Waraqu E Taza Online
Nanded Urdu News Portal - ناندیڑ اردو نیوز پورٹل

آج مسلمان ظلم ستم کی چکی میں پسے جارہےہیں

IMG_20190630_195052.JPG
  سعیدپٹیل جلگاؤں
آج دنیا کےکسی بھی کونےمیں رہنےوالا مسلمان اس بات سے انکار نہیں کرسکتاکہ اس کی قوم اس کابھائ ظالم و جابر حکمرانوں کی نفرت بھری  من مانی کی وجہ سے کسی نہ کسی بہانے سے ظلم و ستم کی چکی میں پسا جارہاہیں۔اس ظلم وستم کرنےوالوں میں اس کا اپنا منافق بھائ بھی شامل ہے۔مغرب روز اول ہی سے اسلام سے  دشمنی کرنےمیں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔وہ اپنے دوستوں کےذریعے مسلمانوں کی جان ، مال و عزت سے کھیلتارہتا ہے۔ہم انتشار اور اختلافات کے پس منظرمیں ایسے پرخطر حالات کے درست ہونےکے انتظارمیں کبھی ادھر دیکھتے ہیں ،کبھی کسی کو اپناسمجھ بیٹھتےہیں۔
آج کل ہمارے ملک میں مسلمانوں سے برادران وطن کو الگ کرنےکےلۓ روز نۓ نۓ حربے استمعال کۓجارہےہیں۔تاکہ اس ملک میں کوئ بھی سیاسی اور سماجی سطح پرہمارا  کوئ دوست نہ رہے۔شاید اسی لۓ گذشتہ دو برسوں کی ایم آئ ایم اور بہوجن ونچیت آگھاڑی کے درمیان کی دوستی اچانک مہاراشٹر کے  اسمبلی انتخابات کے عین موقع پر بکھراؤ کا شکار ہوگئ۔یہ بکھراؤ بھی مسلمانوں کو آہیستہ آہیستہ مجلس کےحوالے کرنے کی سازش ہورہی ہو۔؟ کیونکہ آگےچل کرکوئ دوسری سیاسی پارٹی نہ مسلمان کو ٹکٹ دے اور نہ ہی ان کے ووٹوں کی محتاج رہے۔؟جس طریقئہ کار سے فلحال سیاسی کھیل جاری ہے۔
اس میں نام نہاد ہی کیوں نہ ہو ، سیکولر پارٹی کےلیڈران بڑے پیمانے پر بڑی تیزی سے مخالف نظریہ رکھنے والی پارٹی سے جا مل رہے  ہیں۔کیا یہ سب سے یہ اندازا نہیں لگایا جاسکتا کہ کل تک جس نیتانے سیکولرزم کے بہانے اقتدار کا مزہ لیاہو وہ اچانک مزید کچھ ملنےکی لالچ میں نظریاتی اختلاف والی پارٹی میں شامل ہورہا ہو۔؟ آج دنیا کےسامنے انسانیت بچانے کا نعرہ توہے۔لیکن جیسے ہی مسلمان کا نام آتےہی انسانیت کی جگہ نفرت لےلیتی ہے۔اس لۓ ہمیں اپنے آپ کو کسی بھی طرح برادران وطن سے  جڑا رہنے کی ضرورت ہے۔نفرتوں کو محبت سے پیش آنے کےلۓ ہمیں نام نہاد سیکولر ہی کیوں نہ ہو ان پارٹیوں کو ہر حال میں زندہ رکھنا ہوگااور یہ ذمہ داری ہم اقلیتوں کی ہی ہے۔ہم انسان دوستی ہی کو بنیاد بناکر اپنے آپ کو ملک و قوم کی خدمت کرنےکا عادی بناۓ۔ہم کسی بھی طرح سیاسی اور سماجی سطح پر الگ تھلگ کرانے کے ہتکنڈےسے ہوشیار رہے۔؟