آج_۲۹مئی: یومِ_فتحِ_قسطنطنیہ

0 32

سمیع اللّٰہ خان

” وہ تاریخی دن جس سے بازنطینی یوروپ آج بھی کراہتا ہے، لیکن کیا یہ دن مسلمانوں کو یاد ہے؟ ”

آج کا دن عظیم عثمانیوں کو یاد کرنے کا دن ہے، اپنی فتوحات کو یاد رکھنا اور فاتحین کے تذکرے کرنا زندہ اور خوددار اقوام کی نشانی ہوتی ہے۔
آج سے ۵ سو سال قبل یہی وہ گھڑی تھی… یوروپ میں جس کی صبح, عیسائیوں کی استعماری سلطنت کے غروب سے طلوع ہوئی تھی، یہی وہ تاریخی گھڑی تھی جب عظیم اسلامی سپہ سالار، سلطنت عثمانیہ کے نامور خلیفۃ المسلمین، سلطان محمد الفاتح نے قسطنطنیہ پر عثمانی پرچم لہرایا تھا، یہی وہ عہد ساز لمحات تھے جب صلیبیوں کے مقدسات میں سے ایک، آرتھوڈکس عیسائیوں کا قلعہ اور صلیبیوں کی بزنطینی بادشاہت کے بے مثال دارالحکومت کو اسلامی افواج نے عثمانی خلافت کے تحت سرنگوں کرلیا تھا، قسطنطنیہ کا نام پہلے ” باز نطین ” تھا سلطان محمد الفاتح نے اسے فتح کرکے اس کا نام ” اسلام بول ” رکھ دیا، اور اب یہ شہر ” استنبول کے نام سے جانا جاتاہے_

عظیم عثمانی ترکوں نے قسطنطنیہ کو فتح کرکے نہ صرف اسلام کی جھولی میں ڈال دیا بلکہ اسے تاقیامت یوروپ کی مسیحی دنیا کے لیے کچوکے لگانے کا سامان کردیاہے، استنبول یوروپ کے ان شہروں میں سے ایک ہے جو قدرتی ذخائر اور خزانوں سے لبالب ہے، قسطنطنیہ یعنی کہ استنبول یوروپ کے خوبصورت ترین شہروں میں سے ایک ہے جسے کبھی شہروں کی ملکہ بھی کہا جاتاتھا، یہ فتح کوئی معمولی فتح نہیں تھی بلکہ اس فتح کے لیے ہمارے نبیۖ حضرت محمدﷺ نے بشارتیں بھی دیں تھیں، میزبانِ رسولﷺ حضرت ابو ایوب انصاری ؓ اسی سلسلے کے غزوہ میں وفات پاکر شہید ہوئے، آج بھی ان کی مزار اور یادگاریں ترکی میں موجود ہیں، یہی وجہ ہیکہ بازنطینی سلطنت اور عیسائی دنیا کے لیے یہ فتح ایک سوگوار تاریخ چھوڑ گئی ہے، یوروپ کی دین بیزار اور اسلام دشمن دنیا جس قسطنطنیہ یا بازنطین پر مغرور تھی اور جس خطے کو مسلمانوں سے چھینے رکھنے کے لیے اور اللّٰہ و رسول کےخلاف مرکز بنائے رکھنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگاتی رہی اسے ترکی نسل کے عظیم عثمانی سلطان، سوغوت کے سلطان محمد الفاتح نے اپنی عمر کے عہد شباب میں ہی زیر کرلیاتھا، یوروپ پر اس شکست کا ایسا زبردست اثر ہے کہ اس سلسلے میں ماتمی محافل، اور انتقامی کتب و لٹریچر ہر دور میں تیار کیا جاتاہے، عثمانی ترکوں کے خلاف اشتعال انگیز نظمیں پڑھی جاتی ہیں، تحقیر آمیز پینٹنگز بنائی جاتی ہیں، حتیٰ کہ یونان میں آج بھی جمعرات کو منحوس دن قرار دیا جاتا ہے، کیونکہ ۲۹ مئی 1453 کو جس دن قسطنطنیہ کو مسلمانوں نے فتح کرکے ” استنبول ” بنایا وہ دن جمعرات کا ہی دن تھا، یہی وجہ ہیکہ موجودہ ترکی سے پورا یوروپی صلیبی جہان انتقامی جذبہ رکھتاہے اور اس کی ترقیاتی راہ میں روڑے ڈالتا ہے، وہ ترکوں کے بحالئ عروج سے خوفزدہ ہیں وہ مسلمانوں کی انقلابی انگڑائی سے گھبراتے ہیں، وہ نظامِ عدل کے قیام سے بھاگتے ہیں_

*امت اسلامیہ کے غیور نوجوانوں کے لیے اس تاریخ میں عظیم سبق ہے، ایک ۲۰ سے ۲۵ سالہ عثمانی سلطان کا یہ کارنامہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے، دشمنوں کی چھاتی پر چڑھ کر ایک خطۂ زمین کو الله کی کبریائی کے خاطر اس طرح حاصل کرلینا کہ رہتی دنیا تک وہ عظیم اسلامی ایمپائر، دشمنوں کی آنکھوں کے لیے ہمیشہ سوزش کا سامان بن جائے یہ غیر معمولی تاریخ ساز کارنامہ ہے، امت کے نوجوانوں کو اس تاریخ کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے، ہمیں اپنی فتوحات کو نہ صرف یاد رکھنا چاہیے بلکہ مشکل دور میں ان کی عظمتوں کے تذکرے سے زیست حاصل کرتے رہنا چاہیے، اپنی فتوحات اور فاتحین کا سبق اپنی اولادوں کو پڑھانا چاہیے، کروڑوں رحمتوں کی سوغات نازل ہو سلطان محمد الفاتح پر، عظیم ترکوں پر، اس لشکر کے ہر سپاہی اور ہر غیور عثمانی لشکری پر، ان کے جدامجد غازی ارطغرل بن سلیمان پر عثمانیوں کے بانی غازی عثمان پر کروڑوں رحمتیں نازل ہوں، آج بھی عظیم ترکی یوروپ کے لیے بھرپور انداز میں سوزش و جلن کا سامان پیدا کررہاہے، آج کا ترکی بھی عالمِ کفر کے لیے چبھن کا سبب بن چکاہے، ترکوں کی عظمت کو سلام، سنہری تاریخ کے عہد ساز عثمانی سلاطین کو بھی بار بار سلامِ شوق، تم ہماری تاریخ کا اٹوٹ حصہ اور عظمت اسلامی کا بحر بیکراں ہو، پوری امت اس عہد ساز تاریخ اور ایمان افروز لمحاتِ آفرینش پر فدا ہے_

ائے کاش جوانانِ اسلام اپنے اصلی ہیروز کا دامن تھام لیں کہ:
تعمیرِ آشیاں سے میں نے یہ راز پایا
اہلِ نوا کے حق میں بجلی ہے آشیانہ
اے لَا اِلٰہ کے وارث! باقی نہیں ہے تجھ میں
گُفتارِ دلبرانہ، کردارِ قاہرانہ
تیری نگاہ سے دل سینوں میں کانپتے تھے
کھویا گیا ہے تیرا جذبِ قلندرانہ