آر ایس ایس سے جماعت اسلامی ہند کے مذاکرات

221

✍:سمیع اللہ خان

آر ایس ایس کےساتھ جماعتِ اسلامي ہند کے مذاکراتکیرالا کے وزیراعلیٰ سمیت ساؤتھ انڈیا کے مسلم نمائندوں کا سخت ردعمل:
جمعیۃ علمائے ہند کی طرح جماعت اسلامی ہند بھی اِس وقت آر ایس ایس یعنی کہ راشٹریہ سوئم سیوک سَنگھ کےساتھ مذاکرات و اتحاد کے رجحان میں نظر آرہی ہے، جماعت اسلامی کے اس اقدام کےخلاف ساؤتھ انڈیا میں خاصا غصہ پایا جارہاہے اور ہمارا اپنا مشاہدہ بھی ہےکہ آر ایس ایس کےساتھ مذاکرات کےبعد سے ساؤتھ انڈیا ہی نہیں بلکہ ملک کے مختلف علمی و فکری حلقوں میں بھی جماعت اسلامی ہند کے سلسلے میں انتہائی منفی تاثر پروان چڑھ رہاہے، جماعت اسلامی کے اس اقدام نے بھارت کے غیرسنگھی سماج کو کتنا منفی پیغام دیا ہوگا کہ ایک ریاست کا چیف منسٹر جماعت کو سخت تنقید کا نشانہ بنارہا ہے، یہ منفی ماحول جماعت کی اپنی انتہائی غلط پالیسی کا نتیجہ ہے ۔


کیرالا کے وزیراعلیٰ نے جماعت کے اس اقدام پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہےکہ "جس وقت بھارت کی غیرسنگھی طاقتیں آر ایس ایس کےخلاف متحد ہورہی ہیں اس وقت جماعت اسلامی سنگھ کےساتھ مذاکرات کررہی ہے، آپکو مسلمانوں کا نمائندہ ہونے کا حق کس نےدیا ہے؟ "
آر ایس ایس کےساتھ مسلم جماعتوں کی مذاکراتی نشستیں اب ملک کے مختلف سماجی، سیاسی اور دانش ور حلقوں میں چرچا کا موضوع بن رہی ہیں، اور اسے اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جارہاہے، سَنگھ کےساتھ مذاکرات کا یہ سلسلہ مسلم قیادتوں کے اعتبار اور وقار کو مسلمانوں کےعلاوہ دیگر سماجی حلقوں میں بھی بُری طرح مجروح اور بےوزن کررہاہے، کیونکہ یہ وقت آر ایس ایس کےخلاف متحد ہونے کا سب سے زیادہ متقاضی ہے_

ہم نے جمعیۃ علمائے ہند اور آر ایس ایس کے اتحادی امکان کے سلسلے میں جو تحریر بعنوان ” آر ایس ایس کےساتھ مسلمانوں کا اتحاد ناممکن! ” لکھی تھی وہ بعینہ جماعتِ اسلامی ہند اور آر ایس ایس کے مابین مذاکرات پر بھی ہے،
آر ایس ایس ایک فاشسٹ اور دہشتگرد تنظیم ہے، بھارت میں ہزاروں مسلمان فسادات میں مارے گئے ہیں اُس فسادات کو کروانے میں سَنگھ کا بالواسطہ یا بلاواسطہ ہاتھ رہاہے، آر ایس ایس کے لوگ بم بلاسٹ کروانے میں بھی ماخوذ ہیں یہاں تک کہ آر ایس ایس کے سنگھی دہشتگرد نے عدالت میں حلف نامہ تک داخل کرکے آر ایس ایس کےذریعے بم بلاسٹ اور قتل و غارت گری کا اعتراف کیا ہے، آر ایس ایس کے ہاتھ کتنے ہی معصوموں کے خون سے رنگین ہیں ایسے دہشتگرد گروہ کےساتھ امن مذاکرات کا کیا ہی مطلب ہے سوائے انتہائی بزدلانہ مصلحت اور کسی طرح چند سانسیں اُدھار لینے کے۔
آج اگر آپ آر ایس ایس کےساتھ بیٹھ رہےہیں تو اس کا آر ایس ایس کو سیدھا فائدہ یہ ہےکہ آپ اس کو ایک حیثیت دے رہےہیں انہیں نارملائز کررہےہیں جس کا براہ راست نقصان ان کوششوں کو ہورہاہے جو موجودہ بھارت میں سَنگھ کےخلاف ملک کے مختلف سماج کی طرف سے جاری ہیں، آپ خواہ کتنے ہی صاف ایجنڈے لےکر جائیں لیکن یقین جانیں کہ سَنگھ آپکو اپنی میز پر صرف اسی ليے بیٹھا رہاہے کہ وہ اپنی شبیه صاف بھی کرے اور خود کو امنِ عامہ کی اتھارٹی کے طورپر منوالے، آر ایس ایس مسلم قیادتوں کو اپنے ساتھ بیٹھا کر اپنا کام نکال رہا ہے، وہ ایکطرف آپکو امن مذاکرات کے لیے بٹھاتا ہے تو دوسری طرف اُس کے ہندوتوا دہشتگردوں کا ٹولہ مسلمانوں کو گائے کےنام پر زندہ جلارہا ہے، کیا آپکو ان کا یہ عملی کردار بھی نظر نہیں آتا کہ وہ کس طرح آپکو اپنے جال میں پھنسا رہےہیں؟ وہ آپکےساتھ امن کو لےکر ایک فیصد بھی سنجیدہ نہیں ہیں بلکہ وہ آپکو بیوقوف بناکر آپکے لوگوں کی لاشیں گراکر قہقہے لگارہے ہیں، اور دوسری طرف ہندوستان کے دیگر سماجی حلقوں میں آپکو وِلن بھی بنارہے ہیں!
مذاکرات حکومتوں سے تو سمجھ میں آسکتےہیں لیکن کوئی بھی باعزت اتھارٹی یا کسی بھی خوددار قوم کی خودمختار قیادتیں کبھی بھی ڈاکوؤں، قاتلوں، بمباروں اور فسادیوں کےساتھ مذاکرات کےنام پر بیٹھا نہیں کرتی، کیونکہ پروٹوکول یہی کہتاہے کہ ایسا کرنا مجرمین کو معززین میں شامل کرتاہے، آر ایس ایس دنیائے انسانیت کے انتہائی درندہ صفت فاشسزم کا نمائندہ ہے جو قتل و غارتگری سے آگے بڑھ کر اپنے مخالفین کی عورتوں سے زناء بالجبر کو بھی نارمل سمجھتاہے اور یہ صرف کہنے کی بات نہیں ہے بلکہ سَنگھ سے متاثرہ و متعلقہ تنظیمیں جوکہ سَنگھ پریوار کا حصہ ہیں وہ زانیوں تک کو ہار پہنا کر ان کا استقبال کرچکی ہیں بلقیس بانو کے مجرموں اور حیوانوں کی رہائی پر سنگھیوں کا عملی نمونہ شاید آپ بھول گئے_
سنگھ صرف مسلمانوں کے لیے نہیں بلکہ دیگر تمام علاقائی، مقامی، طاقتوں اور ثقافتوں کی بقاء کے لیے چیلینج ہے، مختلف طبقات کی حقِ خودارادیت کے لیے خطرہ ہے، یہی وجہ ہےکہ دیگر سماج کے ذمہ داران بھی مسلم جماعتوں کے اس اقدام کےخلاف سخت ردعمل کا مظاہرہ کررہی ہیں، اگر آپ آج سَنگھ کےساتھ بیٹھتے ہیں تو آپ ان تمام قوموں اور بھارت کے مختلف اور متنوع سماج کی نظر میں خود کو بہت نیچے گرا لیں گے، اور یہ بہت بڑی ناکامی اور تاریخ میں لکھی جانے والی بڑی موقع پرستی ہوگی_

کیرالا ریاست کے وزیراعلیٰ نے آر ایس ایس کےساتھ مذاکرات کی بنیاد پر جماعت اسلامی ہند کےخلاف جو بیان دیا ہے اس کی کچھ باتوں سے ہمیں بھی اختلاف ہے لیکن ان کا یہ شِکوہ غور طلب ہے کہ جس وقت بھارت کی مختلف سماجی لیڈرشپ آر ایس ایس کےخلاف متحد ہورہی ہیں اور کوششیں کررہی ہیں اُس وقت ایسے اقدامات آر ایس ایس کے ایجنڈے کو تقویت پہنچائیں گے، کیرالا کے وزیراعلیٰ کےعلاوہ ساؤتھ انڈیا کی مقامی مسلم جماعتوں نے بھی جماعت اسلامی کی طرف سے آر ایس ایس کےساتھ مذاکرات کو سخت تنقید کا نشانہ بنایاہے، جماعتِ اسلامی ہند کو چاہیے کہ وہ آر ایس ایس کو نارملائز کرنے کی کوششوں کا حصہ بن کر اپنی تاریخ کو داغدار نہ کرے، جماعت کےعلاوہ جمعیۃ علماء اور مسلمانوں کی تمام قیادتوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ، اگر وہ آج آر ایس ایس کےساتھ مذاکرات کرتےہیں تو کل کو وہ بھارت کی بیشتر مقامی ثقافتی طبقات کو اپنے خلاف کرلیں گی اور ایسی انتہائی غلط پالیسیوں کا خمیازہ عام مسلمانوں کو بھی بھگتنا پڑےگا کہ بھارت کے متنوع سماج میں انہیں نسل پرست آر ایس ایس کےساتھ ہاتھ ملانے والوں کے طورپر دیکھا جائےگا، آر ایس ایس آج ہے کل یقینًا نہیں ہوگا_
اللہ تعالٰی مسلم قائدین کو دشمنوں کی چالیں سمجھنے والی بصیرت اور انہیں ناکام کرنے والی فراست عطا فرمائے۔آمین
ksamikhann@gmail.com