصبہ گجرولہ میں منعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے معہد کی فاضلہ گلستاں انیس نے کہا کہ فرانس کے صدر کاگستاخانہ پوسٹر آویزاں کرنا اور اسے حکومتی سطحپر فروغ دینا نہایت ہی گھٹیا عمل ہے،اسلام دشمنی کی آخری حد فرانس کے صدر نے پار کردی ہے۔ایسے نازک حالات میں جہاں پوری دنیا سے مذہبی بیان جاری ہورہے ہیں اور مسلم قوم صدائے احتجاج بلند کررہی ہے یہی کافی نہیں بلکہ عالم اسلام کے ساتھ ساتھ پوری مسلم قوم کو فرانسیسی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اس قسم کی بیہودہ حرکتیں مغربی دنیا بار بار کررہی ہے،کبھی ڈنماک،کبھی ہالینڈ،کبھی فرانس یہ ان لوگوں کی بے عقلی اور پاگل پن ہے،انہوں نے کہا کہ ناموس رسالت کے حساس مسئلے کو مسلمان اپنے والدین اہل وعیال بلکہ اپنی جان سے زیادہ عزیز سمجھتا ہے۔گلستاں انیس نے کہا کہ ہمیں چاہئے کہ فرانس کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں اور سیرت نبوی ﷺ کا تعارف غیر مسلموں اور اس سے زیادہ اپنی نئی نسل کو کرائیں۔اس موقع پر عائشہ جمشید، ترنم، یاسمین، جمشید، حسنین، شائستہ، حبیبہ، صبیحہ، روبینہ،کلثوم،زاہدہ، ظہیرہ،مومنہ، شبی،سارا،بشریٰ،ثانیہ،عائشہ،لائبہ، ثنا،،نکہت وغیرہ موجود تھیں۔