• 425
    Shares

ربیع الاول کا مہینہ اسلامی ہجری سال کا تیسرا مہینہ کہلاتا ہے اس مہینہ کی فضیلت کےلیے اتنا ہی کافی ہے کہ اس مہینہ میں آقاء آمدار محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت ہوئی اس مہینہ کی ایک ایسی فضیلت و منقبت ہے جو کہ بعض حیثیتوں سے تمام مہینوں سے بڑی ہوئی ہے لہذا اس مہینہ کا خوب ادب و احترام اور تعظیم و تکریم کرنی چاہیے ربیع کے معنی پہلا ،،بہار کا موسم ،، جس کا مفہوم یہ ہے ربیع کا مہینہ موسمِ بہار خوشگوار اور سکون بخش ہوتا ہے ہے پھل و پھول، کھیت و کھلیان کی ہریالی و شادابی بادِبہاری کا مقدمہ اور تمہید ہوتا ہے حافظ علم الدین سخاوی علیہ الرحمہ اپنی شہرہ آفاق کتاب،،المشھور فی الایام والشھور ،، میں لکھتے ہیں کہ سفر کرنے والے اہل عرب یہ موسمِ بہار گزارنے کے مقصد سے اس کو خصوصی اہمیت دیتے ہوئے اس مہینہ میں اپنے گھروں میں اقامت اختیار کرلیتے تھے اسی وجہ سے اس کو ماہِ ربیع کہا گیا ہے اس کی اور بھی تحقیقات ہیں لیکن اس کے دیگر ظاہری وعارضی خصوصیات سے قطعِ نظر کرتے ہوئے ایک دوسری اور حقیقی بہار مراد ہے اور وہ بہار ہے جس کی آمد سے گلزارِ ہستی میں رونق آئی عدالت اور شجاعت نے جس کا مسکرا کر استقبال کیا صدق وامانت کی کرنیں روشن ہونے لگی بس اتنا ہی نہیں بلکہ فارس کا آتش کدہ بجھ گیا، ایوانِ کسریٰ کے کنگھرے گر گئے، لات و عزیٰ کی عزت خاک میں مل گئی اتحادِ یہودیت اجتماعِ نصرانیت منتشر ہو گیا ،مظلومیت معدوم ہونے لگی یہ بہار کیسی تھی یہ بہار تاجدارِمدینہ کونین کے نگینہ، یتیموں بیواؤں کا سہارا ،مظلوموں کا مسیحا ،آمنہ کے لخت جگر، عبداللہ کے لال، عبدالمطلب کے پیارے ،ہمارے آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بہار تھی کسی شاعر نے اس واقعہ کی کیا ہی خوب منظر کشی کی ہے

صحنِ چمن کو اپنی بہاروں پہ ناز تھا
وہ آگئے تو ساری بہاروں پہ چھا گئے

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت اور انتقالِ پر ملال ماہ ربیع الاول میں ہی ہوا ولادت کے تعلق سے جمہور علماء کے نزدیک وہ ماہِ ربیع الاول اور پیر کا دن تھا البتہ تاریخ میں اختلاف ہے اکثر علماء کے نزدیک ماہِ ربیع الاول کی ۹ تاریخ تھی ماہ ربیع الاول کا تقاضا یہ ہے کہ اپنے عبادات و اخلاق عقائد و معاملات کو درست کیا جائے، جہاں تک ہو سکے صغیرہ کبیرہ گناہوں سے بچاجائے ،نمازوں کا اہتمام، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود پڑھے، معاملات کو درست کیا جائے ،ہر ایک سے اخلاقِ نبوی سے پیش آئے، اور یہ دیکھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح لوگوں کی خدمت کرتے تھے بیواؤں یتیموں کی مدد کرتے، مظلوموں کا سہارا بنتے، سماجی فلاحی کاموں میں آگے بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ، مہمان نوازی میں پیش پیش رہتے ،غرض یہ کہ جو سیرتِ طیبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال و اعمال ہیں ان تمام پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کریں اس مہینہ میں کوئی خاص عبادت ثابت نہیں بعض جاھل اور بد نامِ زمانہ لوگوں نے یہ گھڑ لیا ہے کہ اس مہینہ میں کچھ خاص نمازیں،اور عبادتیں ہیں اور کچھ خاص قسم کے پکوان بنانا ،عید میلاد النبی کا جلوس نکالنا ان تمام چیزوں کی شریعتِ مطہرہ میں کوئی اصل نہیں اور نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ تعالی علیہم اجمعین نے یہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ سے استفادہ کرنے کے دو طریقے ہیں ایک یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک ایک سنت کو جان کر اس پر عمل کیا جائے اس لیے کہ اللہ تعالی نے فرمایا ،،لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللہِ اُسْوَۃٌحَسَنَۃٌ،، کہ تمھارے لیے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی بہترین نمونہ ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا،، مَنْ اَحْیَا سُنَّتِیْ فَقَدْ
اَحَبَّنِیْ وَمَنْ اَحَبَّنِیْ کَانَ مَعِیَ فِی الْجَنَّۃِ،، کہ جس نے میری سنت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا سنتوں پر عمل کرنے کا کیا عظیم انعام ہے کہ جو شخص بھی سنتوں پر عمل کرے گا وہ جنت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں رہے گا اللہ تعالی ہم کو سنتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے سنتوں پر عمل کرنے کاایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ فرائض کی توفیق ملتی ہیں دوسرے یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکرِ خیر سے مجلس و محفل کو معطر کیا جائے
اللہ تعالی ہمیں ان تمام باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے
اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدِ النَّبِیِّ الْاُمِّیِّ وَعَلٰی آلِہِ وَسِلِّمْ تَسْلِیْمَا

ورق تازہ نیوز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں  https://t.me/waraquetazaonlineاور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔