سپین میں ایک شخص کو اپنی والدہ کو قتل کر کے ان کے باقیات کو کھانے کا جرم ثابت ہونے پر 15 سال کی سزا سنائی گئی ہے۔28 سالہ ایلبرٹو سانچیز گومیز کو 2019 میں پولیس نے اس وقت گرفتار کیا تھا جب اس کے گھر سے اس کی والدہ کے جسم کے مختلف حصے پلاسٹک کے ڈبوں میں رکھے ہوئے ملے تھے۔

عدالت نے سانچیز کے اس دفاع کو مسترد کیا کہ قتل کرتے وقت وہ دماغی مسائل سے دوچار تھا۔ سانچیز کو قتل کے جرم میں 15 سال اور لاش کی بے حرمتی کے جرم میں مزید پانچ ماہ کی سزا سنائی گئی ہے۔
اس کے علاوہ عدالت نے سانچیز کو اپنے بھائی کو ہرجانے کے طور پر 60 ہزار یورو کی رقم بھی ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

یاد رہے کہ فروری 2019 میں مشرقی میڈرڈ میں پولیس سانچیز کے گھر پر اس وقت پہنچی تھی جب ایک دوست نے ماریا سولیڈاڈ گومیز کی سلامتی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا تھا۔ ان کی عمر ساٹھ برس سے زیادہ تھی۔
عدالتی سماعت کے دوران یہ سامنے آیا کہ سانچیز نے، جس کی عمر تب 26 برس تھی، اپنی والدہ سے اختلاف کرنے کے بعد ان کا گلا گھونٹ دیا تھا۔
اس کے بعد اس نے ان کے جسم کے ٹکڑے کیے اور اگلے دو ہفتوں کے دوران یہ ٹکڑے نہ صرف خود کھائے بلکہ اپنے کتے کو بھی کھلائے۔
ہسپانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ پولیس کو سانچیز کے بارے میں اپنی ماں پر تشدد کرنے کی وجہ سے پہلے سے علم تھا اور گرفتاری کے وقت وہ اپنے ’ریسٹریننگ آرڈر‘ کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔
ریسٹریننگ آرڈر وہ عارضی عدالتی حکم ہوتا ہے جس کے تحت کسی بھی شخص پر کسی دوسرے شخص سے ملنے پر پابندی ہوتی ہے۔