‘آبلہ بندر’ [Monkey Pox]کے مریضوں کے لئے 21 دن قرنطینہ لازمی ہے: دبئی حکام

0 3

دبئی کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ ‘آبلہ بندر’ [Monkey Pox] سے متاثرہ افراد کے لئے 21 دن کا قرنطینہ لازمی ہے۔

دبئی ہیلتھ اتھارٹی نے عالمی وباء کی روک تھام کے لئے جاری ہدایات میں بتایا ہے کہ معمولی علامات اور مستحکم صحت والے بالغ مریضوں کو گھر میں بھی قرنطینہ میں رکھا جا سکتا ہے۔ہدایتی سرکلر میں مزید بتایا گیا کہ "ایسے مریض جن کا بخار 101 سے زیادہ ہو اور ان کے جسم کا 30 فیصد سے زائد حصہ آبلوں سے متاثر ہو انہیں ہسپتال میں آئسولیٹ کرنا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ حاملہ خواتین، چھ سال سے کم عمر بچے، 70 سال سے زائد عمر کے بزرگ اور دائمی امراض میں مبتلا مریضوں کو بھی اس وقت پر ہسپتال میں رکھا جائے گا جب تک وہ صحتیاب نہ ہو جائیں۔”

متحدہ عرب امارات میں آبلہ بندر کا پہلا کیس 24 مئی کو سامنے آیا تھا کہ جب ایک افریقی سیاح میں آبلہ بندر پایا گیا تھا۔

بندر آبلہ کیسا ہوتا ہے؟وزارت صحت کے مطابق ’بندر آبلہ‘ کی نمایاں علامتوں میں بخار، شدید تھکاوٹ کا احساس، شدید درد، خارش، ایک سے تین دن تک بخار اور انفیکشن شامل ہے۔’وائرس کی علامتیں ظاہر ہونے کے درمیان کا عام طور پر 5 سے 21 دن کا وقفہ ہوتا ہے‘۔

تاہم سائنسدانوں کو نہیں لگتا کہ اس وائرس سے لاحق ہونے والی بیماری کووڈ-19 کی طرح ایک وَبا میں تبدیل ہوجائے گی کیونکہ یہ وائرس سارس-کوو-2 کی طرح آسانی سے نہیں پھیلتا ہے۔واضح رہے کہ آبلہ بندر وائرس انسانوں اورجانوروں،دونوں میں بیماری کا سبب بنتا ہے۔ یہ وائرس بنیادی طورپروسطی اور مغربی افریقا کے ٹراپیکل برساتی جنگلات کے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔یہ وائرس جانور سے انسان سے انسان دونوں میں پھیل سکتا ہے۔جانورسے انسان میں انفیکشن جانوروں کے کاٹنے یا متاثرہ جانورکے جسمانی سیال کے ساتھ براہ راست رابطے کے ذریعے ہوسکتی ہے۔

یہ وائرس کسی متاثرہ شخص کے جسمانی سیال سے قطرہ تنفس اورچھونے والی سطحوں کے ساتھ رابطے دونوں کے ذریعے انسان سے انسان میں پھیل سکتا ہے۔اس کے انکیوبیشن کی مدت دس سے چودہ دن کے درمیان ہے۔ اس کی علامات میں جسمانی دانے ابھرنے سے پہلے سوجن، پٹھوں میں درد، سر درد اور بخار شامل ہیں۔