Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

آر بی آئی نے پھر لگائی ایک بینک پر پابندی، 6 مہینے تک گاہک نہیں نکال سکیں گے پیسہ

IMG_20190630_195052.JPG

rbiریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) گزشتہ کچھ سالوں سے چھوٹے بڑے بینکوں پر لگاتار سخت کارروائیاں کر رہا ہے اور اس عمل کے تحت اب اتر پردیش کے کانپور واقع پیپلز کو آپریٹو بینک پر شکنجہ کسا گیا ہے۔ آر بی آئی کی کارروائی کی وجہ سے بینک صارفین (اکاؤنٹ ہولڈرس ) کو زبردست جھٹکا لگا ہے کیونکہ وہ 6 مہینے تک اپنا پیسہ نہیں نکال پائیں گے۔ مہاراشٹر کو آپریٹو بینک کی طرح پیپلز کو آپریٹو بینک میں کھاتہ رکھنے والوں کو بھی اب مسائل کا سامنا ہے۔

حالانکہ آر بی آئی گاہکوں کے پیسہ محفوظ رکھنے کے لیے ہی بینکوں پر یہ کارروائی کر رہی ہے اور لگاتار کسی بینک پر جرمانہ عائد کیا جا رہا ہے تو کسی پر پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔ لیکن ان پابندیوں کی وجہ سے گاہکوں کو بھی پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے کئی بار وہ مشتعل بھی ہو جاتے ہیں۔ آر بی آئی نے پیپلز کو آپریٹو بینک 6 مہینے کے لیے کئی طرح کی پابندیاں عائد کی ہیں۔

میڈیا ذرائع سے موصول ہو رہی خبروں کے مطابق 6 مہینے کے لیے گاہکوں کو نئے قرض دینے اور ڈپازٹ قبول کرنے سے پوری طرح روک دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس کو آپریٹو بینک سے کسی ڈپازیٹرس کو رقم نکالنے کی بھی سہولت فی الحال نہیں ملے گی۔ آر بی آئی نے اس سلسلے میں ایک بیان میں کہا ہے کہ "10 جون 2020 کو کاروبار بند ہونے کے بعد بینک بغیر ریزرو بینک کی تحریری اجازت کے کوئی نیا قرض نہیں دے پائے گا یا پرانے بقایہ کو جاری نہیں کر سکے گا۔ اس کے علاوہ بینک کوئی نئی سرمایہ کاری بھی نہیں کر سکے گا اور نہ ہی نیا جمع قبول کر سکے گا۔”

آر بی آئی کی ہدایت کے مطابق پیپلز کو آپریٹو بینک پر کسی بھی ملکیت کو فروخت کرنے، منتقل کرنے یا اس کا نمٹارہ کرنے سے متعلق پابندی عائد کی گئی ہے۔ آر بی آئی نے ساتھ ہی واضح لفظوں میں کہا ہے کہ "سبھی سیونگ بینک اکاؤنٹ یا کرنٹ اکاؤنٹ یا جمع کنندہ کے کسی بھی دیگر اکاؤنٹ میں کل بقایہ رقم کو نکالنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی ہے۔”

قابل ذکر ہے کہ آر بی آئی نے یہ فیصلہ پیپلز کو آپریٹو بینک کی کمزور مالی حالت کو دیکھتے ہوئے لیا ہے۔ حالانکہ ریزرو بینک نے واضح کیا ہے کہ اس ہدایت کو کو آپریٹو بینک کے بینکنگ لائسنس کو رد کرنے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ بینک اپنی مالی حالت میں بہتری ہونے تک پابندیوں کے ساتھ بینکنگ کاروبار کرنا جاری رکھے گا۔