آئیں سالِ نو پر ’ متحد ‘ رہنے کا حلف لیں – سنڈے اسٹوری شکیل رشید (ایڈیٹر ممبئی اردو نیوز)

189

یہ ۲۰۲۲ء کا آخری دن ہے ، ۳۱ ،دسمبر ! اخبارات علماء کرام ، قائدین اور دانشوروں کے ’ مشوروں ‘ سے بھرے ہیں کہ سالِ نو پر کی جانے والی خرافات سےکیسے بچ سکتے ہیں ، اور کیوں اِن خرافات سے بچنا ضروری ہے ۔ میں نے ابھی کچھ دیر پہلے ہی ایک عالمِ دین کی ایک ویڈیو دیکھی ہے ، وہ فخر سے بیان کر رہے ہیں کہ کیسے انھوں نے اُن لوگوں کی بولتی بند کردی ہے ، جو صراطِ مسقیم سے ہٹے ہوئے ہیں ، کیونکہ وہ ’ مسلک ‘ سے ہٹے ہوئے ہیں ۔ ویڈیو دیکھنے اور ، لکھنا شروع کرنے کے بعد ہی سے میں یہ سوچ رہا ہوں کہ بھلا کوئی عالم ، قائد اور دانشور کب یہ ’ مشورہ ، رائے یا حکم ‘ دے گا کہ ’ بس ، نئے سال سے کوئی کسی بھی طرح کے مسلکی تفرقے میں نہ پڑے ، بہت ہو چکا ، اب یہ نہیں ہونا چاہیے ۔‘ کیا ہم سب مسلمان اسے سالِ نو کا ’ ریزولیوشن ‘ ، آنے والے سال کی ’ قرارداد ‘ نہیں بنا سکتے تھے ؟ کیاہمیں ، ہمارے ضبط سے بھی زیادہ ، نہیں پیٹ دیا گیا یا پیٹا جا رہا ہے ؟ کیا ہم صرف اس لیے اس دنیا میں آئے ہیں کہ ہمیں پیٹا جائے اور ہم ایک دوسرے کو پِٹتے ہوئے دیکھیں ، اور صرف یہ سوچ کر اپنے پیٹے جانے کے ،’ جو یقینی ہے ‘ احساس سے غافل بن جائیں کہ یہ تو چوبیس یا چھبیس نمبری پیٹے جا رہے ہیں ؟

سال جو سنیچر ۳۱ ، دسمبر کی شب میں ، بارہ بجے ختم ہوا ہے اپنے پیچھے ظلم و ستم اور ناانصافیوں کی کتنی ہی کہانیاں چھوڑ گیا ہے ۔ ان کہانیوں کو دوہرانا نہیں ہے ، بس یہ احساس دلانا ہے کہ ’ انتشار موت ہے ، اور اتحاد زندگی ہے ۔‘ لیکن یہ احساس دلانے کے لیے ماٖضی میں ، جو ابھی تازہ ہی ہے ، کچھ جھانکنا ضروری ہے ۔ دسمبر ہی میں تو بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ سادھوی پرگیہ سنگھ ٹھاکر کا بیان آیا تھا کہ ہندو گھروں میں ہتھیار رکھیں ، اور کچھ نہ ہو تو سبزی کاٹنے والے چاقوؤں کی دھار ہی تیز کرالیں ، جیسے یہ چاقو سبزی کاٹتے ہیں ، یہ گردن بھی کاٹ لیں گے ۔ کس کے لیے تھا یہ بیان اور کیوں تھا ؟ یہ بیان ہمارے ہی لیے تو تھا ، اور اس لیے تھا کہ ہمارے خلاف لوگوں کو اکسایا جائے ، یہ بتایا جائے کہ اس ملک کی اسّی فیصد آبادی ، ہندووں کو ، اس ملک کی بیس فیصد آبادی ، مسلمانوں سےشدید خطرہ ہے ۔ اور یہ اکسانے کا عمل کوئی پہلی بار نہیں کیا گیا ہے ، اس راج میں ، جس کی شروعات ۲۰۱۴ء سے ہوئی ہے ، اکسانے کا کام ، دھمکانے کا کام بار بار کیا گیا اور کیا جا رہا ہے ۔ کیا ہم میں سے کوئی ہری دوارکا وہ ’ دھرم سنسد ‘ بھول سکتا ہے، جس کا انعقاد ۱۷ تا ۱۹ دسمبر ۲۰۲۱ء کو کیا گیا تھا ؟ دھرم سنسد یتی نرسنگھا نند کی سربراہی میں ہوا تھا ، اور اس کا موضوع تھا ’ اسلامی بھارت میں سناتن کا مستقبل ‘ ۔ سب ہی جانتے ہیں کہ اس دھرم سنسد میں نرسنگھانند سے لے کر پربودھانند گری ، سادھوی پوجا شکن اور سوامی آنند سروپ تک ، سب نےہندوؤں کو مسلمانوں پر تشدد کے لیے اکسایا تھا ۔ اس میں ’ مرتد ‘ وسیم ’ تیاگی ‘ رضوی بھی شریک تھا ۔ پھر دہلی میں دھرم سنسد ہوا تھا جس میں یو پی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی تنظیم ’ ہندو یوا واہنی ‘ کے لوگ شریک تھے ، جہاں سب نے ’ نازی انداز ‘ میں غیر آئینی حلف لیا تھا ۔ رائے پور میں دھرم سنسد ہوا تھا ، اور تشدد کی باتیں کی گئی تھیں ۔ آج تک یہ سب قانون کی گرفت سے آزاد ہیں ، حالانکہ سب جگہ انہوں نے نفرت کی بولیاں بولی تھیں اور ہندوؤں کو یہ احساس دلانے کی کوشش کی تھی کہ وہ خطرے میں ہیں ۔ کیسا خطرہ ؟ کس شکل کا خطرہ ؟

یہ خطرہ ’ لو جہاد ‘ کی شکل میں ہے ، یہ خطرہ ’ دھرم پریورتن ‘ کی شکل میں ہے ، اور یہ خطرہ ’ آبادی میں اضافہ ‘ کی صورت میں ہے ۔ سادھوی نے یہی تو کہا تھا کہ ’ اپنی بیٹیوں کو بچائیں ‘ ۔ جیسے بیٹیاں غیر محفوظ ہیں ! اور زبانیں تو یوں بھی کھولی گئی ہیں کہ ’ اُن کی بیٹیوں ‘ کو لاؤ ، اُن سے لگن کرو ، اُن کا دھرم پریورتن کرو ‘۔ جب سے اس ملک میں ’ تانا شاہی ‘ کا قیام ہوا ہے ، تب سے ، یعنی یہی ۲۰۱۴ء سے ، کتنا جھوٹ کا پرچار کیا گیا ہے ، تاریخ کو توڑا مروڑا گیا ہے ، نہ جانے کتنے زخم لگائے گیے ہیں ، زخم جو تازہ ہیں ، جو رستے رہتے ہیں ، اور جنہیں بار بار دوہرانے کی کوشش کی جاتی ہے ۔ ایک بابری مسجد گئی ، تو باری وارانسی کی گیان واپی مسجد کی آگئی ، متھرا کی شاہی مسجد نشانے پر لے لی گئی ، ٹیپو سلطان کی بنوائی مسجد پر حق جتا دیا گیا ، قطب مینار ، تاج محل ، آگرہ کا قلعہ غرضیکہ ہر وہ عمارت اور مسجد اور عبادت گاہ ،جو مسلمان حکمرانوں کی بنوائی ہوئی ہیں ، وہ سب ’ مندر ‘ کہے جانے لگے ۔ اور ہم ہیں کہ آج تک اس فکر میں ہیں کہ کہیں کوئی ’ بد عقیدہ ‘ ہماری مسجد میں گھس کر اسے ’ ناپاک ‘ نہ کر دے ! کیا مسجدیں جب چھین لی جائیں گی ، اور جب ان کے لیے بھی ، جو کبھی ’ بد عقیدہ ‘ کہے جانے والوں پر اِن کے دروازے بند کرتے تھے ، خود مسجدوں کے دروازے بند کر دیے جائیں گے ، تب ہوش آئے گا ! تب تو بہت تاخیر ہو چکی ہو گی ۔

ہم نے گذرتے برسوں کے دوران بہت کچھ سیکھا ہے ، مرحوم مشرف عالم ذوقی نے اپنے ایک مضمون میں تحریر کیا تھا ، ’’ یہ خوفناک تجربے ہیں ، جن سے ہم نے بہت کچھ سیکھا اور بہت کچھ آگے بھی سیکھیں گے ۔ ہم نے سیکھا کہ درندوں سے انسانیت کی امید نہیں کی جا سکتی ۔ کچھ باتیں ہم نے تقسیم کے وقت سیکھی تھیں ۔ کچھ انیس سو چوراسی کے دنگوں میں ۔ کچھ سبق بابری مسجد شہادت سے لیا ۔ کچھ زخم گجرات کے فسادات نے دیے ۔‘‘ ان تجربات میں بہت کچھ اضافہ کیا جا سکتا ہے ؛ ہم نے ممبئی کے دو مرحلوں کے فسادات سے سیکھا ہے ، ہم نے ممبئی بم دھماکوں اور اس کے نتیجہ میں ہونے والی گرفتاریوں سے سیکھا ہے ، ہم نے ملک بھر میں دہشت گردی کے نام پر کی جانے والی غیر آئینی پکڑ دھکڑ اور شوٹ آؤٹ سے سیکھا ہے ، عشرت جہاں کے فرضی انکاؤنٹر سے سیکھا ہے ، بابری مسجد کو رام مندر بنانے کے لیے سونپ دینے والے عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے سے سیکھا ہے ، این آ ر سی کے قانون سے سیکھا ہے ، شاہین باغ اور دہلی کے فسادات سے سیکھا ہے ، تبدیلیٔ مذہب کے خلاف کارروائیوں ، مولانا کلیم صدیقی ، عمر خالد اور شرجیل و خالد سیفی کی اسیری سے سیکھا ہے ، اقلیتوں کے لیے سرکاری وظائف کے بند کیے جانے سے سیکھا ہے ۔ اور ان افراد کی آزادی سے سیکھا ہے جنہیں سلاخوں کے پیچھے ہونا چاہیے تھا ۔ ایک بڑا سبق ان سیاسی جماعتوں سے سیکھا ہے ، جنہیں مسلمانوں کے ووٹ تو مطلوب ہیں ، مسلمان مطلوب نہیں ہیں ۔ میں غیر سیکولر سیاسی جماعتوں کی نہیں سیکولر سیاسی جماعتوں کی بات کر رہا ہوں ،جیسے کانگریس ( جو اب کچھ بدلتی نظر آ رہی ہے ‘ ، این سی پی ، سماج وادی پارٹی اور عام آدمی پارٹی وغیرہ ، یہ ہیں تو سیکولر نظریات کی سیاسی جماعتیں مگر ان پر اکثر قبضہ فرقہ پرستوں کا رہا ہے ۔ لیکن سوال یہ ہےکہ یہ سب سیکھ کر حاصل کیا کیا ہے ؟ سچ یہ ہے ، اور یہ بڑا ہی کڑوا سچ ہے ، کہ کوئی سبق ہم نے حاصل نہیں کیا ہے ، اور لگ یہی رہا ہے کہ کوئی سبق شاید ہم حاصل کر بھی نہیں سکیں گے ۔ کیا ہم نے کبھی کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی ’ معاہدہ ‘ کرنے کی یا اپنے مفادات کی حفاظت کے لیے کسی بھی طرح کی ضمانت لینے کی کوئی کوشش کی ؟ خیر کوشش تو ہم کر بھی نہیں سکتے تھے کہ ہم سب عام مسلمان ہیں ، قائد نہیں ۔ لیکن اپنے قائدین سے تو یہ دریافت کر سکتے تھے کہ آپ جن سیاسی جماعتوں کو ووٹ دینے کے لیے کہہ رہے ہیں وہ ہمارے کام کیوں نہیں کرتیں ، ہم بھلا انہیں ووٹ کیوں دیں؟ ہم نے تو کبھی اپنے قائد یا قائدین سے یہ بھی نہیں پوچھا کہ یہ جب سے آپ ممبر اسمبلی یا کسی منڈل کے سربراہ یا وزیر بنے ہیں آپ کا پیٹ کیوں بڑا ہوتا جا رہا ہے ، یہ فلیٹ سے اچانک محل کیسے پہنچ گیے وغیرہ ۔ سوال پوچھنے کہ ہمت بھی پیدا کرنا ہوگی اور اس کی عادت بھی ڈالنا ہوگی ۔ سوال پوچھنے پر ہی جواب ملتے ہیں ، اور جواب کے غلط ہونے پر سدھار کا ، بھول کو درست کرنے کا سنہرا موقع حاصل ہوتا ہے ۔

تو ۲۰۲۲ء اپنے پیچھے بہت یادیں ، خوشگوار کم خوف ناک زیادہ ، چھوڑے جارہا ہے ۔ نیا سال ۲۰۲۳ء بھی اپنے دامن میں کوئی سوغات بھر کر نہیں لا رہا ہے ۔ وہ جو آپ کو گٹھنوں پر بیٹھانا چاہتے ہیں ، آپ کو دوسرے یا تیسرے بھی نہیں چوتھے یا پانچویں درجہ کا شہری بنانا چاہتے ہیں ، ا ن کے عزائم مخففی نہیں ہیں ۔ ان عزائم کے خلاف آواز اٹھانا ہم سب کا آئینی حق ہے ۔ ہمیں ظلم و جبر اور ناانصافی کے خلاف احتجاج کرنا ہوگا ۔ اُس طرح نہیں جیسے سادھوی نے کہا ہے ، بلکہ جمہوری انداز میں ، آئین کی بنیادوں پر ۔ ہمیں اپنے ووٹ کی طاقت کا احساس کرنا ہوگا ، اور دوست دشمن میں تمیز کرنا ہو گی ۔ ان مسلمان سیاست دانوں سے ، جو جذباتی نعرے لگاتے اور مذہب کی دہائی دے کر ہمارے ووٹوں کو تقسیم کرتے ہیں ، ان سے دوری بنانا ہو گی ۔ مسلک پر قائم رہیں لیکن ایک مسلمان کے طور پر تو اب متحد ہو جائیں ۔ اب اگر اس ملک میں رہنا ہے ، یہاں اپنے بچوں کا مستقبل بہتر بنانا ہے ، انہیں ایک اچھا تاجر ، وکیل ، ڈاکٹر ، انجبیئر اور عالمِ دین بنانا ہے ، اور ملک کی اور ساتھ ہی اپنی ترقی کو ممکن بنانا ہے تو اس کے لیے کسی باہر والے کو ، کسی اور کو تلاش کرنے کی یا کسی اور سے مدد لینے کی ضرورت نہیں ہے ، کوئی مدد نہیں کر سکے گا ، اب اپنی مدد آپ کے کلیہ پر یقین اور عمل کرنا ہوگا ، اور اس کے لیے بس یہ ضروری ہے کہ ہم سب متحد رہیں ، اتحاد ہر مصیبت کی دوا ہے ۔ تو آئیں نئے سال کے لیے یہ حلف اٹھائیں کہ اب نہ ہم مسلک کے نام پر لڑیں گے اور نہ ہی جات پات کے نام پر ، اب ہم ایک ہیں ۔