آزاد مسلم خواتین ارکان بلدیہ کے خلاف کانگریس ہائی کورٹ میں

0 11

کھام گاوں کی بانو اور ذکیہ بانو کی رکنیت کے تعلق سے 7 ڈسمبر کو سنوائی

کھام گاوں ( نامہ نگار)کھام گاوں بلدیہ کی دو آزاد مسلم خواتین کی رکنیت ختم کرنے کے لئے اب کانگریس کے بلدیہ گٹ نیتا ارچنا ٹالے و مسلم رکن بلدیہ ابراہیم خان سبحان خان نے ناگپور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے. جس پر 7 ڈسمبر کو سنوائی کے تعلق سے بلدیہ چیف آفیسر، سمیت رکن بلدیہ و مہلا بال کلیان سبھاپتی ذکیہ بانو شیخ انیس جمعدار و رکن بلدیہ حجن شہر بانو الحاج ظہیر اللہ شاہ کو ناگپور ہائی کورٹ کی جانب سے نوٹس مل گئی.لی جانکاری کے مطابق اس معاملے کی تفصیلات کچھ اس طرح ہے کہ کھام گاوں نگر پریشد کے عام انتخاب میں بحثیت آزاد امیدوار پربھاگ نمبر 2سے حجن شہر بانو الحاج ظہیر اللہ شاہ اور پربھاگ نمبر 12 سے ذکیہ بانو شیخ انیس جمعدار نے کامیابی حاصل کی تھی. وارڈ و ملت کی ترقی کے لئے وارڈ اور شہر کے ذی شعور اشخاص سے مشورہ کرنے کے بعد. دونوں مسلم آزاد خواتین ارکان بلدیہ نے واضح اکثریت والی بی جے پی کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ کیا.یہ بات کھام گاوں کے خود ساختہ سیکولر کانگریسیوں کو ہضم نہیں ہوئی. اور کانگریس کی گٹ نیتا ارچنا ٹالے. و مسلم رکن بلدیہ ابراہیم خان سبحان خان نے بلڈانہ کلکٹر کے پاس ایک عرضداشت داخل کرکے ان دونوں مسلم خواتین کی رکنیت ختم کرنے کا مطالبہ کیا. جس پر سنوائی کے بعد ضلع کلکٹر نے ان آزاد دونوں مسلم خواتین کی رکنیت کو ختم کرنے کا فیصلہ دیا تھا.اس فیصلہ کے خلاف انصاف حاصل کرنے کے لیے ان دونوں مسلم خواتین نے وزہر شہری ترقی رنجیت پاٹیل کے پاس اپیل کی تھی . جس پر پہلے ہی دن اسٹے مل گیا تھا. اور 20 اگست کو اس ضمن میں وزیر شہری ترقی نے اپنے فیصلے میں بلڈانہ ضلع کلکٹر کے 27 ڈسمبر 2017 کے فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے شہر بانو اور ذکیہ بانو کی بلدیہ کی رکنیت کو قائم رکھا تھا..عیدالاضحیٰ کے مبارک موقع پر آیے اس فیصلہ سے پورے مسلم سماج میں خوشی دو بالا ہوگی تھی . لیکن اب پھر کانگریس نے ان دونوں آزاد مسلم خواتین ارکان بلدیہ کی رکنیت ختم کرنے کے لئے ناگپور ہائی کورٹ میں عرض داشت داخل کی. جس پر 7 ڈسمبر کو سنوائی ہوگی معلوم رہے کہ 20 اگست کے وزیر شہری ترقی کے فیصلے کے بعد ہی دونوں خواتین ارکان بلدیہ نے ناگپور ہائی کورٹ میں کیویٹ داخل کردی تھی. لوگ کانگریس کی اس پالیسی کے خلاف کھل کر سامنے آرہے ہیں. لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر کانگریس ان دونوں مسلم خواتین کی رکنیت ختم کرنے کے بعد اس وارڈ سے دو کانگریس کے امیدواروں کو کامیاب بنانے میں کامیاب بھی ہوجاتی ہے تو بھی نگر پریشد میں کانگریس کو اقتدار نہیں ملتا کیونکہ کھام گاوں نگر پریشد میں بی جے پی کے پاس واضح اکثریت حاصل ہے.عوام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان دونوں مسلم خواتین کے بی جے پی کے ساتھ رہنے سے وارڈ کے اب تک تین کروڑ روپے کے توقی کے کام ہوچکے ، جبکہ محبوب نگر اور ڈوباربیس میں ایک کروڑ تیس لاکھ کے کاموں کی منظورات کی کارروائی شروع ہے. . باطور خاص گزشتہ 15 سالوں سے نگر پریشد میں کانگریس کی حکومت ہونے کے باوجود بھی مسلم محلے پانی سے محروم تھے. ان دونوں مسلم خواتین نے آنجہانی بھاو صاحب فونڈکر و رکن اسمبلی آکاش فونڈکر سے مسلم محلوں میں پانی کی پریشانی کا ذکر کر کے اسکو حل کرنے کا مطالبہ کیا تھا. انکے اس مطالبے کو منظور کرکے رکن اسمبلی آکاش فونڈکر نے پانی ہروٹھا سبھاپتی اوم شرما کو جلد از جلد اس پریشانی کو دور کرنے کا کہا تھا. جس پر اوم شرما نے سب سے پہلے شوکت کالونی میں نئی پائپ لائن جوڑ کر نل شروع کر دیا. اس پر بھی کانگریس نے جو حرکت کی تھی وہ پورے شہر کے مسلم لوگوں کو معلوم ہے. اس کے علاوہ نور کالونی، برڈے پلاٹ، محبوب نگر. کھدان. میں بھی پائپ لائن جوڑنے کو منظورات مل چکی ، جو عن قریب شروع ہوجائیں گی. تعلیم یافتہ نءنوجوان مخلص مسلم قیارت کو ختم کرنے کے لیے کانگریس ہائی کورٹ تک ان مسلم خواتین کی رکنیت ختم کرنے کے لیے جائیگی اسی بات کی عوام میں پہلے دن سے ہی چرچا تھی .اور وہی ہوا. اب عوام آنے والے الیکشن میں اس کا بدلہ لینے کے لئے تیار ہے.