از قلم:فرح ناز(Msc(SE عبدالرب فاروقی رحمت نگر ناندیڑ

نافرمانیوں اور گناہوں کی وجہ سے آیا مصیبتوں کا آیا طوفان

جیسا کے ہم سب جانتے ہے کہ آج ہر انسان کرونا وائرس جیسی جان لیوا بیماری کا شکار ہورہا ہے ۔ ہر ملک میں کرونا وائرس آگ کی طرح پھیلاتا جا رہا ہے

یہ بات تو ہے کہ اللہ تعالی نے قران مجید میں ارشاد فرمایا ہے: وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِلْمُؤْمِنِينَ

ترجمہ: ہم نے جو قران نازل کیا ہے اس کے اندر مومنوں کے لیے شفا ہے،رحمت ہے۔اور ظالموں کو خسارے کے علاوہ کچھ نہی ملےگا۔

مطلب یہ پتا چلتا ہے کہ رب الامیں نے جو قران نازل کیا ہے اس مے جسمانی اور روحانی دونوں شفا ہے۔ جو قران پاک پدھنے والےکو حاصل ہوگی۔

آب دکھا جا رہا ہے کہ کورنا وائرس کی روک تھام کافی مثکل ثابت ہورہی ہے۔ آخر کیوں اس بیماری کا علاج اور روک تھام ایک مشکل کام بن گیا ہے؟

کس وجہ سے آیا اتنا بڑا مصیبتوں کا طوفان؟

کیوں وائرس دنیا کے لاکھوں لوگوں کو برباد کر رہا ہے؟

آخر کیوں اللہ سبحان تعالی ہم سب سے اتنا ناراض ہے؟۔۔۔۔۔ کیوں۔۔۔۔کیوں۔۔۔کیوں؟؟؟؟؟

رسول پاک ﷺ کا فرمان ہے

"جب دنیا میں بے حیائی حد سے زیادہ بڑھتی ہے تب وبائی امراض کا طوفان آتا ہے۔ "

حضرت کعب ؓ نے ارشاد فرمایا:

– جب تم دیکھو کہ تلورے باہر نکل آئی لوگوں کے خون بہائے جانے لگے ہے تو سمجھ لو

” اس قوم نے اللہ کے حکم کو ضائع کیا۔ "

اور

جب تم دیکھو کہ بارش کم ہورہی ہے ضرورت کےمطابق نہیں ہو رہی ہے تو سمجھ لو

” لوگوں نے زکات دینا بند کر دیا ہے۔”
اور
جب تم یہ دیکھو کہ وبائی امراض پھیل رہے ہے تو سمجھ لو
"لوگوں میں بے حیائی اور زنا عام ہوگیا ہے۔”

اب دورے حاضرہ کا جائزہ لیا جائےتو پتہ چلےگا یہ تمام کے تمام گناہ بہت عام ہوتے جا رہے ہیں۔ بے حیائی کس حد تک پہنچ چکی ہے اسے بیان بھی نہیں کیا جا سکتا۔

– عورتوں کا بے پردہ بازاروں میں گھومنا
– سوشل میڈیا پر غیر محرموں سے باتیں کرنا
– نو جوانوں کا کھلے عام پارک اور گارڈوں میں گھومنا

اور بہت سے ایسے کام کرنا جسکا شرعیت نے منع کیا ہے ۔ لیکن اس دور کے نا جوانوں کو سمجھے کون؟ جوانی کو بے کار کاموں میں ضائع نا کرتے ہوئے’ عبادت اور ذکر و اذکار میں ؍صرف کریں۔ کیوں کہ
روز قیامت یہ سوال ہونے والا ہے
جوانی کو کس کاموں میں گزرا؟

افسوس ناک بات ہے کہ! آج کے نو جوان بے حیائی اور نا فرمانیوں میں مبتلا ہے۔ انسان رب کے حکم کے خلاف کام کرتا نظر آ رہا ہے۔ بے حیائی،زنا، چوری،قتل و غارت گری، رشوت خوری’مجبوروں پر ظلم و ستم۔ یہ تمام کے تمام کام رب کے حکم ک خلاف ہے۔ جسکا نتیجہ یہ ہوا کہ خطرناک عذاب کرونا وائرس
دنیا پر رو نما ہوا۔ جسکا حل نکال مشکل ہوگیا ہے۔
لاکھواں کی تعداد میں لوگ دنیا سے رخصت ہو چکے ہے۔ اور ہزارواں لوگ ہسپتال میں اس بیماری سے لڑ رہے ہیں۔
اب ہمیں سوچنا یہ ہے کہ اس بیماری سے باہر نکلا کیسے جائے؟ شفا کیسے حاصل کی جائے؟

بشک ہر مصیبت اور پریشانیوں کا ایک ہی راستہ ہے
اللہ سبحان تعالی کا راستہ

نمازیں پڑھیں، تلاوت قرآن کریں اللہ کے ذکر میں ذیادہ سے ذیادہ وقت گزرے، نیک اعمال اور حسن سلوک اختیار کریں۔ ایک دوسرے کےتعلق سے دل سے کینا بغض ختم کرے۔ مصیبت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیں۔

آئیے ہم سب مل کر دعا کریں:
اللہ سبحان تعالی ہم سب کے صغیر و کبیرہ گناہوں کو معاف فرمائے اور کرونا وائرس کو جلد سے جلد ختم کر دے اور تمام مریضوں کو شفا کامل عطا کرے۔ اور جو دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں انھیں جنت میں اعلی مقام عطا فرمائے ۔ امین ثم آمین